موٹروے ریپ کیس، ملزم وقار کا سالا بھی گرفتار

لاہور موٹر وے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،13 ستمبر کے روز گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقارالحسن کے بعد اس کے سالے عباس نے بھی گرفتاری دے دی،عباس نے شیخوپورہ میں خود کو پولیس کے حوالے کیا.
خیال رہے کہ لاہور کے تھانہ سی آئی اے ماڈل ٹاون میں گرفتاری پیش کرنے کے بعد ملزم وقار الحسن نے بیان دیا تھا کہ اس کا موٹروے زیادتی کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ میرے نام پر دو سمیں جاری کی گئی ہیں جن میں سے ایک سم میرا سالہ عباس استعمال کرتا ہے جبکہ دوسری سم میرے سسر کے زیر استعمال ہے، میں بے قصور ہوں اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کو تیار ہوں۔ذرائع کے مطابق وقار الحسن نے پولیس کو بتایا کہ اس کا سالہ عباس ملزم عابد سے رابطے میں تھا، عباس نے میرے ساتھ پولیس کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا لیکن وہ جلد ہی اپنی گرفتاری پیش کرے گا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وقار الحسن نے کہا کہ اس کا سالہ عباس مرکزی ملزم عابد کے ساتھ وارداتیں کرتا تھا اور وہ مرکزی ملزم عابد کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ملزم وقار کے بیان کے بعد پولیس عباس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی تھی تاہم 14 ستمبر کے روز عباس نے شیخوپورہ پولیس کو گرفتاری پیش کر دی. پولیس حکام کے مطابق عباس ملزم وقار کے نام پر جاری ہونے والی سم استعمال کررہا تھا،کال ریکارڈ میں سمیں سامنے آنے پر پولیس نے وقار کو حراست میں لینے کی کوششیں شروع کردی تھیں. وقار کی طرف سے اس کے نام سے جاری کردہ سم عباس کے زیر استعمال ہونے کے بیان کے بعد پولیس عباس کی گرفتاری کیلئے کوشاں تھی. گرفتاری کے بعد پولیس کو دئیے گئے بیان میں عباس نے بھی صحت جرم سے انکار کر دیا اور کہا کہ میرا عابد سے کوئی تعلق نہیں،عابد نے مجھے نوکری پرلگوانے کا کہا تھا،میں اور عابداکٹھے کام کرتے تھے. اس کا مزید کہنا تھا کہ اس کا عیدالاضحیٰ کے بعد سے عابد سے کوئی رابطہ نہیں. وہ بالکل بے قصور ہے. اس نے مزید کہا کہ وہ اپنی صفائی کیلئے ہر طرح کا ٹیسٹ دینے کو تیار ہےاور اسے امید ہے کہ پولیس اس کے ساتھ انصاف کرے گی.
دوسری طرف ملزم وقار الحسن نے دوران تفتیش ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ کیس کا مرکزی ملزم عابد ایک عرصے سے شفقت نامی شخص کے ساتھ وارداتیں کر رہا ہے، شفقت بہاولنگر کا رہائشی اور عابد کا دوست ہے۔پولیس نے شفقت کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بہاولنگر اور شیخوپورہ روانہ کر دی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں وقارالحسن موٹر وے زیادتی کیس میں ملوث نہیں پایا گیا تاہم ڈی این اے رپور ٹ آنے کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا۔
دوسری جانب موٹر وے زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون نے بھی ملزم وقارالحسن کی شناخت سے انکار کردیاہے ۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے موٹروے زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون کو ملزم وقارالحسن کی فوٹیج واٹس ایپ کے ذریعے بھجوائی تاہم خاتون نے ملزم کی شناخت سے انکار کردیا اور کہا کہ وقارالحسن واقعے میں ملوث نہیں تھا۔
دوسری طرف پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نےموٹروے زیادتی کیس میں زیرحراست ملزم وقار الحسن کا ڈی این اے سیمپل لے لیا ہے، ڈی این اے سیمپل لینے کے بعد ملزم کو انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ فرانزک لیبارٹری میں ڈی این اے ٹیسٹ خاتون کے ملنے والے سامان اور شواہد کے ڈی این اے سے میچ کیا جائے گا۔ جس کے بعد ملزم کیخلاف مزید کاروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ تاہم ڈی این اے سیمپل لینے کے بعد ملزم وقار الحسن کو انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ملزم وقار الحسن کو کل جسمانی ریمانڈ لینے کیلئے عدالت میں پیش کیا جائے گا.دوسری جانب ترجمان ڈسٹرکٹ پولیس شیخوپورہ کے مطابق وقارالحسن کےخلاف جرائم کی کوئی ہسٹری نہیں ہے۔ترجمان کے مطابق وقارالحسن اس کے والداوربھائی کےخلاف جنوری2015 میں لڑائی جھگڑےاورچوری کامقدمہ شیخوپورہ تھانہ فیکٹری ایریا میں درج ہوا تھا تاہم اس مقدمے میں محلہ داروں نے صلح کرادی تھی۔
واضح رہے کہ لاہور کےگجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لیا ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے. پولیس کی طرف سے ملزمان کی شناخت کا دعویٰ تو کیا گیا ہے تاہم مرکزی ملزم تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہے.
