مشرف نے سپریم کورٹ جا کر ہائی کورٹ کا فیصلہ متنازعہ کردیا

سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر کے خود ہی لاہور ہائیکورٹ کے ان کو ریلیف دینے کے فیصلے کی قانونی حیثیت کو متنازعہ کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ نہ تو ہائی کورٹ میں چیلنج ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف کسی قسم کی کوئی اپیل سن سکتی ہیں کیونکہ اس کے خلاف اپیل صرف اور صرف سپریم کورٹ میں کی جاسکتی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس چوہدری مسعود پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کےتین رکنی بینچ نے مشرف کے خلاف فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اپنی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرکے دراصل جنرل مشرف نے اپنے حق میں ہایئکورٹ کے فیصلے پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔ جنرل مشرف کی اپیل سے اس قانونی رائے کو تقویت ملی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے خصوصی عدالت کی سزا اپنی جگہ برقرار ہے اور سپریم کورٹ کے علاوہ اپیل کاکوئی اور مجاز فورم نہیں ہے.
دوسری طرف جنرل مشرف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کر کے دراصل سابق آرمی چیف نے وہ قانونی دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش کی ہے جو اپیل نہ کرنے کی صورت میں بند ہو سکتا تھا۔
تاہم اس سے پہلے مشرف کے وکلا نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کی جانب سے سنائے جانے والی سزائے موت کے فیصلے کو ختم کردیا ہے اور اب پچھلے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
جنرل مشرف کے وکلا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا مقصد اس 30 روزہ مہلت کو ضائع نہ کرنا تھا، جس کی قانون میں گنجائش ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے گو کہ مشرف کو تمام ریلیف فراہم کر دی ہے، اس کے باوجود مقررہ وقت میں اپیل دائر کر دی گئی ہے تا کہ کہیں سپریم کورٹ مستقبل میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو مسترد نہ کردے۔
مشرف کے وکلاء نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے پر اگر عدالت عظمیٰ مطمئن ہو تو ہم اپنی اپیل واپس لے لیں گے۔ اظہر صدیق نے کہا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سے کوئی عدالتی حکم نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ میں دائر ہونے کے 9 سال بعد سنی گئی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کو مشرف کیس کے خلاف مقدمے کی سماعت کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کیونکہ انتہائی غداری سے متعلق ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button