مولانا عبدالعزیز لال مسجد کی خطابت اپنے پاس رکھنے پر بضد

لال مسجد اور جامعہ حفضہ کے معاملات پرمذاکرات کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ لال مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ یہ طے پایا ہے کہ مولانا عبد العزیز جمعے کا خطبہ نہیں دیں گے جبکہ مولانا عبدالعزیز بضد ہیں کہ لال مسجد کی خطابت کا منصب وہ اپنے پاس ہی رکھیں گے۔
لال مسجد انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی کہ مولانا عبدالعزیز جمعے کا خطبہ نہیں دیں گے۔ لال مسجد کی انتظامیہ کے ترجمان ہارون غازی کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے گزشتہ جمعے کا خطبہ بھی دیا تھا اور آئندہ جمعے کا خطبہ بھی مولانا عبدالعزیز ہی دیں گے۔ ہارون غازی کا کہناہے کہ ضلعی انتظامیہ کے مزاکرات میں تسلسل نہیں ہے جس کی وجہ سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو پارہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہناہے کہ مولانا عبدالعزیز کا اصرار ہے کہ وہ ہی مسجد کے خطیب کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ حکومت ان کی جگہ کسی اور کو نامزد کرنا چاہتی ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ حکومت مولانا عبدالعزیز کے مطالبات تسلیم کرلے گی.
تاہم اسلام آباد انتظامیہ نے جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں دس مرلے اراضی فراہم کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ پیر کے روز وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے کی۔
اس سے پہلے سنہ2007 میں لال مسجد آپریشن کے بعد اس سے محلقہ عمارت کو، جہاں پر خواتین کا مدرسہ جامعہ حفصہ واقع تھا، منہدم کیے جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں 20کنال اراضی فراہم کی گئی تھی تاہم متعقلہ حکام نے سپریم کورٹ کے حکم پر یہ پلاٹ منسوخ کر دیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز اور ان کے حمایتوں کے ساتھ دس مرلے اراضی کے حوالے سے مزاکرات کیے جائیں گے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اس پیشکش سے آگے نہیں جائے گی کیونکہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ لال مسجد کی انتظامیہ کو جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے205 مربع فٹ اراضی آلاٹ کی جائے ۔ اہلکار کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ لال مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا جائے گا لیکن لال مسجد کی انتظامیہ کا کوئی ایسا مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا جو خلاف قانون ہو۔ اہلکار کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر لال مسجد انتظامیہ کی طرف سے خلاف قانون کوئی اقدام کیا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
لال مسجد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دس مرلہ اراضی کی پیشکش کو قبول نہیں کریں گے اور تب تک ان کا احتجاج جاری رہے گا جب تک ضلعی انتظامیہ منسوخ کیے جانے والے پلاٹ پر کی گئی تعمیر کی رقم اور اتنے ہی کنال پر محیط اراضی جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے فراہم نہیں کرتی۔
واضح رہے کہ جامعہ حفصہ اسلام آباد کے پرانے سیکٹر جی سِکس میں واقع تھا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جس علاقے میں جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے دس مرلہ اراضی دینے کی پیشکش کی جا رہی ہے وہاں پر آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔
