بہترمستقبل کی تلاش،رواں سال3لاکھ سے زائدپاکستانی بیرون ملک چلےگئے

پاکستان میں خراب معاشی و سیاسی حالات کے باعث رواں سال مزید 3 لاکھ سے زائد پاکستانی بہتر مستقبل کیلئے بیرون ملک منتقل ہوگئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 3 لاکھ 17 ہزار 436 پاکستانی بیرون ملک روزگار کیلئےگئے، جن میں ڈاکٹرز، سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، پٹرولیم و مکینیکل انجینئرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ٹیکنیشنز شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب سرفہرست رہا جہاں ایک لاکھ 83 ہزار 951 پاکستانی روزگا کیلئےگئے، جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا جہاں 50 ہزار 773 افراد منتقل ہوئے۔
قطر 34 ہزار 25 افراد کے ساتھ تیسرے، بحرین 13 ہزار 329 اور ترکیہ 4 ہزار 673 ورکرز کے ساتھ نمایاں رہے۔ اس کے علاوہ قبرص، یونان، برطانیہ اور ملائیشیا بھی پاکستانی ورکرز کے لیے اہم ممالک رہے۔
ذرائع کے مطابق مزید ہزاروں افراد بیرون ملک جانے کے لیے سفری و ملازمت سے متعلق دستاویزات مکمل کروانے کی غرض سے مختلف سرکاری اداروں کے چکر لگا رہے ہیں، جبکہ ائیرپورٹس پر بھی مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب یہ رجحان ملک سے ہنر مند افرادی قوت کے انخلا کا باعث بن رہا ہے، وہیں دوسری جانب بیرون ملک جانے والے پاکستانی ترسیلات زر کی صورت میں ملکی معیشت کو سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
