مشکوک امریکی عورت سنتھیا پاکستان میں کس مشن پر ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی نے ملکی اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلقات کی دعویدار اور گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں بلاوجہ قیام پذیر ایک مشکوک امریکی عورت سنتھیا رچی کی جانب سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خلاف توہین آمیز اور بہتان پر مبنی ٹوئٹس کرنے پر ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ میں کارروائی کرنے کے لیے درخواستیں دائر کردی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر اور ایڈوکیٹ ہائی کورٹ شکیل عباسی نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد جبکہ فیصل میر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور میں درخواست جمع کروائی ہے۔ ان شکایات میں کہا گیا ہے کہ ایک مشکوک خاتون جو ٹوئٹر ہر سنتھیا ڈی رچی کے نام سے جانی جاتی ہیں، نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے بارے میں انتہائی توہین آمیز اور بیہودہ تبصرے پوسٹ کیے ہیں۔ سینتھیا کے جھوٹے، بے بنیاد، بدنامی اور بہتان پر مبنی ٹوئٹس سے پاکستان میں بینظیر بھٹو کے چاہنے والوں کو شدید دکھ اور تکلیف پہنچی ہے لہذا ایف آئی اے سنتھیا رچی کے خلاف فوراً کارروائی کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ مشکوک عورت کن لوگوں کا مکروہ ایجنڈا لے کر چل رہی ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے کئی برسوں سے مشکوک طور پر اسلام آباد میں قیام پذیر اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلقات کی دعویدار سنتھیا رچی اپنا تعارف فری لانس پروڈیوسر، ہدایت کار ور سٹریٹیجیک کمیونیکیشنز کنسلٹنٹ کے طور پر کرواتی ہیں۔ وہ امریکی شہری ہے اور چند برس قبل پاکستان آئی تھی۔ ماضی میں اسے اکثر سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔
وہ پاکستان میں اپنے تجربات اور اپنے سفر پر مبنی ایک بلاگ بھی لکھتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد سے پاکستان میں امریکی شہریوں کو بلا وجہ لمبے قیام کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تاہم سنتھیا پچھلے کئی برسوں سے کسی نا معلوم مشن کے تحت اسلام اباد میں مقیم ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقے اسے سی آئی اے کی ایجنٹ بھی قرار دیتے ہیں۔
سنتھیا نامی امریکی خاتون حیرت انگیز طور پر پاکستان میں ٹوئٹر پر نہایت متحرک ہے اور پاکستانی سیاست سے متعلق ہر چھوٹے بڑے معاملے پر فورا ایسا ٹوئیٹ کرتی ہے جو کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی لائن ٹو کر رہا ہوتا ہے۔ سنتھیا کے خلاف پی پی پی کی جانب سے ایف آئی اے میں جانے کی نوبت تب آئی جب اس نے اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کی وائرل ویڈیوز پر اپنا تبصرہ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا۔ اس نے لکھا کہ اس واقعے سے انھیں وہ کہانیاں یاد آ رہی ہیں کہ ’بی بی تب کیا کرتی تھیں جب ان کے شوہر ان سے بیوفائی کرتے تھے۔‘ سنتھیا نے پھر یہ واحیات اور بیہودہ دعویٰ کر دیا کہ بی بی اپنے گارڈز کے ذریعے ایسی خواتین کی عصمت دری کرواتی تھیں۔
اس مشکوک امریکی عورت کی جھوٹی بکواس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس زمانے کے حوالے سے وہ لکھ رہی ہے کہ مجھے کہانیاں یاد آتی ہیں اس زمانے میں تو شاید وہ کسی امریکی سکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ سنتھیا کے اینٹی پیپلز پارٹی اور پرو پی ٹی آئی ٹویٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی کے کہنے پر اس طرح کی واحیات ڈس انفارمیشن پھیلا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر سنتھیا کی وائرل تصاویر دیکھی جائیں تو حیرت انگیز طور پر وہ وہ کئی جگہوں پر پاکستان آرمی کی وردی پہنے ہوئے نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو پاکستانی اور امریکی فوجیوں کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
