مولانا عبدالعزیز لال مسجد پر قبضہ ختم کرنے سے انکاری
اسلام آباد کی انتظامیہ اور علمائے کرام کی تمام تر کوششوں کے باوجود شدت پسند مولانا عبدالعزیز لال مسجد کا قبضہ چھوڑنے سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے مسجد تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے محاصرے میں ہے.
یاد رہے کے چند روز پیشتر مولانا عبدالعزیز نے ایک معاہدے کے بعد لال مسجد کا قبضہ چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اب وہ اپنے وعدے سے پھر گئے ہیں۔ مسجد کا محاصرہ ختم کرنے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور علما ء اکرام پر مشتمل بارہ رکنی کمیٹی دوبارہ متحرک ہو چکی ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود نہ تو مولانا عبدالعزیز اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں اور نہ ہی پولیس کی طرف سے کیا گیا لال مسجد کا محاصرہ ختم ہو سکاہے.
یاد رہے کہ جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں خون خرابہ کروانے والے مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسام 200 کے قریب خاتون طالب علموں کے ہمراہ مسجد پر قابض ہیں۔ پہلے مولانا کا مطالبہ تھا کہ انہیں لال مسجد کا خطیب مقرر اور ان کے بھتیجے اور مولانا عبدالرشید غازی کے صاحبزادے ہارون رشید کو نائب خطیب مقرر کیا جائے۔ بعد ازاں مولانا اس شرط پر لال مسجد کا قبضہ ختم کرنے پر آمادہ ہو گئے کہ انہیں جامعہ حفصہ کے لئے 10 مرلے کا ایک پلاٹ الاٹ کردیا جائے۔ لیکن پھر نجانے ان کے دماغ میں کیا آیا کہ وہ معاہدے سے مکر گئے جس کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ صورت اختیارکر چکی ہے. مولانا عبدالعزیز اب دو ہفتوں سے زبردستی مسجد پر قابض ہیں اورانھوں نے خود کو خود ساختہ خطیب ڈیکلیئر کردیا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ مسجد میں نماز جمعہ کی امامت بھی کروایئں گے۔۔
دوسری طرف اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے مولانا عبدالعزیزکو لال مسجد خالی کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسجد کے اطراف کی ناکہ بندی کررکھی ہے۔ اس حوالے سے دارالحکومت کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 9 فروری کو مولانا عبدالعزیز سے سمجھوتہ طے پانے کے بعد 12 فروری تک مسجد خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جامعہ حفصہ کیلئے زمین کی الاٹمنٹ کے بدلے لال مسجد خالی کرنے کا سمجھوتہ طے پایا تھا لیکن مولانا عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی جس کے بعد مسجد کو سیل کیا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی فورس، پولیس کمانڈو، رائٹس پولیس اور خواتین اہلکاروں پر مشتمل دستے نے لال مسجد کو اپنے گھیرے میں لیتے ہوئےعلاقے کی ناکہ بندی کررکھی ہے۔ علاوہ ازیں لال مسجد کے اطراف میں میونسپل روڈ، مسجد روڈ، شہید ملت روڈ کے ساتھ ساتھ مسجد کے قریب ہفتہ وار بازار پر بھی پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے مسجد میں داخلہ ممنوع قرار دے رکھا ہے. دوسری طرف مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسام تقریبا دو سو خواتین طالب علموں سمیت لال مسجد کے اندر موجود ہیں جس کی وجہ سے انتظامیہ کسی قسم کا آپریشن کرنے سے بھی قاصر ہے۔ یاد رہے کہ جولائی 2007 میں ایسی ہی صورتحال پیدا ہونے کے بعد مشرف انتظامیہ نے لال مسجد میں آرمی کے ذریعے آپریشن کیا تھا جس میں سو سے زائد شرپسند اور ایس ایس جی کے فوجی کمانڈو جاں بحق ہوگئے تھے۔
