مولانا طارق جمیل خوشامد کے نئے ریکارڈ قائم کرنے میں مصروف

عموما یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان تبلیغی جماعت سے وابستہ معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل سے متاثر ہیں، تاہم اب مولانا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ خود عمران خان سے متاثر ہیں۔
مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ مجھے آج تک پاکستان کے کسی حکمران نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ہم ملک کی بہتری کیلئے کیا کریں لیکن عمران خان وہ پہلے حکمران ہیں جنہوں نے مجھ سے اس بارے میں رہنمائی مانگی۔ لہذا میں عمران خان کے اس جذبے سے بے انتہا متاثر ہوا۔ تاہم مولانا طارق جمیل نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے عمران خان کو کیا مشورے دئیے اور کیا آج کپتان کا نیا پاکستان جس ابتر صورتحال سے دوچار ہے، یہ ان مشوروں کا نتیجہ تو نہیں؟ خیال رہے کہ مولانا طارق جمیل عمران خان کے برسراقتدار آنے سے پہلے نواز شریف کی تعریفیں کیا کرتے تھے لیکن اب وہ عمران کی خوشامد میں مصروف نظر آتے ہیں۔
مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کہ میں 1992ء سے پاکستان کے ہر حکمران سے ملاقاتیں کر رہا ہوں، لیکن میرے ساتھ جو باتیں عمران نے کیں، آج تک کسی نے نہیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ سابق صدر وسیم سجاد سے لے کر موجودہ وزیراعظم عمران خان تک تمام حکمرانوں سے میری ملاقاتوں کا مقصد انھیں خیر کی باتیں بتانا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ نئے پاکستان کی موجودہ ابتر صورتحال کا ذمہ دار کون ہے تو انکا کہنا تھا کہ اس کے لیے کسی ایک جماعت یا فرد کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ مولانا کا یہ موقف تحریک انصاف کے مؤقف سے مختلف نہیں تھا۔
یہ باتیں مولانا نے کامران شاہد کو ان کے یوٹیوب چینل کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے کیں۔ اپنے روایتی خوشامدی لہجے میں مولانا طارق جمیل نے کپتان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے کہا کہ عمران خان بہت خوبصورت خیالات کے مالک ہیں، ایسی سوچ میں نے آج تک کسی حکمران میں نہیں دیکھی۔ تاہم وہ اپنے خیالات کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں یا نہیں، یہ ایک الگ ایشو ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں مولانا طارق جمیل علی ہی فقرہ میاں نواز شریف کے بارے میں بھی کہہ چکے ہیں جب وہ وزیراعظم ہوا کرتے تھے اور اور موصوف ان کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے کے لیے رائیونڈ سے وزیراعظم ہاؤس تک کے چکر لگایا کرتے تھے۔
مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ کسی معاشرے کو نماز کی جانب راغب کرنا یا سچ بولنے کا کہنا ڈنڈے کے زور پر نہیں ہو سکتا۔ یہ نہ تو ایک بندے کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی وہ کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا عمران خان کا بار بار اپنی تقاریر میں ریاست مدینہ کا تصور دینا اور نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں اتنا بیان کرنا، ان تمام باتوں نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ جب وزیراعظم عمران خان کیساتھ میری پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل سیرت النبی ﷺ کیساتھ جڑے، یہ میرے لئے بہت ہی حیران کن بات تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے آج تک کسی حکمران نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ہم ملک کی بہتری کیلئے کیا کریں لیکن عمران خان وہ پہلے حکمران ہیں جنہوں نے مجھ سے کہا کہ اس بارے میری رہنمائی کریں اور بتائیں۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ عمران خان نے مجھے خود بتایا کہ ان کی زندگی اللہ کے نبی ﷺ کی حیات مبارکہ کو پڑھ کر تبدیل ہوئی۔ مجھے تو کی نیت میں کوئی کھوٹ نظر نہیں آتا۔
اس موقع پر کامران شاہد نے پوچھا کہ آپ نے نواز شریف کو کیسا حکمران پایا؟ تو مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میں کسی کے بارے میں برا کمنٹ نہیں دینا چاہتا۔ میں نے عمران کے بارے میں جو بتانا تھا بتا دیا ہے۔ تاہم میزبان کے اصرار پر ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا اخلاق بہت ہی اعلیٰ ہے۔ میں جب بھی ان کیساتھ ملاقات کیلئے گیا، وہ میری گاڑی کے داخل ہونے سے پہلے ہی دروازے پر استقبال کیلئے کھڑے ہوتے تھے۔ اللہ ان کیلئے آسانیاں پیدا کرے کیونکہ یہ سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
