منی لانڈرنگ کیس: حمزہ شہباز کوٹ لکھپت جیل سے رہا

لاہور احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا۔
منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر مل کیس میں گرفتار حمزہ شہباز گزشتہ 20 ماہ سے جیل میں قید تھے۔ احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج اکمل خان نے اپوزیشن لیڈر کی دونوں کیس میں رہائی کی روبکار جاری کی۔ عدالت نے ضمانتی مچلکوں کی جانچ پڑتال کے بعد روبکار جاری کی۔ روبکاری متن میں تھا کہ حمزہ شہباز اگر کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو جیل سے رہا کر دیا جائے۔ روبکاری متن میں کہا گیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کی تھی اور رمضان شوگر مل کیس میں احتساب عدالت پہلے ہی اپوزیشن لیڈر کی روبکار جاری کر چکی ہے۔ احتساب عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ حمزہ شہباز کے ضمانتی مچلکے منظور کیے جاتے ہیں اور اگر کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔ عدالت نے حمزہ شہباز کو 4 مارچ کو کیس کی سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ بعدازاں جیل حکام کی جانب سے روبکار کی جانچ پڑتال کے بعد حمزہ شہباز کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اورکارکنوں کی بڑی تعداد کوٹ لکھپت جیل کے باہر جمع ہوگئی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پر رہائی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ جیل کی سلاخیں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے اور آج پوری قوم نے احتساب کے تماشے کا منطقی انجام دیکھ لیا۔
لاہور میں رہائی کے بعد کارکنوں سے خطاب کے دوران انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ کبھی کسی نے ایسا لیڈر دیکھا جو اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام کر جیل چلا گیا اور وزیر اعظم عمران خان نیازی کے انتقام کا سامنا کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو تقریباً 3 سال مکمل ہونے کے آئے ہیں، یہ ایک جعلی حکومت ہے۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ 3 برس بدترین سیاسی انتقام کے باوجود حکومت نواز شریف اور شریف خاندان کے خلاف ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کرسکی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندے روز ٹی وی شوز میں بیٹھ کر پیپر لہرا کر کہتے ہیں کہ ثبوت مل گئے، دراصل وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تو اس کا غصہ عوام پر نکلا اور گزشتہ 6 ہفتوں سے دال، چینی، آٹا و دیگر اشیا کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہی ہورہا ہے۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ ایک طرف مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر مفروضوں پر مبنی الزامات لگاتے ہیں اور دوسری طرف دن کی روشی میں اٹا اور چینی چور پکڑے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جتنی قربانی دینی پڑی دیں گے لیکن اب تمہارا (وزیر اعظم عمرا خان ) کا یو م حساب شروع ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں نوشہرہ کے لوگوں نے حکومت کا دہرا معیار مسترد کردیا جو اس بات کی عکاسی ہے کہ نواز شریف نہیں بلکہ عمران خان چور ہے۔
حمزہ شہباز نے مسلم لیگ (ن) کے دور اقتدار میں مکمل ہونے والے منصوبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ موجودہ حکومت نے کوئی ایک منصوبہ بنایا ہو۔انہوں نے کہا کہ بنی گالہ میں بیٹھ کر غریب کی جھونپڑی گرادینے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی 24 فروری کو کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں11 جون 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ 84 روز تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں بھی رہے تھے۔ انہوں نے اس سے قبل بھی ضمانت کی درخواست کی تھی تاہم 11 فروری 2020 کو لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کردی تھی جب کہ 22 جنوری 2021 کو سپریم کورٹ نے بھی درخواست واپس لینے کی بنیاد نمٹا دی تھی۔
خیال رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ بعد ازاں 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کےلیے منظور کیا تھا۔ ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کےلیے کوئی وسائل نہیں تھے۔ اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کےلیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔ اس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔ مذکورہ ریفرنس میں شہباز شریف ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف سمیت 10 ملزمان پر 11 نومبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button