مسلم لیگ ق نے حکومت کے ساتھ تمام مذاکرات معطل کر دئیے

کپتان کے لئے ہر گزرتے دن کے ساتھ پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں. اپنی ڈگمگاتی سرکار کو سہارا دینے کیلئے جتن کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کیلئے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے. مسلم لیگ ق نے حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات معطل کر دئیے ہیں.
مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کے عمرہ کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس روانگی کے بعد ق لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماوں نے شرکت کی. ذارئع کے مطابق اجلاس میں حکومت کے ساتھ مختلف نشستوں میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے تفصیلی غورو حوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی طرف سے مطالبات کی منظوری اور معاہدے پر عملدرآمد تک کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے. اجلاس میں حکومت کو وعدے پورے کرنے کے لیے ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ اب حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے.
یاد رہے کہ ق لیگ کی قیادت مذاکرات کے لیے کپتان کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی کو مسترد کرچکی ہے. عمران خان نے ق لیگ کے ساتھ معاملات درست کرنے کے لیے گورنر پنجاب چوہدری سرور کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جس میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود شامل ہیں۔
جس کے بعد چوہدری شجاعت حسین نے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیا جائے پھر پی ٹی آئی سے اگلی بات ہوگی۔ تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کو یہ باور کرایا جائے کہ سیاسی معاملات جب طے ہو جاتے ہیں تو پھر بار بار تبدیلی سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے کیونکہ پہلے دونوں جانب سے پوری مشاورت کے بعد فیصلے کئے گئے تھے جن کو یکلخت الٹ دیا گیا اور ایک نئی مذاکراتی کمیٹی بنا دی گئی۔
چوہدری شجاعت حسین کے بقول تحریک انصاف سے ہمارا الیکشن سے پہلے کا تحریری معاہدہ ہے جس پر آج تک عملدرآمد نہ ہو سکا، پھر حکومت بنانے کے بعد پہلی مذاکراتی ٹیم بنی مگر اس کے کسی فیصلہ پر کوئی عملدرآمد نہ ہوا، اس کے بعد دوسری کمیٹی سے معاملات طے ہوئے مگر اس کمیٹی کو بھی فارغ کر دیا گیا اور اب تیسری کمیٹی بنائی جا رہی ہے، ہمارا خیال ہے کہ جو فیصلے دوسری کمیٹی میں ہوئے ان پر پہلے عملدرآمد ہو جائے تو پھر نئے معاملات پر بات کی جائے۔
بعد ازاں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی، چودھری مونس الہی اور کامل علی آغا سمیت مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماوں نے حکومتی روئیے بارے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button