کیا بھارتی فضائیہ نے واقعی پاکستانی ایف 16 گرایا تھا؟


بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے پائلٹ ابھی نندن کو پاکستانی ایف سولہ طیارہ مار گرانے پر ملک کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز دینے کے بعد یہ بحث دوبارہ شروع ہوچکی ہے کہ کیا بھارت کا دعویٰ سچ ہے یا جھوٹ؟
پاکستانی وزارت خارجہ نے انڈین پائلٹ ابھی نندن کی جانب سے ’پاکستانی فضائیہ کا ایف 16 طیارہ مار گرانے‘ کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھینندن کو ’ویر چکرا‘ ایوارڈ دے کر انڈیا نے صرف اپنا ہی مذاق بنوایا ہے۔ واضح رہے کہ انڈین صدر رام ناتھ کووند نے 22 نومبر کو انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو فروری 2019 میں ’پاکستانی فضائیہ کے ایف 16 طیارے کو مار گرانے پر‘ ملک کے ایک بڑے فوجی اعزاز ‘ویر چکرا’ سے نوازا تھا۔ ابھی نندن کو بہادری دکھانے پر ایوارڈ دیے جانے کے بعد پاکستان اور انڈیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان انڈیا کے اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کرتا ہے کہ فروری 2019 میں آزاد کشمیر میں گرفتاری سے قبل انڈین پائلٹ نے ایک پاکستانی ایف سولہ طیارہ مار گرایا تھا۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈین پائلٹ کو اعزاز دیتے وقت کیا جانے والا دعوی جعلسازی اور فرضی قصے کہانیوں کی ایک بہترین ترین مثال ہے جس کا مقصد اپنے عوام کو خوش کرنا اور اپنی رسوائی کو چھپانا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستانی ایف 16 کی تعداد دیکھنے کے بعد عالمی ماہرین اور امریکی حکام پہلے ہی یہ تصدیق کر چکے ہیں اس روز پاکستان کا کوئی ایف 16 طیارہ نہیں گرا تھا۔ لہذا ایک خیالی کارنامے پر اپنے پائلٹ کو بہادر قرار دے کر فوجی اعزاز دینا فوجی اقدار کے ہر معیار کے منافی ہے اور پاکستان میں گرفتار ہونے والے ابھی نندن کو یہ اعزاز دے کر انڈیا نے خود اپنا مذاق اڑایا ہے۔
یاد رہے کہ ابھینندن کو دیے گئے اعزاز کے بارے میں انڈین اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سرینگر میں ‘انڈین کے مگ 21 بائزن سکواڈ’ کے ساتھ وابستہ تھے جب انہیں کچھ پاکستانی طیارے انڈین حدود میں داخل ہوتے ہوئے نظر آئے، چنانچہ ابھی نندن نے اپنے جہاز کو ان سے لڑنے کے لیے اڑایا۔ اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ کس طرح ابھی نندن نے پاکستانی جہاز کا تعاقب کیا اور ایک ایف 16 طیارہ مار گرایا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ‘اسی لڑائی میں دشمن کے ایک اور طیارے نے جدید میزائل فائر کیے جس سے ابھی نندن کے جہاز کو نقصان پہنچا اور اسے پیرا شوٹ کی مدد سے دشمن کے زیر کنٹرول علاقے میں اُترنا پڑا۔
واضح رہے کہ 26 فروری 2019 کو انڈیا نے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں بم گرائے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ جیش محمد کے جہادی کیمپس پر کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ تھا کہ نہ تو یہ حملے کسی کیمپ پر تھے اور نہ ہی اُن میں کوئی ہلاک ہوا۔ اگلے ہی روز پاک فضائیہ کی ایک جوابی کارروائی کے دوران انڈین مگ 21 اڑانے والے ابھی نندن ورتھمان کے جہاز کو نشانہ بنا کر گرا دیا گیا تھا اور ابھینندن کو پاکستانی حدود سے گرفتار کر لیا گیا تھا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہا۔ انڈین حکام نے واقعے کے بعد مسلسل یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ مار گرایا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی مگ 21 طیارے نے کسی ایف 16 طیارے کو تباہ کیا ہو۔
واضح رہے کہ مگ 21 ایک پرانا جنگی طیارہ ہے اور ایف 16 کے مقابلے میں اس کی جنگی صلاحیت کہیں کم ہے۔
اس واقعے کے وقت ابھینندن ورتھمان ونگ کمانڈر تھے لیکن انھیں اگست 2019 میں ویر چکرا سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 فروری 2019 کو پاکستانی فضائیہ نے دن کے اجالے میں دو انڈین طیارے مار گرائے تھے جن میں ایک بھارتی ’مِگ۔21‘ بائیسن طیارہ تھا جو آزاد کشمیر میں گرا تھا۔
’طیارے سے باہر چھلانگ لگانے والے پائلٹ کو پاکستان نے گرفتار کر لیا تھا اور بعدازاں خیرسگالی کے جذبے کے تحت رہا کیا تھا۔ پاک فضائیہ نے دوسرا انڈین طیارہ ’ایس یو 30‘ مار گرایا تھا جو ’ایل او سی‘ کی دوسری طرف جا کر گرا تھا۔ اسی روز افراتفری میں انڈین فوج نے سرینگر کے قریب اپنا ہی ’ایم آئی 17‘ ہیلی کاپٹر بھینمار گرایا تھا جس کے بارے میں ابتدا میں انڈیا نے انکار کیا لیکن بعد میں تسلیم کر لیا تھا۔۔۔‘
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ’عالمی برادری کے سامنے انڈیا کی پاکستانی ایف 16 مار گرانے کی من گھڑت کہانی کی کوئی ساکھ نہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے حال ہی میں ابھی نندن کو ترقی دے کر ونگ کمانڈر سے گروپ کپٹین بنا دیا ہے۔
لیکن ابھی نندن کو اعلیٰ ترین فوجی اعزاز دیے جانے کے بعد ایک بار پھر اس بحث کا آغاز ہو گیا ہے کہ کیا واقعی بھارت نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا تھا۔ انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین نے ابھینندن کی ’جرات اور بہادری‘ کو سراہتے ہوئے داد دی تو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اس ’اعزاز کی حقیقت‘ اور انڈین دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پاکستانی سوشل صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر واقعی طیارہ گرایا گیا تھا تو اس کا ملبہ کہاں گیا؟ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’ابھی نندن دل ہی دل میں سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو، میں نے کیا کیا ہے۔‘
ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے بھی ٹویٹر پر اپنے تبصرے میں لکھا کہ آج ایک انڈین پائلٹ کو ایک ایسا طیارہ گرانے پر فوجی اعزاز سے نوازا گیا جس سے متلعق امریکی حکام کہہ چکے ہیں کہ ایسا ہوا ہی نہیں۔ اس ٹویٹ کے جواب میں ایک انڈین صارف مانو کالیا نے لکھا کہ امریکہ اپنے ملڑی انڈسٹریل کمپلیکس کی وجہ سے اور کہہ بھی کیا سکتا تھا۔ مانو نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کی جانب سے بھی تو دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک نہیں بلکہ دو انڈین طیارے گرائے گئے ہیں اور دو پائلٹ گرفتار ہوئے ہیں لیکن بعد میں اس دعوے سے پیچھے ہٹا گیا۔
یاد رہے کہ معروف امریکی جریدے فارن پالیسی کی جانب سے اپریل 2019 میں کہا گیا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ مِگ 21 بائزن اڑانے والے ابھی نندن نے پاکستانی ایف 16 طیارے کو نشانے پر لیا ہو اور حقیقی طور پر یہ خیال کیا ہو کہ انھوں نے طیارہ مار گرایا ہے۔ لیکن پاکستان میں امریکی حکام کی جانب سے کی جانے والی گنتی نئی دلی کے بیانات پر سوالیہ نشان تھی اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ شاید انڈین حکام نے اس دن رونما ہونے واقعات کے بارے میں غیر ملکی برادری کو گمراہ کیا تھا۔ جریدے کا کہنا تھا کہ گنتی کے اس عمل کے بارے میں معلومات رکھنے والے سینیئر امریکی دفاعی عہدیدار کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو دعوت دی تھی کہ اس کے حکام خود آ کر ایف 16 طیاروں کی گنتی کریں۔ عموماً اس قسم کے معاہدوں میں امریکہ کی شرط ہوتی ہے کہ خریدنے والا ملک امریکی حکام کی جانب سے سازوسامان کا باقاعدگی سے معائنہ کروائے تاکہ سازوسامان کی گنتی اور حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
فارن پالیسی میگزین کے مطابق شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے ایف 16 طیاروں نے انڈین طیاروں سے جھڑپ میں حصہ لیا تھا۔ امریکہ میں بنے اے آئی ایم 20 میزائل کے باقیات جائے وقوعہ کے پاس سے ملے اور فارن پالیسی جریدے کے مطابق جنگ میں حصہ لینے والے تمام طیاروں میں سے صرف ایف 16 طیارہ ہی ایسا میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستانی فوج کے اس وقت کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کی جانب سے امریکی جریدے کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ‘یہی پاکستان کا موقف بھی رہا ہے اور یہی سچ ہے۔’

Back to top button