جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ دراصل کرپشن کا اقرار جرم ہے؟

سینئر صحافی مزمل سہروری نے کہا ھے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی شروع ھونے پر استعفیٰ دے دیا ہے اس طرح استعفیٰ صرف احتساب سے بچنے کے لیے دیا جاتا ہے جو اقرار جرم کے مانند ہے۔ آپ اقرار کرتے ہیں کہ آپ کے خلاف ثبوت درست ہیں لیکن آپ کارروائی سے بچنے کے لیے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔اس طرح استعفیٰ دینا کافی نہیں جو جرم ہوا ہے، جو کرپشن ہوئی ہے، جو مس کنڈکٹ ہوا ہے اس کی سزا ملنی چاہیے۔ اس طرح استعفیٰ دینا کافی نہیں ہے۔ اپنی ایک تحریر میں مزمل سہروری بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں سپریم جوڈیشل کونسل کو جج کے مستعفی ہونے کے بعد بھی کارروائی جاری رکھنے کا اختیار دے دیا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کا ہی ایک فیصلہ موجود تھا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل کو جج کے مستعفی ہونے کے بعد کارروائی سے روک دیا گیا ہوا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ سے جب بھی کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا آغاز ہوتا اور وہ دیکھتا کہ فیصلہ اس کے خلاف آنے والا ہے تو وہ مستعفی ہو جاتا جس کے بعد کارروائی روک دی جاتی۔ یہ تو باعزت فرار کا ایک بہترین راستہ تھا کئی جج حضرات نے تمام مراعات لیں۔ کئی مواقع پر تو پنشن بھی مل جاتی تھی، اورکیس بھی ختم۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ وہ جج جب استعفیٰ دے دیتا ہے تو عدلیہ ایک کرپٹ جج سے پاک ہو جاتی ہے۔اس لیے استعفیٰ دینا ایک کافی بڑی سزا ہے تاہم یہ کافی کمزور دلیل ہے۔ جج پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مس کنڈکٹ اور کرپشن کی بھی آزادی نہیں ہونی چاہیے۔ جج پر ایک احتساب کا نظام ہونا چاہیے اور احتساب کا یہ نظام لولا لنگڑا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک استعفیٰ کے بعد ختم ہی ہوجائے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشانات ہیں۔ کئی دہائیوں سے پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کوئی کارکردگی ہی نہیں ہے۔ جیسے سپریم کورٹ میں کبھی فل کورٹ نہیں ہوا تھا۔ ایسے ہی سپریم جوڈیشل کونسل بھی عملی طور پر معطل ہی رہی ہے۔
مزمل سہروری کے مطابق
ججز کو احتساب کے معاملہ میں مقدس گائے نہیں ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ جج کو ایک خاص تحفظ ہوتا ہے تا کہ وہ آزادی سے کام کر سکے۔ لیکن کرپشن اور مس کنڈکٹ کی آزادی نہیں دی جا سکتی۔ شتر بے مہار تحفظ نے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ججز نے خود کو قانون اور آئین سے مبرا سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ انھیں ایک خاص احساس ہو گیا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ان میں ایک خاص طاقت ہے جس کے سامنے سب بے بس ہیں۔ اب جسٹس مظاہر علی نقوی کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں۔ یہ سب تنازعہ ان کے استعفیٰ سے شروع ہوا ہے۔ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایات آئیں۔ پہلے تو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے دور میں ان شکایات پر کوئی کارروائی ہی نہیں کی۔ بلکہ انھوں نے ان شکایات کے موصول ہونے کے کئی ماہ تک سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہی نہیں بلایا۔ اب یہ سپریم جوڈیشل کونسل کاسب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وہاں اگر شکایت آبھی جائے تو پہلے اجلاس ہی نہیں بلایا جاتا تھا۔اس طرح شکایت پڑی پڑی ختم ہو جاتی تھی۔ جج ریٹائر ہو جاتا تھا لیکن اجلاس نہیں بلایا جاتا۔ جسٹس مظاہر علی نقوی کے معاملہ میں بھی سابق چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کئی ماہ اجلاس نہیں بلایا اور سب خاموش رہے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی سابق چیف جسٹس عمر عطا ء بندیال کے دور میں چاہتے تھے کہ اجلاس بلایا جائے۔ لیکن پھر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب اجلاس بلا لیا تو انھیں اجلاس بلانے پر بھی اعتراض تھا۔
مزمل سہروری بتاتے ہیں کہ جسٹس مظاہر علی نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اور تحقیقات کے دوران ہی استعفیٰ دے دیا اور یہ قانونی دفاع لے لیا کہ اب جب انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے تو قانون کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل مستعفی جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔ صاف نظر آرہا تھا کہ انھوں نے تحقیقات کو روکنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے کمیشن کے ممبران پر اعتراض کیا پھر بنچ پر اعتراض کیا۔ سارے اعتراضات کا ایک ہی مقصد نظرآ رہا تھا کہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری تحقیقات منطقی انجام تک نہ پہنچ سکیں۔جسٹس مظاہر علی نقوی کی اس دلیل کو درست نہیں سمجھا جا سکتا کہ جج اپنی ساکھ کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے بھی مستعفیٰ ہو سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے استعفیٰ کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ اس نے تحقیقات کو روکنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ساکھ کے نقصان کی وجہ سے جج کام جاری نہیں رکھنا چاہتے تو تحقیقات کے مکمل ہونے اور کلین چٹ ملنے کے بعد بھی استعفیٰ دے سکتے ہیں۔لیکن ساکھ کو بنیاد بنا کر تحقیقات کو روکنا کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ھے۔ سپریم جوڈیشل کونسل جب کسی جج کے خلاف تحقیقات پر کسی نتیجہ پر پہنچ جائے تو سزا سے صرف جج کو نکالنا کافی نہیں بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ کیس بھی چلنا چاہیے۔ اب اگر کرپشن کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔ آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ثابت ہو گیا ہے تو نیب میں کیس کیوں نہیں بھیجا جا سکتا۔ جج کے خلاف ریفرنس کیوں نہیں آسکتا۔ جج کا احتساب تو زیادہ سخت ہونا چاہیے۔ جج کی معافی تو نا ممکن ہونی چاہیے۔ تا کہ ڈر زیادہ رہے کہ بچنا ناممکن ہے۔

Back to top button