لہذا جب سنتھیا نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے حوالے سے ایک واحیات ٹویٹ کی تو اس کے جواب میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، کارکنان اور حامیوں کے علاوہ دیگر سیاسی شخصیات اور صارفین نے سنتھیا کی اس ٹویٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔صارفین کی جانب سے سنتھیا کو اپنے واحیات دعوے کے ثبوت میں شواہد پیش کرنے کو کہا گیا جو کہ تاحال اس نے پیش نہیں کیے ہیں۔ تاہم اپنے خلاف ایف آئی اے کو دی گئی درخواست پر ردِعمل دیتے ہوئے اس نے ٹویٹ کیا ’برائے مہربانی پی پی پی کے نام نہاد جمہوریت پسندوں کی طرف سے مجھے دی جانی والی موت کی دھمکیوں پر بھی کارروائی کی جائے۔‘ ساتھ ہی اس نے لکھا کہ ’جو لوگ آصف زرداری کو جانتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ سابقہ وزیرِاعظم کو اپنے شوہر کے ہاتھوں کس قسم کے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب کوئی عورت سے پوچھے کہ تمہیں امریکہ میں بیٹھے 25 یا 30 برس پہلے کے واقعات کا کیا پتہ ہو خصوصا جب تم خود اس وقت ایک سکول کی بچی تھی۔
بہت سارے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین سنتھیا نامی اس عورت کو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسی ایک ساکھ کے بحران کا شکار اور بے پر کی اڑانے والی ابنارمل شخصیت بھی قرار دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ سنتھیا ماضی میں بھی اسی طرح کی بے پر کی کہانیاں اڑاتی رہی ہے جن میں سے ایک بختاور بھٹو کو نقیب اللہ محسود کے قتل کی وجہ قرار دینا تھا۔
اس موضوع پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینئیر رہنما شیری رحمان نے کہا کہ وہ عموماً اس طرح کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتی مگر اس پاگل عورت کی ٹویٹس بدنیتی پر مبنی بہتان ہے جس کی بنیاد سراسر جھوٹ پر ہے۔ اس طرح کی باتوں کو شہید وزیر اعظم سے منسلک کرنا جو خواتین کی حقوق کی علمبردار تھیں درحقیقت اس ‘بوٹ ہینڈل’ کی مصنفہ کے کردار کی وقعت کم کرنے جیسا ہے۔’
بے نظیر بھٹو کے سابق ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ سنتھیا ڈی رچی کو قومی خزانے میں سے ادائیگی کی جاتی ہے یا نہیں اور اگر کی جاتی ہے تو کس لیے اور کتنی رقم ادا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے کہ وہ کس ویزے پر پاکستان میں رہ رہی ہیں، اور یہ ویزہ کس نے اور کس مقصد کے تحت جاری کیا۔‘
نامور مصنفہ عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ ’آپ چاہے نظیر بھٹو کی سیاست سے اتفاق کرتے ہوں یا نہیں، لیکن دنیا میں کوئی بھی شخص بے نظیر کے کردار پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔ وہ ایک ایسی خاتون ہیں جنھوں نے مردوں کی دنیا میں اپنی عزت و احترام قائم رکھتے ہوئے زندگی گزاری۔‘ عائشہ صدیقہ کا مزید کہنا تھا کہ ’بینظیر بھٹو بہادر اور معزز خاتون تھیں۔ انھوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بحالی کے لیے حیرت انگیز ذہانت اور بنا کسی تکبر کے جدوجہد کی۔ جو بھی ان سے ایک بار ملا، وہ انھیں بھلا نہیں سکتا۔‘
نہ صرف پی پی پی بلکہ ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھے والے کارکنان اور کئی سرکردہ شخصیات نے بھی سابقہ وزیر اعظم کے بارے میں سنتھیا رچی کے الزامات کی مذمت کی ہے۔ سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی سابق کارکن بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ کو پوچھنا چاہیے کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم، پاکستان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق اور سیاسی کارکنوں کو بدنام کرنے کے لیے کس نے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے غیر ملکی ٹرولز کو بھرتی کر رکھا ہے اور کون انھیں پاکستانی شہریوں کو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ دینے کا کنٹریکٹ دیتا ہے۔‘
