معروف شیف ’’زبیدہ آپا‘‘ پاکستان کے گھر گھر کیسے پہنچیں؟

نہ ہی بنیادی تعلیم، نہ تجربہ، نہ ہی ادب و فہم میں دلچسپی لیکن اس کے باوجود گھریلو ٹوٹکوں کا ٹی وی پر ایسا جادو جگایا کہ ہر کوئی ان کے گن گانے لگا جس کے بعد ان کو ’’آپا‘‘ کا لقب ملا، زبیدہ آپا کے انتقال کو 6 برس بیت چکے ہیں۔معروف شیف زبیدہ طارق کے میاں ملٹی نیشنل کمپنی کی ملازم تھیں جس کے سبب ان کے گھر ہونے والی دعوتوں میں سیکڑوں افراد شریک ہوتے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ میاں کی ریٹائرمنٹ پر ان کے گھر میں تقریب ہوئی۔ جس میں ان کی کمپنی کے سربراہ بھی شریک تھے، ان کے کھانے اور میزبانی کو دیکھ کر انہوں نے اپنے ہاں کام کرنے کی دعوت دی۔ زبیدہ آپا کے بقول جس دن ان کے میاں ریٹائر ہوئے تو اس دن انہی کی کمپنی میں ان کی ملازمت ہو چکی تھی۔کھانے پکانے کی معروف شیف اور امور خانہ داری کی ماہر زبیدہ طارق کی پیدائش حیدرآباد دکن میں 1945 میں ہوئی۔ تقسیم ہند کے وقت ان کا خاندان پاکستان آکر آباد ہوگیا جہاں انہوں نے باقی کی زندگی کراچی میں گزاری۔ ان کی وجہ شہرت ادھیڑ عمری میں ٹی وی چینلز پر کھانا پکانے کے طریقے اور روز مرہ کے معمولات میں پیش آنے والے مسائل کے آسان حل یعنی ٹوٹکے تھے۔ زبیدہ آپا کے نام سے مشہور زبیدہ طارق عوام میں معروف ہونے والی اپنے خاندان کی پہلی فرد نہیں تھیں۔ بلکہ ان کے بڑے بھائی انور مقصود نامور ادیب، ان کی بہن فاطمہ ثریا بجیا معروف مصنفہ، زہرہ نگاہ شاعرہ اور صغریٰ کاظمی ڈیزائنر ہیں۔ زبیدہ آپا کا انتقال 4 جنوری 2018 کو کراچی میں حرکت قبل بند ہونے کے سبب ہوا۔اپنے پروفیشنل کیریئر کے حوالے سے انہوں نے 50 سال کی عمر میں کام شروع کیا اور تقریباً 22 سال ٹی وی پر کام کیا، کھانا پکانے کے طریقوں اور گھریلو ٹوٹکوں پر مشتمل تقریباً ساڑھے 6 ہزار پروگرام ریکارڈ کرائے۔ہر گھر کے دسترخوان اور فیملی کا حصہ بن جانے والی زبیدہ آپا کے حوالے سے دلچسپ بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنے بچپن یا جوانی میں کھانا پکانا نہیں سیکھا، جب شادی کے بعد وہ سسرال آئیں تو پھر انہوں نے اس کام کا آغاز کیا، پہلی بار کھانا پکانے کے حوالے سے انہوں نے اپنا تجربہ ایک انٹرویو میں شیئر کیا تھا۔ ان کے مطابق شادی کے بعد انہوں نے اپنے میاں کے لیے کڑی بنائی تو اس وقت انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ اس میں دہی بھی ڈالی جاتی ہے۔ پانی اور بیسن کو مکس کر کے اُبالا تو وہ کھانے لائق نہ تھا سو اسے پھینکنا پڑا۔اپنے ٹوٹکوں کے حوالے سے زبیدہ آپا نے بتایا تھا کہ وہ اپنے بچپن سے دادی، نانی کو بچوں کے علاج کے لیے مختلف ٹوٹکوں کا استعمال کرتے دیکھتی آئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں کام کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے کھانے پکانے کے علاوہ ٹوٹکے بھی بتانے شروع کر دیئے، جو دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوگئے۔

Back to top button