باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ، 2 پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق

آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر حوثیوں کے مبینہ حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں ابتدائی اطلاعات کےمطابق دو پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آبنائے باب المندب میں ہونے والے حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
رپورٹ کےمطابق حملے کا نشانہ بننےوالے تجارتی جہاز کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آسکی۔اسی طرح جہاز کے مالک یا اس پر موجود دیگر عملے کے بارے میں بھی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یمنی حکومت سے وابستہ نشریاتی ادارے کےمطابق اموات کی اطلاعات ابتدائی نوعیت کی ہیں اور واقعے سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
حوثیوں کی جانب سے فوری ردعمل نہیں دیاگیا اور نہ ہی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری یا اس میں ہونےوالے جانی نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری کی ہیں۔
توانائی بحران کا خدشہ، ٹرمپ کی شپنگ رعایت میں مزید 90 روز کی توسیع
خیال رہے کہ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت اور توانائی کی ترسیل کےلیے اس راستے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔اس علاقے میں حالیہ برسوں کے دوران تجارتی جہازوں پر ہونےوالے حملوں کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں کو سکیورٹی خدشات کا سامنا رہا ہے۔متعدد کمپنیوں نے خطرات کے پیش نظر اپنے بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیےہیں،جس سے سفر کا وقت اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کےمطابق باب المندب میں کسی بھی نئے حملے سے نہ صرف بحری جہازوں کی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہےبلکہ عالمی تجارت اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی بھی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
