ملک دشمن اور کرپٹ عمران خان اب بد کردار بھی نکلا؟

کسی بھی شخص کو اخلاقی، مالی اور قومی معاملات کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی اس کے مقام و مرتبے کا تعین کیا جاتا ہے۔ تاہم بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ چند روز میں ہونی والی سزاؤں سے پتا چلتا ہے کہ عمران خان نہ صرف ذاتی مفادات کیلئے ریاست سے دشمنی کر سکتے ہیں بلکہ توشہ خانہ کیس میں ان کی کرپشن کے روشن ثبوت سامنے آ گئے ہیں جبکہ اب بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی سے عدت میں نکاح کے کیس میں نہ صرف عمران خان اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار نکلے ہیں بلکہ اس کیس سے ان کی نام نہاد پارسائی کا بت بھی پاش پاش ہو گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق سائفر کیس‘ توشہ خانہ اور اب عدت کے دوران نکاح کیس میں سزاسے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سزا میں ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ہے۔ عدت میں نکاح کیس نے نہ صرف عمران خان بلکہ ان کی موجودہ اہلیہ بشریٰ بیگم کی اخلاقی ساکھ کو بھی دھچکا لگایا ہے ،شرعی حکم کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے دونوں کا روحانی اور مذہبی امیج تار تار ہوگیا

 مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان مکافات عمل کا شکار ہوئے ۔ ان کا بے جا تکبر انہیں لے ڈوبا ہے،کپتان نے ماضی میں وکلاء کے ذ ریعے کیسز کی سماعت میں غیر ضروری التواء کی پالیسی سے بہت فائدہ اٹھایا لیکن اب ان کی یہ حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی ۔انہوں نے نہ صرف کیسز کیلئے وکلاء پر انحصار کیا بلکہ پارٹی بھی وکلاء کے سپرد کردی مگر قسمت اب ان کا ساتھ دیتی نظر نہیں آتی ،ہر آنے والا دن ان کیلئے شکست اور مایوسی کا پیغام لا رہا ہے، پانچ دنوں میں انہیں تین سزائیں مل چکی ہیں،تینوں مقدمات میں ان کی مجموعی سزا 31سال ہوچکی ہے۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی سیا سی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ سا بق وزیر اعظم کی اہلیہ کو بھی سزا ملی ہے ،سابق خاتون اول اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کو توشہ خانہ کیس میں چودہ سال اور عدت کی مدت مکمل کئے بغیر نکاح کا الزام ثابت ہونے پر سات سال قید کی سزا ملی ۔ان تینوں کیسز میں کپتان کو ملنے والی سزائوں کے ہمہ گیر اثرات ہیں،تینوں کیسز کی نوعیت الگ الگ ہونے کی وجہ سے ان کے ثابت ہونے کے مضمرات بھی الگ نوعیت کے ہیں۔ سائفر کیس کا تعلق ریاست کے راز کی پاسداری نہ کرنے اور خفیہ دستاویز کو گم کرنے اور امریکا سے تعلقات کو نقصان پہنچانے سے ہے، اس کیس نے ان کی بطور وزیر اعظم کام کرنے کی اہلیت کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ توشہ خانہ کیس قومی خزانہ کی خیانت سے ہے کیونکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی تحائف کی کم قیمت لگوا کر تحائف لئے جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا ،اسی لئے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مجموعی طور پر ایک ارب 57کروڑ روپے جر مانہ بھی عائد کیا گیا، ا س کیس نے ان کے صادق اور امین ہونے، پارسائی کے دعوے یا بنا ئے گئے امیج کو ٹھیس پہنچائی ۔ تاہم عدت کی مدت مکمل کئے بغیر نکاح کے کیس نے نہ صرف عمران خان بلکہ اہلیہ بشریٰ بیگم کی اخلاقی ساکھ کو دھچکا پہنچایا ہے، عمران خان ریاست مدینہ کے دعویدار تھے۔ ہر تقریر قران کی آیت سے شروع کرتے تھے۔ تسبیح ہاتھ میں رکھتے تھے، انہیں پارٹی ورکرز اب مرشد کا لقب دیتے تھے، اسی طرح بشریٰ بیگم نے اپنے آپ کو روحانی شخصیت کے طور پر متعارف کرایا ہواتھا،وہ پردے کا اہتمام ، دم درود اور روحانی علاج کرتی تھیں، القادر یو نیو رسٹی بھی روحانی تعلیم کیلئے بنائی جا نی تھی،ان کے نکاح کی شرعی حیثیت ان کے مذہبی پس منظر کی وجہ سے اہمیت کی حامل تھی۔ تاہم عدت میں نکاح کیس کے سامنے آنے والے تفصیلی فیصلے نے پنکی پیرنی کی پارسائی کا پول سر بازار کھول دیا ہے اور پنکی پیرنی اور عمران خان کی خفیہ ملاقاتوں کو عام کر دیا ہے۔

دوسری جامب عدت کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو سات سات سال قیدکی سزا بارے گفتگو کرتے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ عورت عدت کے دوران دوبارہ شادی نہیں کرسکتی ،الیکشن سے پہلے عمران خان کی سزا لازمی بنانا تھی، ان کی طلاق کب ہوئی کیسے ہوئی یہ ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے، قرآن کی واضح طور پر خلاف ورزی کی جو کہ شریعت کے نکتہ نگاہ سے حرام ہے۔ اس دوران اگر کوئی جوڑا اپنے طو رپر جسمانی تعلق قائم کرتا ہے تو وہ گناہِ کبیرہ ہے اور زنا کے زمرے میں آتا ہے۔

دسسری جانب عمران خان کے پنکی پیرنی سے دوران عدت نکاح بارے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ میں اللّٰہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے میری عزت رکھی میں نے پوری تصدیق کے ساتھ یہ خبر دی تھی اور ناصرف ان کی شادی کی خبر دی تھی عدت کے حوالے سے بھی ہم نے ہی شاید خبر دی تھی جبکہ عمران خان مسلسل یکم  جنوری کو نکاح کی خبروں کو جھٹلا رہے تھے۔ آج سے پہلے تک یہ جھٹلاتے رہے ہیں کہ یکم جنوری کو نکاح نہیں ہوا۔ تاہم کیس کی باقاعدہ سماعت کے موقع پر اپنے نکاح کی تصدیق کر دی تاہم اب دوران عدت نکاح کیس میں عدالت نے عمران خان اور پنکی پیرنی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے انھیں سات سات قید کی سزا سنا دی ہے۔

Back to top button