منتشر تحریک انصاف کو لینے کے دینے کیوں پڑ گئے ؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ھے کہ سینیٹ کے انتخابات میں نشستیں کھونے کے بعد قومی اسمبلی کی 80 مزید نشستیں جیتنے کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف مختلف حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں اپنی جیتی ہوئی 20 نشستوں کو بچانے کی تگ و دو میں پھنستی نظر آرہی ہے دوبارہ گنتی کروانے کا مطالبہ اسے مہنگا پڑگیا اور پارٹی کو لینے کے دینے پڑگئے ہیں۔اب تحریک انصاف کے لئے بنیادی چیلنج اپنی بقا کا ہے۔ اپنے ایک کالم میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی سے اس کا نشان بلا کیا چھینا گیا اس کی مخصوص سیٹس بھی ہاتھ سے گئیں۔ تحریک انصاف کے امیدواروں کی نتائج میں ردوبدل کی درخواست کی شنوائی تو کیا ہونا تھی، اُلٹا دوبارہ گنتی میں اسکی نشستیں کم ہوتی جارہی ہیں ۔ دوسری جانب کے پی کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی جانب سے کوئی خود کش حملہ کرنے سے پہلے ہی انکی نااہلی کی درخواست پر طلبی کیا ہوئی انہیں سر کے بل اُسی وزیراعظم کی قدم بوسی کیلئے جانا پڑا جسے وہ مینڈیٹ چور وزیراعظم قرار دے چکے تھے۔ چاہے پی ٹی آئی کے نوجوانوں کو کیسے ہی برا لگے، عمران خان کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا کہ حکومت چلانے کا امتحان ملک میں نہ سہی ایک صوبے میں انکی جماعت کے سر پر آن پڑا ہے اور باگ ڈور دینی بھی پڑی تو ایسے ہاتھ میں جسے قرار ہے نہ کوئی سوجھ بوجھ۔ بلا چھینے جانے کے بعد پارٹی قیادت نے پے در پے حماقتیں کیں، کبھی مولانا شیرانی کی پارٹی، تو کبھی بلے باز کا دھڑا تو کبھی وحدت المسلمین اور آخر میں سنی اتحاد کونسل جسکا انتخابی کھاتہ ہی بند تھا۔ نتیجتاً تحریک انصاف ساری کی ساری مخصوص سیٹس کھو بیٹھی جنکی بنیاد پارٹی کو پڑنے والے ووٹ نہیں منتخب اراکین کا تناسب کا ہے۔
امتیاز عالم کے مطابق پختونخوا اسمبلی میں جہاں دوسری پارٹیاں شاید دو تین نشستیں لے سکتی تھیں،وہ سب مخصوص نشستیں لے اُڑیں۔ اب پی ٹی آئی کرے بھی تو کیا کرے ، جب ہر تدبیر اُلٹی پڑنی شروع ہوجائے؟ پارٹی انتخابات کے باوجود پی ٹی آئی ایک منقسم ہاؤس ہے جس میں عجیب و غریب اور طرح طرح کی متضاد بولیاں بولنے والوں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے والوں کی کمی نہیں۔ عمران خان مقدمات کے انبار میں پھنسا ہے اور پارٹی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ سسٹم سے نکلنے کا خمیازہ یہ پارٹی بری طرح سے بھگت چکی ھے ۔ اسے اب یا تو سسٹم میں واپسی کرنی ہے یا گرتی ہوئی دیواروں کو دھکا دینا ہے۔ دونوں کام بیک وقت چلنے والے نہیں۔ اوپر سے مرشد کسی سیاسی اسٹیک ہولڈر سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں، جبکہ باہر بیٹھے بھگوڑے مجاہدین ، ممولے کو شہباز سے لڑانے پہ اُکسائے چلے جارہے ہیں۔ انہیں تحریک انصاف اور جمہوری تسلسل سے غرض نہیں۔ غرض ہے تو صرف بکواس سے کہ وہ سوشل میڈیا پہ خوب بکتا ہے۔ ہائبرڈ وار کی پانچویں پیڑھی کے بھگوڑے اپنے ہی ناخداؤں پہ پلٹ پڑے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کو انتخابی ٹربیونلز کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر حکومتی اتحاد اپنے قدم جماتا چلا جائے گا۔ دوبارہ انتخابات کا امکان دور دور تک نہیں اور اسمبلی کو مچھلی منڈی بنانے سے کچھ ہاتھ لگنے والا نہیں۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ اب بنیادی چیلنج تحریک انصاف کیلئے اپنی بقا کا ہے۔ اسکے لیے یہ حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ ضرور اُٹھاسکتی ہے، تحریک انصاف کیلئے ضروری ہے کہ اپنی جگہ بچانے کیلئے یہ اپنے سب حریفوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی بجائے بڑے حریف کے خلاف چھوٹے حریفوں سے صلح جوئی کرے۔ سول سوسائٹی سے اپنا بغض ختم کرے اور جمہوری کلچر اپنائے۔ ملک میں بحران جلد ختم ہونے والا نہیں،حکومت اندر سے کمزور اور مقتدرہ کی مرہون منت ہے۔ معاشی و اداراتی بحران کو حل کرنے کا کوئی نسخہ اسکے پاس نہیں، الیکشن کے بعد والی صورتحال میں صرف عمران خان ہی مائنس نہیں ہوئے۔ نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی مائنس کر دیے گئے ہیں۔ موقع ملا بھی ہے تو آصف علی زرداری اور شہباز شریف کو ۔دیکھنا یہ ھے کہ پنجاب میں مریم نواز کیسے کھیلتی ہیں کہ ن لیگ پھر سے بحال ہو جائے جو کافی مشکل لگتا ہے۔ بہتر ہے کہ عمران خان لچک دکھائیں ایک قدم پیچھے ہٹیں اور سسٹم میں واپسی کی حکمت پر کار بند ہوں۔ وگرنہ جو بچ رہا ہے وہ بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

Back to top button