ق لیگ نے تحریک انصاف کو فائنل ڈیڈ لائن دے دی

مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کی کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے ساتھ اختلافات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچنے کے بعد چودھری برادران نے کپتان کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے 11 فروری تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، جس کے بعد پارٹی اجلاس میں حکومت کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
2018 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے اختلافات میں روز بروز شدت آرہی ہے۔ اسکی بنیادی وجہ کپتان کی جانب سے قاف لیگ کے ساتھ حکومت سازی کے وقت کئے گے معاہدے کے تحت وعدے پورے نہ کرنا ہے لیکن سونے ہر سہاگہ یہ کہ کپتان قاف لیگ کی ناراض قیادت کو ملنے سے بھی گریزاں ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 2 فروری کو ہونے والے قاف لیگ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف اگر دس روز کے اندر اندر مسلم لیگ کے تحفظات دور نہیں کرتی تو آئندہ اجلاس میں یہ حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت کا مزید ساتھ دینا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ قاف نے وزارتوں اور پاور شیئرنگ کے حوالے سے تحریری معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اپنی توپوں کا رخ کپتان کمپنی کی جانب کر رکھا ہے۔ قاف لیگ کے ساتھ تحریک انصاف کی جانب سے معاملات طے کرنے والے جہانگیر خان ترین کی مذاکراتی کمیٹی سے چھٹی کرائے جانے کے بعد قاف لیگ نے نے چوہدری سرور کی سربراہی میں بننے والی نئی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت سے بھی صاف انکار کر رکھا ہے۔ نئی مذاکراتی کمیٹی کے رکن تحریک انصاف وفاقی وزیر شفقت محمود نے لاہور میں چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کر کے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔ جبکہ بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھی شفقت محمود کے ساتھ ق لیگ کا بھی کوئی رہنما موجود نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ چوہدری برادران شفقت محمود کو سیاسی مخاصمت کی وجہ سے پسند نہیں کرتے۔ شفقت محمود گجرات کی گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو ہر الیکشن میں ق لیگ کی مخالفت کرتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں بھی جاری ہیں کہ مسلم لیگ ق کی قیادت ن لیگ سے رابطوں میں ہے اور اپوزیشن کی درخواست پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس بلایا جو روایت کے خلاف ایک روز کی بجائے پورا ہفتہ جاری رہا۔ اسی طرح اجلاس سے دو دن پہلے ہی اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور ن لیگی رکن اسمبلی سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض صوبائی وزرا سپیکر کی جانب سے جوابات نہ دینے پر سرزنش کرنے پر بھی برا منا رہے ہیں۔ ادھر رانا ثنا اللہ بھی مسلم لیگ ق سے رابطوں کی تصدیق کر چکے ہیں۔
مسلم لیگ قاف کے سینئر رہنما کامل علی آغا نے بھی نون لیگ کی قیادت سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے حکومت کو دس دن کی مہلت دی ہے کہ اگر اس دوران معاہدے پر مکمل عمل نہ ہوا تو علیحدگی سے متعلق اجلاس طلب کر کے فیصلہ کریں گے۔ کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے میں چار نکات پر اتفاق ہوا تھا جس میں پنجاب میں پاور شیئرنگ اور ق لیگ کو وفاق اور صوبے میں دو، دو وزارتیں دینا شامل تھا۔ وفاق میں تاحال ہمیں ایک وزارت دی گئی ہے جبکہ معاہدے کے تحت حکومتی امور میں مشاورت اور اہم عہدوں پر تقرری سے پہلے ہمیں اعتماد میں بھی نہیں لیا جا رہا۔ کامل علی آغا نے کہا کہ حکومت نے نہ صرف انہیں نظر انداز کیا بلکہ معاملات کے حل سے متعلق پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کی کمیٹی بھی ختم کر دی اور نئی کمیٹی بنا دی جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، گورنر چوہدری سرور اور وفاقی وزیر شفقت محمود شامل ہیں۔ کامل آغا کہتے ہیں کہ ہم نے اس کمیٹی کو اس لیے مسترد کیا کہ بزدار اور سرور سے تو پہلے بھی بات ہوچکی تھی لیکن ان کے اختیار میں کچھ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ق پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں تمام حلقوں میں اپنے علیحدہ امیدوار کھڑے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن سے رابطوں میں ہیں اور ہم نے کسی کے لیے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، ہم آزاد علیحدہ جماعت ہیں، ہم اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ پنجاب میں اِن ہاؤس تبدیلی کا کتنا امکان ہے تو انہوں نے کہا کہ ’جو حالات چل رہے ہیں ایسے میں اپوزیشن کی کوششیں خطرناک ہوسکتی ہیں، حکمران جماعت کو بہتر نتائج کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے ورنہ نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کے لیے کپتان کو اپنی انا کو ہیچھے چھوڑ کر چودھری برادران سے ملاقات کرنا ہوگی بصورت دیگر مسلم لیگ قاف مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کو بڑا صدمہ دے سکتی ہے۔
