مولانافضل الرحمن کی جارحانہ سیاست ان کے گلے کیسے پڑی؟

اقتدار کے لالچ میں ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلامی دینے والے مولانا فضل الرحمن کا الیکشن میں ناکامی کے بعد سیاسی ساکھ کا جنازہ نکل چکا ہے۔ انتخابات میں مایوس کن کارکردگی دکھانے کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور اپنا مول بڑھانے کیلئے مولانا نے ماضی کے برعکس جارحانہ رویہ اپنایا تاہم مولانا کی جارحانہ سیاست جے یو آئی کے سابقہ اتحادیوں کو ایک آنکھ نہ بائی جس کے بعد پہلے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا کا وفاقی حکومت میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ بعد میں بلوچستان میں بھی مولانا کے بغیر اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد مولانا اپنی جارحانہ سیاست کی وجہ سے اقتدار کے ایوانوں سے مکمل آوٹ ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ انتخابات میں منقسم مینڈیٹ ملنے کی وجہ سے قومی اسمبلی میں پہنچنے والے ارکان کا تعلق 14 مختلف جماعتوں سے ہے۔حکومتی اتحاد میں ممکنہ طور پر 6 جماعتیں شامل ہوں گی جبکہ 8 پارٹیاں حزب اختلاف میں بیٹھیں گی۔نئی حکومت نہ تو قومی حکومت ہو گی اور نہ ہی اسے اکثریتی جماعتوں کی حکومت کہا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات نے کچھ روایتی سیاسی حریفوں کے درمیان فاصلوں کو کم کر دیا ہے، تو کچھ روایتی اتحادیوں کے درمیان فاصلوں کو بڑھا دیا ہے۔انتخابات سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کی پارٹی کے درمیان گفتگو ہو گی مگر انتخابات کے بعد یہ انہونی بھی ہوتے ہوئے دیکھی گئی جبکہ دوسری طرف ہمیشہ اقتدار کی سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمن کو عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے ملاقات کر کے انہیں مل کر حکومت بنانے کی پیشکش کی، مگر جے یو آئی کے سربراہ نے ان کی توقعات کے برعکس جواب دیتے ہوئے، اپوزیشن میں بیٹھنے کا عندیہ دیا تھا۔
جس کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے طویل مشاورت کے بعد حکومت بنانے اور پاور شیئرنگ کے فارمولے کو حتمی شکل دی اور مولانا کو وفاقی حکومت سے مکمل مائنس کرنے دیا۔ بعد ازاں 21 فروری کو جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا غفور حیدری نے جے یو آئی کے وفد کے ساتھ مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ جے یو آئی اور ن لیگ کم ازکم بلوچستان میں مل کر حکومت بنا سکتی ہیں۔ اس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم تو چاہتے تھے کہ مل کر چلا جائے لیکن مولانا آپ نے بہت دیر کر دی۔
مذہبی جماعتوں کو عرصہ دراز سے کور کرنے والے سینئر صحافی سبوخ سید کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ابتدا میں جارحانہ انداز اس لیے اختیار کیا تھا تاکہ ان کی کچھ سیٹوں میں اضافہ ہو سکے کیونکہ اس وقت ان کے بیٹے سمیت کچھ نشستوں کے نتائج آنا باقی تھے ۔انہوں نے کہا،”میرا خیال یہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے پریشر کی پالیسی اس لیے بھی اختیار کی کیونکہ انہیں ن لیگ سے بھی شکایتیں تھی۔ مولانا فضل الرحمان خود کوئی وزارت نہیں لینا چاہتے۔ ان کی خواہش صدر پاکستان کے عہدے کی تھی مگر دونوں جماعتوں نے مولانا سے ہاتھ کرتے ہوئے اپنا فیصلہ کر لیا میں سمجھتا ہوں کے مولانا کی سیاسی چال ان کو فائدہ نہیں دے پائی۔”
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بار مسلم لیگ نواز کے لیے محمود خان اچکزئی، اختر مینگل، ڈاکٹر مالک بلوچ کو بھی راضی کرنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ بلوچستان میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں۔
دوسری طرف نون لیگ نہ صرف حکومت بنانے کے عمل میں مصروف ہے بلکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاق اور صوبہ بلوچستان، پنجاب میں حکومت سازی اور چاروں صوبوں میں وفاقی حکومت کے اختیارات میں آئینی عہدوں کی تقسیم کا معاہدہ بھی کر چکی ہے۔ اس کے بعدنون لیگ کے پاس پرانے اتحادیوں کو اپنے حصے کے عہدے دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ14 جماعتیں انتخاب جیت کر قومی اسمبلی میں پہنچی ہیں جن میں پی ٹی آئی کی سپورٹ سے جیت کر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے اراکین بھی شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں پہنچنے والی 14 جماعتوں میں سے اس وقت تک 6 جماعتیں مرکز میں مل کر حکومت بنانے کا اعلان کر چکی ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق قومی اسمبلی میں ایک نشست جیتنے والی مسلم لیگ ضیا بھی حکومتی اتحاد کا حصہ بن سکتی ہے مگر اس پر پیپلزپارٹی کے اعتراض کے بعد ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہو سکتی ہے اور لوگ یہ کہ سکتے ہیں کہ پیپلزپارٹی جس ضیا الحق کو اپنی بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کا قاتل سمجھتی ہے ان کے نام سے بنی پارٹی کےساتھ پیپلزپارٹی کے ارکان بھی حکومتی بینچز پر بیٹھ گئے ہیں۔ اگر اعجاز الحق کے حکومتی اتحاد میں بیٹھنے پر پیپلزپارٹی نے اعتراض کیا اور اعجاز الحق اپوزیشن میں بیٹھ گئے تو حکومتی اتحاد سے زیادہ تعداد اپوزیشن میں شامل پارٹیوں کی ہو گی۔
جے یو آئی (ف) بی این پی مینگل، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی ماضی میں بننے والی ن لیگ کی بیشتر حکومتوں میں اتحادی رہ چکی ہیں، یہ پانچ سیاسی جماعتیں اگرحکومتی اتحاد کا حصہ نہیں بنتیں تو حکومتی اتحاد میں شامل پارٹیوں سے زیادہ تعداد اپوزیشن میں شامل پارٹیوں کی ہو جائے گی۔جس سے نئی حکومت قومی حکومت کا تاثر نہیں دے پائے گی اور اس حکومت کو ملک کی اکثریتی پارٹیوں کی حکومت بھی نہیں کہا جا سکے گا۔
