حکوت سے اختلافات، ق لیگ اور مسلم لیگ ن میں فاصلے سمٹنے لگے

مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف قیادت کے درمیان فاصلے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور چودھری برادران کھل کر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں وہیں مسلم لیگ نون اور قاف لیگ کے مابین فاصلے سمٹتے نظر آتے ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان قربتیں بڑھنے لگی ہیں۔ تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت کی خواہش کے برخلاف سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
چودھری پرویز الہی حمزہ شہبازشریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے پر راضی ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد چودھری برادران نے مسلم لیگ ن کے ساتھ فاصلے کم کرنے کیلئے حمزہ شہباز کو پی اے سی کا چئیرمین بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے دیگر معاملات طے کرنے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے مسلم لیگ ن کے وفد کو آگلے ہفتے پنجاب اسمبلی میں بلا لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنما مسلم لیگ حمزہ شہباز کو پی اے سی ون کا چیئرمین بنانے کے اعلان کے بعد مسلم لیگ ن کے عہدیدار پنجاب اسمبلی کی ذیلی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے اپنے استعفے واپس لے لیں گے۔ واضح رہے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پبلک اکائونٹس کمیٹی ٹو کے اجلاس کے انعقاد کے معاملے پر سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو خط لکھ تھا ۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین سمیع اللہ خان اور ملک ندیم کامران کی جانب سے سپیکر پنجاب اسمبلی کو بھجوائے گئے خط کے متن میں کہا گیا تھا کہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے پبلک اکانٹس کمیٹی ٹو کا اجلاس بلایا جارہا ہے ۔ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پبلک اکانٹس کمیٹی ٹو کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کے خلاف آڈٹ پیراز لکھوائے جا رہے ہیں۔اپوزیشن اراکین نے احتجاجاًتمام کمیٹیوں سے پہلے ہی استعفیٰ دے رکھا ہے ،پبلک اکاؤنٹ کمیٹی ٹو کا اجلاس کورم پورا کیے بغیر منعقد کیا جا رہا ہے جو قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ تاہم اب رہنما مسلم لیگ ن عظمیٰ بخاری کی جانب سے بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ق لیگ حمزہ شہباز کو پی اے سی ون کا چیئرمین بنانے کے لئے رضا مند ہو گئی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پبلک اکاونٹ کمیٹی ون کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر کا حق ہوتا ہے کیونکہ اسمبلی کی روایت ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی ون کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے ۔
دوسری طرف چودھری برادران کی طرف سے حکومتی رویہ کے حوالے سے تحفظات کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے، چودھری پرویز الہی کی طرف سے تو کہا جا چکا ہے کہ حکومت انھیں سوتن سمجھنا بند کرے اور ان کے مطالبات پورے کئے جائیں، قابل ازیں انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب تجربات کی زد میں ہے جس کا خمیازہ نہ صرف عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے بلکہ حکومتی ناتجربہ کاری کا انھیں بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے یوٹرن لینے سے ساکھ متاثر ہوتی ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم ہیں عمران کان کو سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے باتوں کی تحقیق کرنی چاہیے۔ چوہدری شجاعت حسین واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کی حکومت سے ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کر رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے چند وزراء اور معززین وزیراعظم اور ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ پہلے طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیا جائے پھر پی ٹی آئی سے اگلی بات ہوگی
یاد رہے کہ نئی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے بعد ق لیگی قیادت کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ بالکل منقطع ہے اور ق لیگ واضح طور پر نئی کمیٹی سے مذاکرات کرنے سے انکار کر چکی ہے جبکہ اس حوالے سے نئی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی چودھری پرویز الہی سے ہونے والی ملاقات میں بھی برف نہیں پگھل سکی تھی اور ق لیگ نے تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود پر واضح کر دیا تھا کہ جب تک طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوتا نئی کمیٹی سے بات آگے نہیں بڑھائی جا سکتی
دوسری جانب ق لیگی رہنما مونس الٰہی کا کہنا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے ہم بزدار حکومت ختم کرنا چاہتے ہیں ۔پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ کے امیدوار نہیں ، پی ٹی آئی کے کچھ لوگ چاہتے ہیں عمران خان فیل ہوجائیں ۔ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں کھل کر تحفظات کا اظہار کیا تھا امید تھی کہ معاملات درست ہو جائیں گے لیکن معاملات پہلے سے مزید بگڑ چکے ہیں کیونکہ ہ ہماری پارٹی کے کچھ سابق لوگ وزیر اعظم کو گمراہ کر رہے ہیں ،۔ اب ق لیگ اور مسلم لیگ ن کے درمیان کم ہوتے ہوئے فاصلوں کے بعد دیکھتے ہیں کہ حکومت کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button