ملک ریاض عمران کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار؟

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی القادر ٹرسٹ پراپرٹی کیس میں پھنستے دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں ایک طرف نیب نے عمران خان کیخلاف قادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے ناقابل تردید ثبوت حاصل کر لئے ہیں وہیں دوسری طرف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین نے اس کیس میں عمران خان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

دوسری طرف ذرائع کا دعوی ہے کہ القادر پراپرٹی کیس سامنے آنے کے بعد نیب حکام کی جانب سے تمام تر کوششیں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین کو عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے پر مرکوز تھیں تاہم انھیں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی تاہم اس حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور وہ پر امید ہیں کہ جلد ملک ریاض اس حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروا دینگے۔

خیال رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کا ٹرسٹی بنایا گیا۔ انہوں نے اسلام آباد کے قریب تحصیل سوہاوہ میں 458 کنال اراضی پر پھیلی القادر یونیورسٹی قائم کی۔ یہ زمین بحریہ ٹاؤن نے عطیہ کی تھی۔ نیب تحقیقات میں یہ الزام عائد کیا گیاہے کہ یہ زمین اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو ملک ریاض حسین کی مدد کرنے کے بدلے میں عطیہ کی گئی تھی تاکہ برطانیہ میں قبضے میں لیے گئے 190 ملین پاؤنڈز یعنی50 بلین روپے پاکستان میں بحریہ ٹاؤن کو واپس کیے جاسکیں۔مقدمے میں شامل دیگر افراد میں سابق وفاقی وزیر اوورسیز ذوالفقار بخاری اور سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے اور اگر ملک ریاض عمران خان کے خلاف گواہی دے دیتے ہیں تو اس صورت میں سابق وزیر اعظم کا سزا سے بچنا نا ممکن ہو گا۔بدعنوانی اور طاقت کے بے دریغ اور غیرقانونی استعمال کے جرم میں سزا ان کی انتخابی سیاست سے پانچ سال کے لیے نااہلی کی راہ ہموار کرے گی۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف دیگر تعزیری کارروائیوں کا بھی ڈھیر لگے گا۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام سلسلے میں سابق انٹیلی جنس چیف جنرل فیض حمید بھی بے نقاب ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ جنرل فیض حمید کی ایماء پر ہی شہزاد اکبر نے عمران خان کی ملک ریاض سے ڈیل کروائی تھی۔ جس کے بدلے میں نہ صرف انھوں نے اپنا حصہ وصول کیا بلکہ ملک ریاض نے عمران خان کی القادر ٹرسٹ کے نام پر بھرپور معاونت کی تھی۔

واضح رہے کہ عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 190 ملین پاؤنڈز کی پاکستان منتقلی میں مدد کی اور جس کی مبینہ طور پر ملک ریاض نے منی لانڈرنگ کی تھی۔ جو کہ برطانیہ کے نیشنل کرائم یونٹ نے ضبط کر لی تھی۔عمران خان نے اپنی کابینہ کو ایک مہر بند دستاویز پر دستخط کرنے کے لیے طلب کیا اور شہزاد اکبر، اور دیگر کے ساتھ مل کر کابینہ کے ارکان کو اس جرم میں شریک بنایا گیا۔ لیکن یہ کام ان کو یہ حقائق فراہم کیے بغیر کیا گیا کہ وہ کیا دستخط کر رہے تھے۔اس مدد کے بدلے میں پراپرٹی ٹائیکون نے القادر ٹرسٹ کے زیر انتظام القادر یونیورسٹی کے لیے سوہاوہ میں وسیع اراضی عطیہ کی۔نیب عہدیداروں کے مطابق اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے ان کے ساتھ مل کر 3 دسمبر 2019 کو ایک مہر بند لفافے میں کابینہ کے سامنے ایک غیر دستخط شدہ ڈیڈ پیش کی۔یہ سب مبینہ طور پر عمران خان، ملک ریاض، شہزاد اکبر، اور دیگر ملزمان کو مادی فائدہ پہنچانے اور حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس سے ریاست اور عوام کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

خیال۔رہے کہ 14 دسمبر 2018 کو، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے برطانیہ کے کرائم ایکٹ 2002 کے تحت دو پاکستانی شہریوں، احمد علی ریاض اور ان کی اہلیہ مبشرہ علی ملک کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباً 20 ملین پاؤنڈ ضبط کر لیے۔اس کے بعد، 12 اگست 2019 کو NCA نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس میں موجود مزید 119 ملین پاؤنڈز کومنجمد کر دیا۔ ان کی جائیداد 1-ہائیڈ پارک پلیس، جس کی مالیت تقریباً 50 ملین پاؤنڈ ہے، بھی اسی قانون کے تحت ضبط کر لی گئی ۔

بعد ازاں وزیر اعظم کے لیے 2 دسمبر 2019 کے نوٹ میں، پیراگراف 10 میں خاص طور پر یہ ذکر کیا گیا تھا کہ فنڈز پاکستان کے خزانے میں واپس بھیجے جائیں گے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ رقم پاکستانی عوام سے چوری کی گئی ہے۔ لیکن یہ فنڈز ملک کے نامزد اکاوَنٹ میں کبھی نہیں پہنچے بلکہ یہ فنڈز حکومت اور بالآخر عوام کو واپس بھیجنے کے بجائے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کراچی (BTLK) کی واجبات میں ایڈجسٹ کیے گئے۔

Back to top button