مسعود خان کا پاک امریکہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم

امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر مسعود خان نے پاک امریکہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان کے سفیر مسعود خان نے ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد مسعد خان نےایک ٹوئٹ میں کہا کہ اوول آفس میں صدر جو بائیڈن سے ملنا اعزاز کی بات ہے، اس سے پاکستان امریکا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کو تقویت ملی۔

امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب کے دوران صدر بائیڈن اور مسعود خان نے پاک امریکا تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط بنیادوں کی تعمیر پر مختصر بات چیت کی۔

اس موقع پر46 دیگر ممالک کے سفیر بھی صدر کے ساتھ ایک ایک کر کے آفیشل تصویر لینے کے لیے موجود تھے۔یہ سفیربھی کووڈ 19 کی پابندیوں کی وجہ سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے صدر جو بائیڈن سے ملاقات نہیں کر سکے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستانی سفیر 25 مارچ کو اس وقت واشنگٹن بھیجا گیا تھا جب پی ٹی آئی کی حکومت ابھی اقتدار میں تھی لیکن 11 اپریل کو سابق وزیراعظم عمران خان کی برطرفی کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ اسلام آباد میں تبدیلی سے سفارتی تعیناتیوں پر بھی اثر پڑے گا، جس پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے وضاحت کی تھی کہ موجودہ سفیر غیر ملکی دارالحکومتوں میں ملک کی نمائندگی کرتے رہتے ہیں جب تک کہ نئی حکومت کی طرف سے خاص طور پر وطن واپس جانے کے لیے نہ کہا جائے۔

اس کےبعد نہ تو مسعود خان اور نہ ہی منیر اکرم سے ایسا کرنے کو کہا گیا۔

واضح رہےکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے سفیرمسعود خان کی تقرر کی توثیق واشنگٹن میں بھارتی لابی کی شدید مخالفت کے باوجود کی گئی ہے جو نہیں چاہتی تھی کہ کوئی کشمیری امریکی دارالحکومت میں پاکستان کی نمائندگی کرے، ان کو خدشہ تھا کہ اس سے کشمیر کاز کو تقویت ملے گی اور بائیڈن انتظامیہ کو مسعود خان کی سفارتی اسناد کو قبول نہ کرنے پر راضی کرنے کے لیے ایک بڑی مہم چلائی گئی۔

بھارتی لابی نے امریکی قانون سازوں کو قائل کیا کہ وہ مختلف امریکی حکام کو خط لکھیں، ان پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد سے کوئی دوسرا سفیر بھیجنے کو کہیں لیکن ان کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔

Back to top button