منی لانڈرنگ کیس ، شہباز شریف خاندان کیخلاف وعدہ معاف گواہ کا بیان سامنے آگیا

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں وعدہ معاف گواہ یاسرمشتاق کا بیان منظر عام پر آگیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے خاندان کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس کے وعدہ معاف گواہ کی طرف سے اپنے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2014 میں شریف خاندان کے سی ایف او محمد عثمان نے ان سے رابطہ کیا، مسلم لیگ ن کے صدر کے صاحبزادے سلیمان شہباز کے 60 کروڑ وائٹ کرانے کےلیے ہم سے رابطہ کیا گیا، ہماری طرف سے سی ایف او کو بتایا گیا کہ یہ رقم وائٹ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں، جس پر سی ایف او نے بتایا کہ ٹی ٹیز کےلیے مشتاق اینڈ کمپنی کا اکاؤنٹ استعمال کریں گے، ہم نے پرانے کاروباری تعلقات ہونے کے باعث اپنی کمپنی کا اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی، کیوں کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کا بیٹا ہونے کے باعث ہمارے لیے سلیمان شہباز کو انکار کرنا ناممکن تھا۔
یاسر مشتاق نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ بیرون ملک سے 21 کروڑ روپے ہماری کمپنی کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے، جیسے ہی باہر سے رقم آتی تھی ہم اس کا چیک بناکر محمد عثمان کو دے دیتے تھے، اس کے بعد عثمان کے ہی کہنے پر ہم نے ایک اور بینک اکاؤنٹ بھی کھلوایا، اسی برانچ میں سلیمان شہباز کا ایک اکاؤنٹ پہلے سے ہی موجود تھا، اس اکاؤنٹ میں 29 کروڑ روپے کی ٹی ٹی لگوائی گئی، شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے اپنے ایک ملازم طاہر نقوی کے نام پر وقار ٹریڈنگ کمپنی بنائی، اس اکاؤنٹ سے 10 کروڑ روپے مشتاق اینڈ کمپنی کے نام منتقل کیے گئے۔
اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس میں نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا حکم بھی دیا جا چکا ہے، احتساب عدالت کی طرف سے منی لانڈرنگ ریفرنس کے حوالے سے محفوظ ہونے والا فیصلہ سنادیا گیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کی حاضری کی معافی کی درخواست مسترد کردی، اپنے فیصلے میں عدالت نے نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا حکم دے دیا۔
