وفاق اور پنجاب کی حکومت لینے کے باوجود نواز شریف اداس کیوں؟

ایک ایسا سیاست دان جس کے بھائی کو وزارت عظمیٰ ملی ہو اور جس کی بیٹی ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیر اعلیٰ بن چکی ہو، اس کا لوگوں سے میل جول سے گریز، بات چیت نہ کرنا، ہر وقت چہرے پر افسوس اور بہت سنجیدہ کیفیات کا طاری رہنا بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنا ہوا ہے۔
پاکستانی سیاسی حلقوں میں یہ بات خاص طور پر محسوس کی جا رہی ہے کہ خوش خوراک، خوش پوشاک اور ہشاش بشاش طبیعت کی شہرت رکھنے والے سابق ملکی وزیر اعظم نواز شریف آج کل کسی بھی عوامی تقریب میں بظاہر خوش دکھائی نہیں دے رہے۔
حال ہی میں شہباز شریف اور مریم نواز کی حلف برداری کی تقاریب اور قومی اسمبلی میں نومنتخب اراکین کی حلف برداری کے موقع پر میاں نواز شریف کی جو تصاویر سامنے آئیں، ان میں بظاہر بے بسی اور دکھ کے جذبات نمایاں تھے۔
مبصرین کے مطابق کسی سیاسی رہنما کی کمیونیکیشن میں اس کی باڈی لیگوئج کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اچھی باڈی لینگوئج اس کے کارکنوں میں جوش ،امید اور جذبہ پیدا کرتی ہے جبکہ کسی بھی لیڈر کی کمزور باڈی لینگوئج اس کےکارکنوں کو کوئی اچھا پیغام نہیں دیتی۔
مبصرین کے بقول میاں نواز شریف کے چہرے کے دکھ بھرے حالیہ مناظر ملک میں کئی جگہ نوٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق لگتا یہ ہے کہ نواز شریف جن توقعات کو لے کر لندن سے آئے تھے، وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ ”پاکستان کو نواز دو ‘‘ کے نعرے کے ساتھ انتخابی مہم میں ان کو استعمال کرکے کامیابی کے بعد ان کو چوتھی مرتبہ وزیر اعظم نہیں بنایا گیا۔ شاید ان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ شہباز شریف کے مقابلے میں ان کے اتحادیوں، اسٹیبلشمنٹ اور ان کی پارٹی کے کچھ افراد کے نزدیک نواز شریف کو زیادہ قبولیت حاصل نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میاں محمد نواز شریف پر ‘کراس لگانے والوں‘ میں کچھ بیرونی طاقتیں بھی شامل ہیں۔ ‘‘اس ساری صورت حال نے یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ نواز شریف بنیادی فیصلہ سازی سے باہر ہو چکے ہیں۔ ان کا دور گزر چکا ہے، سبھی ہجوم اب اپنے چہرے چڑھتے سورج کی طرف کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے نواز شریف اب دکھی اور غمگین دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
تاہم دوسری جانب نون لیگ کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ایسی تمام قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف پنجاب کودیکھ رہے ہیں اور پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں۔ اب بھی اہم فیصلے نوازشریف ہی کرتے ہیں اور کابینہ بھی ان ہی کی مشاورت سے ہی بنی۔‘قائد مسلم لیگ ن اس صورت حال میں نہیں جانا چاہتے تھے کہ وہ وزیراعظم اور شہباز وزیراعلی بنتے۔ انہوں نے جو فیصلہ کیا درست کیا، والدین اس عمر میں اپنی اولاد کا ہی سوچتے ہیں۔‘ نوازشریف کوجان بوجھ کر مائنس کرنے والی بات درست نہیں، وہ آج بھی ہمارے لیڈر ہیں۔‘
دوسری طرف سینئر تجزیہ کار سلمان عابد کے مطابق یہ درست ہے کہ آج کل میاں نواز شریف کی باڈی لینگوئج ان کی روایتی شخصیت کا ساتھ نہیں دے پا رہی اور وہ اپنے ‘دکھ درد‘ کو کوشش کر کے بھی چھپانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ کیونکہ ایک تو نواز شریف کو پی ٹی آئی کے مقابلے میں وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ دوسرانواز شریف کو اپنے مزاج کے خلاف سمجھوتے کی سیاست کرنا پڑ رہی ہے۔ اس ساری صورت حال میں اب وہ خاموشی کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘
دوسری جانب نواز شریف کے قریبی رفیق کار اور مسلم لیگ ن کے رہنما عرفان صدیقی کے مطابق نواز شریف کی خاموشی بارے تمام قیاس آرائیاں اور افواہیں بے بنیاد ہیں، نواز شریف کی متعلقیت اب بھی قائم ہے۔ شریف فیملی اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں انہی کے پاس ویٹو پاور ہے، مستقبل کے اہم فیصلے بھی انہی کی مرضی سے ہوں گے۔ ان کی سفارش پر ہی شہباز شریف وزیر اعظم اور مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب بنے ہیں۔ ان کی عمر اور صحت کی صورت حال ایسی ہے کہ وہ جلسوں، گلیوں اور سڑکوں کی سیاست نہیں کرنا چاہتے اور اسی لیے اب وہ اپنے نئے رول میں رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
عرفان صدیقی کے مطابق نواز شرف پاکستان آنے سے پہلے ہی شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ”اصل بات یہ ہے کہ والد، والدہ اور اہلیہ کی وفات کے صدمات سے وہ ابھی تک باہر نہیں نکل سکے۔ یہ صدمات جن حالات میں انہوں نے جھیلے، خاص طور پر اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر گرفتاری کے لیے پاکستان چلے آنا اور مرحومہ کے آخری لمحات میں ان کو اپنی اہلیہ کی بیمار پرسی کے لیے ٹیلی فون کرنے تک کی اجازت بھی نہ ملنا، نواز شریف ابھی تک یہ سب کچھ بھول نہیں پائے۔ اسی طرح ترقی کرتا ہوا ملک پاکستان پچھلے چند سالوں میں جن مسائل کا شکار ہوا، وہ بھی نواز شریف کے لیے بڑی تشویش کی بات ہے۔‘‘
