مولانا طارق جمیل نے اپنا ملبوسات کا برانڈ لانچ کر دیا

معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے بالآخر کراچی میں اپنے ملبوسات کے برانڈ ‘ایم ٹی جے’ کے پہلے فلیگ شپ اسٹور کا طارق روڈ پر افتتاح کردیا ہے۔
یاد رہے کہ مولانا طارق جمیل نے رواں ماہ اپریل کے اوائل میں نے اپنے نام سے شروع کیے جانے والا ملبوسات کا برانڈ ‘ایم ٹی جے’ متعارف کروایا تھا، ایم ٹی جے، ملبوسات کو نجی کلاتھنگ برانڈ ڈائنرز کے اشتراک سے متعارف کیا گیا ہے۔ کراچی کے معروف علاقے طارق روڈ پر ‘ایم ٹی جے ‘ کے پہلے اسٹور کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا نے اسکی کامیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کروائی۔ اسٹور میں موجود تمام ملبوسات مشرقی طرز کے ہیں، جن میں فارمل، عروسی، سلے، ان سلے، غرضیکہ ہر طرح کے ملبوسات دستیاب ہیں۔
اسکے علاوہ ایم ٹی جے کی جانب سے کپڑوں کے علاوہ جوتے اور پرفیومز بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔ مولانا طارق جمیل کے برانڈ کی مصنوعات کی قیمتیں عام مارکیٹ سے مطابقت رکھتے ہوئے 2 ہزار سے 5 ہزار روپے کے درمیان ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ایم ٹی جے برانڈ کی افتتاحی تقریب کراچی میں واقع تاریخی موہٹہ پیلس میں 3 اپریل کو منعقد ہوئی تھی۔ اس موقع پر معروف اینکر اور میزبان وسیم بادامی اور نورالحسن نے تقریب کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیے۔ ایونٹ کا آغاز تلاوت سے کیا گیا جس کے بعد قومی ترانہ بھی پڑھا گیا پھر عالمی شہرت یافتہ قوال اور گلوکار استاد راحت فتح علی خان نے حمد باری تعالیٰ ‘وہی خدا ہے’ پڑھی۔ ایم ٹی جے برانڈ کی لانچنگ کے موقع پر شفقت امانت علی نے اسما الحسنیٰ پڑھے جب کہ شاز خان نے نعتِ رسول مقبولﷺ پڑھی۔ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا بھی مولانا طارق جمیل کے برانڈ کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے اور وزیراعظم عمران خان کی مبارکباد پہنچائی ۔ بعدازاں مولانا طارق جمیل نے دعا کرائی اور اپنے بیان میں کہا کہ ان کی تجارت کا مقصد اپنے مدارس کو چلانا ہے تاکہ ان کا انحصار زکوٰۃ پر نہ ہو۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے مولانا طارق جمیل کی جانب سے کپڑوں کا فیشن برانڈ شروع کرنے کی خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر ان سے یہ سوال پوچھا جانے لگا تھا کہ کیا آپ اس کاروبار کے ساتھ دین کی تبلیغ کا کام بھی جاری رکھیں گے یا نہیں۔ بعد ازاں طارق جمیل نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ اپنی مذہبی سرگرمیوں، خاص کر مدرسے چلانے کےلیے کاروبار کرنے کا بہت عرصے سے سوچ رہے تھے۔ تاہم اب کووڈ 19 کے باعث انہیں اپنی اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ’برصغیر میں علما کا کاروبار کرنا یا تجارت کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات پتا نہیں یہاں کہاں سے آ گئی ہے۔‘
جہاں بہت سارے لوگ طارق جمیل کے اس فیصلے پر انہیں مبارکباد دے رہے ہیں اور ان کےلیے دعا گو ہیں وہیں ان کے ناقدین بھی میدان میں اتر آئے ہیں اور اب یہ بحث شروع ہے کہ کیا کسی مذہبی اسکالر کے کاروبار کرنے پر اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایسے بہت سارے نام نہاد علماء دین بھی ہیں جنہوں نے ساری زندگی مذہب کو بیچ کر اپنی جیبیں بھری ہیں۔ تاہم مولانا کے حمایتی اس تائثر کو سختی سے رد کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی تبلیغی جماعت کے پلیٹ فارم کو مال بنانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ مولانا طارق جمیل کے بارے ایک سیاسی مولوی ہونے کا تاثر ہے چونکہ وہ نواز شریف سے عمران خان تک ہر حکمران کی خوشامد لازمی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دین سے زیادہ دنیاوی معاملات میں دلچسپی لینا بھی ان کے عالم دین ہونے کے تاثر کو خراب کرتا ہے۔ تاہم مولانا کے حمایتی کہتے ہیں کہ یہی تو ان کی شخصیت کی خوبی ہے کہ انہوں نے دین اور دنیا کے معاملات میں بیلنس برقرار رکھا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button