ملک کے قدرتی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قدرتی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں اور اب گیس کی اوسط قیمت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گیس کے سات فیصد ذخائر سے محروم ہونے کے باوجود بھی اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کر رہی۔ یہ بات انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے قانون سازوں، ان کی اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے رہنماؤں اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیسکو) کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی صابر قائم خانی، رکن پارلیمنٹ راشد خلجی، پی ٹی آئی کے کراچی سے ایم پی اے حلیم عادل شیخ اور خرم شیر زمان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی طرف سے یہ بحران وراثت میں ملا ہے، ان دونوں حکومتوں کے غیر پیشہ ورانہ فیصلوں نے پاکستان اسٹیل ملز، گیس یوٹیلیٹی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں وغیرہ کو تباہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے اپنی مدت پوری کی تو زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو ماہ کے باقی رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری کی زیرقیادت حکومت نے 7 کھرب روپے کا قرض چھوڑا تھا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2018 میں اپنی مدت پوری ہونے پر اسے بڑھا کر 30 کھرب روپے کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی مدت پوری کرنے پر صرف دو ہفتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑے تھے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھی، ‘آج اس میں مثبت رجحان دیکھا جارہا ہے’۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ماضی کی حکومت نے روپے کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ کو برقرار رکھنے کےلیے 24 ارب ڈالر خرچ کیا۔ عمر ایوب نے کہا کہ گیس کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھایا گیا تھا جہاں حکومت سندھ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس کافی ذخائر ہیں ‘در حقیقت اس سال سندھ کے ذخائر میں خسارہ ہوگا’۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں نے نئے بلاکس کی کھدائی نہیں کہ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے 20 بلاکس کی نیلامی کردی ہے اس کے اثرات پانچ سال کے بعد دیکھنے کو ملیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس کی موجودہ قلت کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ذریعے قلیل المدتی بنیاد پر پورا کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی حد تک قلت کو دور کرنے کےلیے شمالی اور جنوبی پائپ لائنیں ڈال کر روسی حکومت کے اشتراک سے دو ایل این جی ٹرمینلز قائم کیے جائیں گے۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ گیس کی قلت صرف نئے ذخائر کی دریافت کے ساتھ ہی ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی وزن کی اوسط قیمت کا تعین مقامی گیس اور ایل این جی کےلیے طے کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر قیمت کا تعین کیا جائے تو ہم بحران کے مسئلے سے نکل جائیں گے، کوئی پوچھے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے کےلئے کیوں کام نہیں کیا۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتیں پرانے ہی بلاکس میں کھدائی کرنے کا انتخاب کر رہی تھیں جو تکنیکی طور پر ممکن ٹھیک نہیں، سندھ کے ذخائر میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیر منظم گیس کی طلب 7.5 ارب مکعب فٹ ہے جب کہ پیداوار صرف 3.5 ارب مکعب فٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1.2 ارب مکعب فٹ ایل این جی سے پورا کیا جائے گا جب کہ باقی فرق سے گیس کا بحران پیدا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ درآمدی گیس کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے نئے ذخائر کی دریافت میں پانچ سال لگیں گے، ہمیں توقع ہے کہ ہم اس کمی کو پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی آئی میں گیس کی قلت پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ اس سال سندھ میں ذخائر کم ہونا شروع ہوجائیں گے جب کہ 4 اور 5 سالوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے ذخائر بھی کم ہونے لگیں گے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں نے غلط معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حکومتوں نے شمسی، ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے درآمدی توانائی کو ترجیح دی تھی، تقریباً 70 فیصد توانائی درآمدی ایندھن کے ذریعہ پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے شمسی توانائی کےلیے 6.50 روپے اور 3.75 روپے فی یونٹ قیمت پر ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جب کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے اسی طرح کے معاہدے پر بالترتیب 18 اور 24 روپے فی یونٹ پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) عوامی جلسوں کا انعقاد کر سکتی ہے لیکن اتحاد کے قائدین کی تقاریر میں ‘غداری’ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، اس کے اتحادی اور عوام پی ڈی ایم کو جوابدہ رکھیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی ایم وہاں اپنی چوری کو چھپانے، پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے اور اپنے مفادات کے لیے وہاں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو تبدیلی کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے وہ تحریک انصاف کی حمایت کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حیدرآباد کو پیپلز پارٹی کے زیر اثر واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کی نااہلی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی افسوس ناک صورت حال دیکھی جارہی ہے یہ شہر اور علاقے 50 سال پہلے بہتر حالت میں تھے۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہیسکو انتظامیہ مزید گرڈ اسٹیشنز، آزاد فیڈرز، نئے ٹرانسفارمرز اور چار ورکشاپس کی تنصیب کےلیے سفارشات پیش کرے گی جن کی مالی امداد وفاقی حکومت کرے گی تاکہ خطے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چند نادہندگان کی وجہ سے پورے علاقے کو سپلائی منقطع کرنے سے ہیسکو کو روک دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی چوری کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور کاروباری برادری بھی اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔
