مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سوشل میڈیاکے بغیر انٹرنیٹ کی محدود بحالی کا امکان

مقبوضہ جموں و کشمیر میں 6 ماہ کی طویل بندش کے بعد بھی انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروس کی محدود پیمانے پر بحالی کا امکان ہے جس میں شہریوں کو سوشل میڈیا تک رسائی نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی مقامی حکومت نے ایک نوٹس میں کہا ہے کہ 300 وائٹ لسٹڈ ویب سائٹس تک محدود انٹرنیٹ کی رفتار بھی بدستور سست رہے گی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ صارفین کو آپس میں رابطے کی سہولت دینے والی سوشل میڈیا کی ایپلی کیشنز پرپابندی برقرار رہے گی۔ مقامی حکومت کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا 31 جنوری کو جائزہ لیا جائے گا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی محدود بحالی کا اعلان بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی انسانی حق اورغیرمعینہ مدت ان کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی بحالی کے حکم کے بعد کیا گیا ہے۔ نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت پورے بھارت میں اپنےخلاف ہونے والےاحتجاج کے پیش نظر انٹرنیٹ سروس کو معطل کرنے کو ایک ہتھیار کےطورپراستعمال کررہےہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انٹرنیٹ کی معطلی کے حوالے سے بھارتی حکومت نے کہا تھا کہ یہ خطےمیں امن و امان برقرار رکھنے کےلیےاقدام ہے۔
یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے5 اگست 2019 کومقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو معطل کردیا تھا اوراس کےساتھ پورے مقبوضہ کشمیرمیں بلیک آؤٹ کردیا تھا۔ مودی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی معطلی اورلاک ڈاؤن کےباعث معمول کی زندگی گزشتہ 6 ماہ سے معطل ہےجہاں نہ توتعلیمی ادارے کھلے ہیں اور نہ ہی دیگرسہولیات آزادانہ طریقہ سے مہیا کی جارہی ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کاروبار، بینک اور ٹیکس ریٹنز کی سہولیات بھی معطل ہیں اورکالجوں میں نئےداخلے بھی بروقت شروع نہ ہوسکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی محدود بحالی کی اجازت سے بھارت کے اسٹیٹ بینک اور ایچ ڈی ایف سی، تعلیمی اداروں، نیوز، تفریحی ویب سائٹس بشمول ایمازون پرائم، ٹریول، یوٹیلیٹیز اینڈ فوڈ ڈلیوری ویب سائٹ جیسے سویگی اور زوماٹو کی ویب سائٹس تک عارضی رسائی دی جائے گی۔ نوٹس کے مطابق سرچ انجن گوگل اور یاہو کی سرچنگ اور ای میل کرنے کی بھی عارضی اجازت ہوگی۔
اس سے قبل رواں ماہ کے اوائل میں مقامی حکومت نےمختلف علاقوں میں محدود سروس بحال کی تھی لیکن اکثر لوگ تاحال آن لائن سہولت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیرکےضلع کپواڑا سےتعلق رکھنےوالےایک طالب علم ناصر نبی کا کہنا تھا کہ وہ فاصلاتی کورس کررہےہیں لیکن یونیورسٹی کی ویب سائٹ تک رسائی کرنےمیں ناکام ہیں جبکہ حکام کےمطابق یہاں انٹرنیٹ کوبحال کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی سست رفتارکےباعث وہ کورس اورامتحانات سے متعلق دیگرمواد ڈاؤن لوڈ کرنےمیں ناکام ہوگئے ہیں۔
کپواڑا سے ہی ایک دکان دارشمیم احمد نےانٹرنیٹ کی محدود بحالی پر کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہےجس کے باعث انہیں بینک ٹرانزیکشنز کا عمل مکمل کرنےمیں مشکلات پیش ہیں اور اکثریہ عمل ناکام ہوجاتا ہے۔ ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے کام کرنےوالی تنظیم ایکسس ناؤ کےمطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 150 روزسے طویل عرصے تک انٹرنیٹ کی بندش کسی بھی جمہوریت میں طویل ترین ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے10 جنوری کو اپنے فیصلے میں انتظامیہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کو عائد کی گئیں پابندیوں کا ازسرجائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ جسٹس این وی رامانا، آر سبھاش ریڈی اوربی آرگوائی پر مشتمل عدالتی بینچ نے کہا تھا کہ’ آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار رائے کے ساتھ انٹرنیٹ تک رسائی کا حق شامل ہے لہٰذا انٹرنیٹ پر پابندیوں کے لیے آرٹیکل 19(2) کے تحت تناسب کے اصولوں پر عمل کرنا ہوتا ہے‘۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی خاص مدت کے بغیر اور غیر معینہ مدت‘ تک انٹرنیٹ کی معطلی ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی ہے، پابندیوں سے متعلق تمام احکامات کو شائع کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں عدالت میں چیلنج کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا تھا کہ من مانی کرتے ہوئے بنیادی اختیارات پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ بینچ نے یمارکس دیے تھے کہ ’ہماری محدود تشویش لوگوں کی آزادی اور سیکیورٹی سےمتعلق توازن تلاش کرنا ہے، ہم شہریوں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں، ہم ان احکامات کے پیچھے موجود سیاسی خواہشات تلاش نہیں کریں گے‘۔
یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے لے کر اب تک مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے چند ماہ بعد فون کالز اور محدود ٹیکسٹ میسیجز کی اجازت دی گئی تھی تاہم انٹرنیٹ سروسز تاحال معطل ہیں۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا تھا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔
بعدازاں 31 اکتوبر کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کےخاتمے کے بعد سخت سیکیورٹی کی موجودگی اور عوامی غم وغصے کے باوجود وادی پر براہِ راست وفاقی حکومت کی حکمرانی کا آغاز کیا تھا جس سے متنازع علاقہ اپنے پرچم اورآئین سے بھی محروم ہوگیا تھا۔ بھارت نےمواصلاتی بندش کے علاوہ کشمیر کے مقامی رہنماؤں کو گرفتار، ان کے سفر پر پابندی عائد کی تھی اور ہزاروں اضافی فوجیوں کوسیکیورٹی خدشات ظاہر کرتے ہوئے وادی میں تعینات کیا تھا۔ مقبوضہ وادی میں کریک ڈاؤن کی وجہ سے سیاحت کے علاوہ زراعت، باغات اور آرٹس اینڈ کرافٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
