ملالہ کے مخالفین کو اب کس بات پر مرچیں لگی ہیں؟

2014 میں صرف 17 برس کی عمر میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی فخر پاکستان ملالہ یوسف زئی نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجوایشن کر کے اپنے حاسدین کو ایک اور صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کی اعلیٰ تعلیم کی تکمیل پر جہاں دنیا بھر سے انھیں مبارکبادوں کے پیغامات مل رہے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر کچھ کم ظرف اس خوشی کے موقع پر بھی اس کے خلاف بیہودہ بیان بازی میں مصروف ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ملالہ یوسفزئی نے تمام تر تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کر کے جلنے والوں کا منہ کالا کر دیا ہے۔
ملالہ یوسفزئی کو اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے پر دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ملالہ نے اپنی تعلیم کی تکمیل کا اعلان 19جون کو ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا کہ اس وقت ان کے لیے خوشی اور شکریہ کا اظہار کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ انھوں نے آکسفورڈ سے فلسفے، سیاست اور معیشت میں اپنی ڈگری حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’میں نہیں جانتی کہ آگے کیا ہوگا۔ فی الحال نیٹ فلکس، مطالعہ اور نیند ہو گی۔ ملالہ نے گریجوایشن کی خوشیاں مناتے ہوئے اپنی ایک تصویر سب گھر والوں کے ساتھ کیک کاٹتے ہوئے بھی شیئر کی جبکہ سوشل میڈیا پروائرل ایک دوسری تصویر میں ملالہ کیک میں لت پت نظرآ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اس روایت کو ’ٹریشنگ‘ کہا جاتا ہے جس میں فائنل امتحانات کے بعد سٹوڈنٹ ایک دوسرے پر کھانے پینے کی اشیا پھینکتے ہیں۔
ملالہ کی گریجویشن پر انھیں دنیا بھر سے بڑے رہنماؤں، اداروں اور اہم شخصیات کی طرف سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے۔ برطانیہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے چیپٹر نے ملالہ کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا اور ساتھ پیغام لکھا کہ ’اقوام متحدہ کی امن کی سفیر ملالہ کو بہت مبارکباد۔ انھوں نے آکسفورڈ سے ڈگری حاصل کر لی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک بڑی جیت۔‘
امریکی خلا باز این مک کلین نے مبارکباد کے بعد لکھا کہ ’دنیا خوش قسمت ہے کہ آپ دنیا میں ہیں‘۔ مصنفہ کاملہ شمسی نے لکھا کہ ’مبارک ہو آپ کو اور آپ کے والدین کو۔ نیٹ فلکس سے لطف اندوز ہوں۔ مطالعہ کریں اور سوئیں۔ تھوڑا کھانا بھی بیچ میں شامل کر لیں‘۔
پی ایس ایل ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے بھی مبارکباد دی اور لکھا کہ ’مستقبل آپ کا ہے‘۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ نے لکھا ’مبارکباد! بہت اچھی اور حوصلے بڑھانے والی خاتون‘۔
دنیا بھر میں جہاں ملالہ یوسفزئی کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اُٹھانے اور اُن کے فلاحی کاموں پر سراہا جاتا ہے وہیں پاکستان میں انھیں ایک طبقہ مسلسل تنقید کا شنانہ بھی بناتا ہے اور ایسا ہی کچھ اس موقع پر بھی نظر آیا۔ ذوہا خان نامہ صارف نے جمائمہ گولڈ سمتھ کے پیغام کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، وہ ایسی نہیں ہیں۔ جو شخص بھی اپنے ملک کے خلاف بولے وہ حوصلے بڑھانے والا نہیں ہوسکتا۔ مزید یہ کہ اگر آپ کو اپنے ملک سے محبت ہے تو اپنے ملک میں رہیں اور کچھ اچھا کام کریں۔۔۔‘
ذوہا کی طرح عمران کو بھی ملالہ اور اُن کے والد سے شکوہ تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں نہ تو انھوں نے اب تک کچھ کیا ہے اور نہ ہی اُن کے والد نے‘۔
جیو سے وابستہ رہنے والی صحافی ابصہ کومل نے جب ملالہ کو مبارکباد دی تو ایک اور ٹوئٹر صارف نے ان سے ناراضی کا اظہار کیا۔ محمد عمر شیخ نامہ صارف نے لکھا کہ’انھیں مبارکباد دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کوئی ایسی کامیابی نہیں ہے جس پر اظہار تحسین کیا جائے۔ اپنے کام پر توجہ دیں بجائے خوامخواہ فضول لوگوں کو خوش کرنے کے‘۔
تنقید اور تعریف میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ملالہ کو مستقبل میں پاکستان کے لیے کام کرنے سے متعلق اظہار خیال کر رہے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نثار خان نے ملالہ کے والد کو ٹیگ کر کے ٹویٹ کی اور لکھا ’سر جی! آپ کو اور ملالہ کی والدہ صاحبہ کو بھی بہت بہت مبارک ہو امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ملالہ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر کے دکھائی گی‘۔
یاد رہے کہ ملالہ یوسف زئی پچھلے کئی برسوں سے سوشل میڈیا پر کم ظرفوں اور جاہلوں کی جانب سے بے جا اور بیہودہ تنقید اور بہتان تراشی کا شکار ہیں اور لگتا یوں ہے کہ ملالہ پر کیچڑ اچھالنا سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ایک مخصوص حلقے کے لیے فیشن بنتا جا رہا ہے۔ ملالہ یوسفزئی خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد نام نہاد محب وطن طبقے کی طرف سے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں، کبھی انھیں پاکستانی کی بجائے کاکوزی ثابت کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور کبھی انھیں غدار اور غیر مسلم قراردینے کی کمپین شروع کر دی جاتی ہے اور کبھی ان پر کشمیر ایشو بارے تنقید کے نشتر برسائے جاتے ہیں تاہم ملالہ آج جس مقام پر ہیں اس کے پیچھے ان کی دردناک تاریک کہانی اور بےشمار قربانیاں ہیں۔ ملالہ کی ترجیح صرف تعلیم کے بارے کام کرنا ہے ۔ اپنے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے لوگوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایسے افراد تعصب اور جھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور انھیں ایسے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں۔
