موٹروے ریپ کا ملزم عابد پولیس کو چوتھی بار چکمہ دے کر فرار

پولیس نے گجرپورہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا لیکن واقعے کو 8 روز گزرنے کے باوجود ملزم اب تک پولیس کے ہاتھ نہ آسکا۔ عابد پولیس کو چوتھی بار چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ترجمان ننکانہ پولیس کے مطابق موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی ننکانہ میں موجودگی کی اطلاع ملنے پر ڈی پی او اسماعیل کھاڑک کی نگرانی میں ایلیٹ فورس اور مختلف تھانوں کی نفری نے دولر والا قبرستان اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کیا گیا لیکن ملزم کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ مرکزی ملزم عابد کی سالی کشور بی بی کا بیان بھی سامنے آگیا ہے، خاتون کے مطابق عابد علی نے اپنا حلیہ مکمل طور پر تبدیل کر لیا ہے، ملاقات کےلیے آیا تو پولیس کو اطلاع دے دی تھی، پولیس پہنچتے ہی فرار ہوگیا۔ بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز پولیس کی جانب سے ننکانہ صاحب میں ملزم کی گرفتاری کےلیے چھاپہ مارا گیا۔ پولیس کو ملزم عابد علی کی اس کی سالی کے گھر موجودگی کی اطلاع ملی، اس کے باوجود پولیس 30 منٹ تاخیر سے وہاں پہنچی۔ ملزم عابد علی اپنی سالی کے ساتھ ایک پارک میں موجود تھا جب پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے جیسے ہی عابد علی پر ہاتھ ڈالا، ملزم اہلکاروں کو دھکا دے کر فرار ہوگیا۔ عابد علی کی سالی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ عابد ننکانہ صاحب کے رائے بلار بھٹی پارک میں میرے ساتھ موجود تھا جب پولیس نے چھاپہ مارا لیکن ملزم پھر بھی فرار ہوگیا۔ میڈیا کو دیے گئے بیان میں ملزم کی سالی کشور بی بی نے بتایا ہے کہ عابد علی نے اپنا حلیہ مکمل طور پر تبدیل کرلیا ہے۔ عابد علی نے کلین شیو کرلی ہے اور اپنی باقی حالت بہت زیادہ خراب کرلی ہے۔ عابد ملاقات کےلیے آیا تو محلے دار کے ذریعے پولیس کو اطلاع دے دی تھی تاہم پولیس پہنچتے ہی عابد فرار ہوگیا۔ اس سے قبل پنجاب پولیس کی بدترین نااہلی کی وجہ سے سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم قصور میں بھی گرفتار ہونے سے بچ گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم قصور کی تحصیل راجہ جنگ میں اپنے رشتے دار کے گھر آئے گا۔ انٹیلی جنس رپورٹ ملنے کے بعد پولیس کے کچھ افسران اور اہلکار عابد علی کے رشتے دار کے گھر جا کر بیٹھ گئے۔
گزشتہ رات عابد علی جب رشتے دار کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو اسے پولیس کی موجودگی کا شک ہوا، ملزم گھر میں داخل ہونے کی بجائے پولیس کے سامنے سے فرار ہوگیا۔ یہ تیسرا موقع تھا جب ملزم پولیس کے سامنے سے فرار ہوا۔ ملزم کے فرار ہونے پر پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور کھیتوں میں کئی گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا گیا، تاہم تب تک ملزم فرار ہوچکا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم عابد کو گرفتار کرنا پولیس کےلیے چیلنج بن گیا ہے۔ پولیس اور حکومت پنجاب کی جانب سے بار بار دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا جائے گا، ملزم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ملزم 4 مرتبہ پولیس کے سامنے سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ ملزم عابد پہلی مرتبہ قلعہ ستار شاہ، پھر ساہیوال، قصور اور اب ننکانہ صاحب میں پولیس کے سامنے فرار ہوگیا۔
یاد رہے کہ ملزم عابد فورٹ عباس بہاولنگر کا رہنے والاہے اور حکام کے مطابق عابد کا ڈی این اے بھی میچ ہوچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے اور اس نے 2013 میں بھی خاتون اور اس کی بیٹی سے زیادتی کے بعد متاثرہ خاندان سے صلح کر لی تھی لیکن جرائم سے باز نہ آیا تو علاقے سے نکال دیا گیا۔ 2013 سے2017 تک زیادتی اور ڈکیتی سمیت دیگر جرائم کے 8 پرچے کٹے اور 8 سال میں کئی مرتبہ گرفتار ہوا مگر ضمانت پر رہا ہو گیا، وہ آخری بار 8 اگست 2020 کو گرفتار ہوا مگر چند دنوں بعد ہی اس کی ضمانت ہوگئی۔
واضح رہے کہ 9ستمبر کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے گجر پورہ کے قریب موٹر وے پر خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق پیٹرول ختم ہونے کے باعث خاتون کی گاڑی بند ہوگئی تھی اور وہ اپنے شوہر کے آنے کا انتظار کررہی تھی جب کہ اس نے موٹر وے پولیس سے بھی مدد طلب کی تھی تاہم اسے کوئی مدد نہ مل سکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button