مولانا عبدالعزیزحکومت سے کئے گئے معاہدے سے پھر مکر گئے

لال مسجد کے سابقہ خطاب مولانا عبدالعزیز ایک بار پھر اپنے وعدے اور معاہدے سے مکرتے نظر آتے ہیں۔ مختلف مراعات کے بدلے پرامن رہنے کا وعدہ کرنے والے مولانا عبدالعزیز نےاسلام آباد میں لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے ایک قریبی ساتھی کی گمشدگی کا الزام سیکیورٹی اداروں پر عائد کرتے ہوئے حکومت سے کئے جانے والے مبینہ معاہدے کو توڑنے کا عندیہ دے دیا ہے جس کے بعد ایک بار پھرعلاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لال مسجد کا گھیراؤ کر لیا ہے۔
لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ کے بعد اب مولانا عبدالعزیز نے اپنی اہلیہ ام حسان کے ہمراہ اسلام آباد میں قائم مدرسہ جامعہ فریدیہ کا انتظامی کنٹرول بھی بزور بازو سنبھال رکھا ہے اور وہاں تعمیراتی کام بھی شروع کیا ہوا ہے لیکن حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب مینہ طور پر مولانا عبدالعزیز کے قریبی ساتھی مولانا محمد ادریس اچانک لاپتہ ہو گئے۔ جس پر مولانا عبدالعزیز کی طرف سے الزام عائد کیا گیا کہ ان کے قریبی ساتھی کی گمشدگی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ملوث ہیں اور وہ اپنے ساتھی کو بازیاب کروا کر رہیں گے۔ علاقے میں کشیدگی میں اضافے کے پیش نظراسپیشل برانچ کی جانب سے شہری انتظامیہ اور پولیس کو متنبہ کیا گیا کہ خطیب حکومت کے ساتھ کیا گیا حالیہ معاہدہ توڑ کر واپس لال مسجد آنے کی کوشش کرسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے ان کے داخلے کو روکنے کے لیے مسجد کو ایک مرتبہ پھر گھیرے میں لے لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کے قریبی ساتھی مولانا ادریس 15 جولائی کو جامعہ فریدیہ کے باہر سے لاپتا ہوگئے تھے جہاں وہ اپنے زیر نگرانی تعمیراتی کام کروا رہے تھے۔ گمشدگی کے بعد مولانا عبدالعزیز کی جانب سے حکومت کو بھجوائے جانے والے ایک پیغام میں حکومت کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے کو توڑنے کی دھمکی دی گئی جس کے تحت وہ 2 ماہ سے لال مسجد کو چھوڑ چکے تھے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل علما کے ایک گروپ کے ذریعے حکومت اور مولانا عبدالعزیز کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت مولانا عبدالعزیز چندمراعات کے بدلے لال مسجد کو چھوڑ دیا تھا بعد ازاں وہ جامعہ فریدیہ پر قبضہ کر کے وہان شفٹ ہو گئے تھے
دوسری طرف مولانا عبدالعزیز کی طرف سے معاہدہ توڑنے کی دھمکی کے بعد اسپیشل برانچ کی جانب سے انتظامیہ اور پولیس کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اقدامات کریں تاکہ مولانا عبدالعزیز دوبارہ لال مسجد نہ آسکیں۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی فورس اور انسداد فساد یونٹ سمیت پولیس کے مکمل طور پر متعلقہ سامان سے لیس اہلکار لال مسجد پہنچے اور اس کو گھیرے میں لے لیا جبکہ مسجد روڈ اور میونسپل روڈ کو پولیس نے بلاک کردیا اور واضح کیا ہے کہ اب مولانا عبدالعزیز ان کی اہلیہ یا مدرسے کے طلباء کو جامعہ حفصہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے ہارون رشید کا دعویٰ ہے کہ بغیرکسی الزام اور ایف آئی آر کے مولانا ادریس کو اس وقت محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے اٹھایا گیا جب وہ جامعہ فریدیہ سے واپس آرہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے ردعمل میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان جامعہ حفصہ کی کچھ طالبات کے ہمراہ جامعہ فریدیہ پہنچیں جہاں پر طالبعلموں نے انہیں ایک کمرے میں لاک کردیا اور پولیس کے سینئر افسران کی موجودگی میں جامعہ حفصہ کی طالبات سے موبائل فون چھین لئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں حکومت کے ساتھ کئے گئے کسی معاہدے اور وعدے پر قئم رہنا مشکل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور انتظاامیہ کی طرف سے ان کے گمشدہ ساتھی کی بازیابی کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو حالات کی سنگینی کے ذمہ دار وہ خو ہوں گے۔
واضح رہے کہ یہ پچھلے کچھ عرصے میں تیسری مرتبہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے اسلام آباد کی انتظامیہ کے ساتھ امن معاہدہ کرکے اس کو توڑا ہے۔ اس سے پہلے مولانا عبدالعزیز نے انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 6 جولائی کی شب اسلام آباد میں واقع جامعہ فریدیہ کے پرنسپل مولانا عبدالغفار کو ہٹاتے ہوئے مدرسے پر قبضہ کر لیاتھا اور اعلان کیاتھا کہ مدرسے کے سابق پرنسپل مولانا عبدالغفار کا اب جامعہ فریدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ خود مدرسے کا نظام سنبھالیں گے اور مدرسہ پر بزور بازہ قبضے کو اپنا حق بتایا تھا۔ حکام کے مطابق مولانا عبدالعزیز کی طرف سے مدرسے پر قبضے کا عمل جون میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق معاہدے کے تحت مولانا عبدالعزیز نے اس طرح کی کسی بھی کارروائی کا حصہ نہ بننے کا وعدہ کیا تھا تاہم اب وہ ایک بار پھر اپنے وعدے سے پھرتے نظر آتے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق معاہدے کے تحت مولانا عبدالعزیز 2 ماہ کے لیے اس طرح کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔
