مشرف واپس نہیں آ رہے، سپریم کورٹ سے بچنے کے لئے ہائی کورٹ گئے

آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت پانے والے سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کا اب بھی ملک واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مشرف کا ملک واپسی کا کوئی پان ہوتا تو وہ خصوصی عدالت سے سزائے موت کے بعد لاہور ہائی کورٹ کی بجائے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے جو کہ قانونی فورم تھا مگر ایسا کرنے کے لیے پہلے انہیں عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا پڑتا کیونکہ ان کا موجودہ سٹیٹس ایک مفرور ملزم کا ہے۔ تاہم چونکہ وہ ایک سابق جرنیل ہیں اس لئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے سامنے سرنڈر کریں۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف کو خصوصی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ چونکہ جنرل مشرف سابق آرمی چیف رہ چکے ہیں اس لیے وہ کسی بھی صورت غدار قرار دئیے ہی نہیں جاسکتے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ خصوصی عدالت کے غدار قرار دینے کے فیصلے کو ایک ماہ کے اندر ہی ہائیکورٹ سے معطل کروادیا گیا حالانکہ اس سزا کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر ہونی ہوتی ہے۔
13جنوری کو لاہور ہائیکورٹ سے مشرف کو غداری کیس میں سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے بعد جہاں ہمارے ملک میں نظامِ عدل کی مصلحت سازی ایک مرتبہ پھر سے کھل کرسامنے آئی ہے وہیں اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھ گیا ہے کہ سابق فوجی آمر کسی قیمت پر پاکستان واپس آنے کو تیار نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر جنرل مشرف پاکستانی عدالتوں کا احترام کرنے والے شخص ہوتے تو وہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے پاکستان واپس آکر خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے کیونکہ قانون یہی کہتا ہے ۔مگر سچ تو یہ ہے کہ وہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہی نہیں چاہتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ سپریم کورٹ کسی بھی صورت ان کی سزائے موت کے فیصلے کو معطل نہیں کرے گی لہذا ایک چھوٹی عدالت سے رجوع کیا گیا اور پھر اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ جنرل مشرف کو غیر موجودگی میں سزا دی گئی لہٰذا یہ غیر آئینی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک جنرل مشرف ملک میں رہے، عدالت نے بارہا انہیں طلب کیا مگر وہ صرف ایک مرتبہ ہی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد مشرف کو ہر طریقے سے بیان ریکارڈ کروانے کی پیشکش کی گئی مگر وہ راہ فرار اختیار کرتے رہے۔ بالآخر عدالت نے چھ سال بعد تاخیری حربوں سے تنگ آکر آئین و قانون کے مطابق انہیں سزائے موت سنادی۔ یاد رہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو فوجی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے مسترد کر دیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق پرویز مشرف نے سزائے موت کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا کیونکہ وہ اسے فیصلے کو غلط ثابت نہیں کر سکتے تھے لہذا مشرف کے حواریوں نے چالبازی سے کام لیتے ہوئے خصوصی عدالت کی تشکیل اور غداری سے متعلق قانون کو ٹیکنیکل بنیادوں پر لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اور پھر ریلیف بھی حاصل کرلیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے فیصلے کے بعد مشرف بہت مطمئن اور خوش باش دکھائی دیتے ہیں جبکہ ان کے حامی بھی پھولے نہیں سما رہے کہ انہوں نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دلوا دیا ہے۔ مگر قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تو ہائی کورٹ کا فیصلہ اڑ جائے گا کیونکہ لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دے کر سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو چیلنج کیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ اس کیس میں استغاثہ ریاست پاکستان تھی لہذا ضروری ہے کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ تاہم ایسا ہونے کے امکانات خاصے محدود ہیں کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مل کر مشرف کو سزا سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس صورتحال میں یہی لگتا ہے کہ مشرف بدستور بستر مرگ پر وکٹری کا نشان بنا کر اپنے آپ کو نیٹ اینڈ کلین قرار دیتے رہیں گے اور پاکستان کی تاریخ میں ایک آئین شکن فوجی آمر کو کیفر کردار تک پہنچانے کی عوامی آرزو تشنہ ہی رہ جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button