سلیکشن بورڈ نے عمر شیخ کو فیل کیوں کیا؟


کیرئیر کے دوران 7 مرتبہ تنزلی کا سامنا کرنے کے باوجود خود کو پاکستان کا سب سے قابل پولیس آفیسر قرار دینے والے سی سی پی اولاہورعمر شیخ کی قابلیت کی قلعی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب ان کے عہدہ سنبھالنے کے آگلے ہی روزلاہور سیالکوٹ موٹروے پر ریپ کا واقعہ پیش آیا اور 5 روز گزرنے کے باوجود مرکزی ملزم عابد قانون کی گرفت سے باہر ہے۔ تاہم عمر شیخ اپنی نالائقی کو تسلیم کرنے کی بجائے سابق آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر کو اپنی ترقی میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں حالانکہ ان کی نالائقی بارے وفاقی حکومت کو رپورٹ بھجوانے والے سینٹرل سیلیکشن بورڈ میں نہ صرف چاروں آئی جیز شامل ہوتے ہیں بلکہ سیکرٹری داخلہ اور دیگر ذمہ داران بھی بورڈ کا حصہ ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں لاہور- سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونے والے ریپ کیس میں متاثرہ فرد کو ‘قصور وار’ ٹھہرانے والے کیپٹل سٹی پولیس افسر عمر شیخ اس وقت شدید عوامی تنقید کا نشانہ بنے جب واقعہ کے فوری بعد موٹروے پر رونما ہونے والے شرمناک واقعہ پرشرمندگی کے اظہار کرنے کی بجائے عمر شیخ نے اپنے ایک بیان میں متاثرہ خاتون کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ حکومتی عہدیداروں نے پہلے پہل توسی سی پی او کے بیان کا دفاع کیا تاہم شدید رد عمل کے بعد واقعہ کے پانچویں روز عمر شیخ نے متنازعہ او بھونڈا مؤقف اپنانے پرمعافی مانگ لی۔ تاہم یہ پہلا موقع نہیں کہ عمر شیخ کی نالائقی کھل کر سامنے آئی ہو ماضی میں ان کی اسی کارکردگی کی بنیاد پر مرکزی سلیکشن بورڈ 7 مرتبہ ان کی تنزلی کی رپورٹ دے چکا ہے اور عمر شیخ ماضی میں 21 ویں گریڈ میں ترقی سے انکار پر وفاقی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرچکے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں جہاں سی سی پی او نے دیگر الزمات عائد کئے تھے وہیں سینٹرل سیلیکشن بورڈ کے اراکین کی دیانت داری پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ واضح رہے کہ سی ایس بی کے اراکین میں انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر بھی شامل تھے جن کا سی سی پی او لاہور کی بغیر مشاورت تعیناتی کے فوراً بعد تبادلہ کردیا گیا تھا۔
سی سی پی او نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ سینٹرل سیلکشن بورڈ نے بااثر اداروں کے ‘منظور نظر’ لیکن جونیئر افسر کو گریڈ 21 میں ترقی دینے کے لیے ان پر ترجیح دی حالانکہ وہ افسر مرتضٰی بھٹو قتل کیس میں ایک ملزم اور سانحہ ساہیوال کا ‘ذمہ دار تھا جس میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک جعلی پولیس مقابلے میں ماں باپ اور بیٹی کو قتل کردیا تھا۔ عمر شیخ کی درخواست کے مطابق وہ سینیارٹی لسٹ میں 9ویں نمبر پر تھے جبکہ 19ویں نمبر پر موجود افسر کو ترقی دی گئی اور انہیں ہٹانے کا پورا عمل اس افسر کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کیا گیا۔ سی سی پی او نے الزام عائد کیا کہ جونیئر افسر نے ‘بااثر اداروں’ کے ایما پر کچھ ایسے اقدامات کیے کہ انہیں باری کے بغیر بلاجواز ترقی دی گئی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ‘مذکورہ افسر پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے رہنما میر مرتضیٰ بھٹو کے موت سے متعلق کیس میں بھی ملزم نامزد تھے اور 2009 میں عدالت سے بری ہوئے تھے’۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سی ایس بی اراکین ان کے لیے بغض رکھتے ہیں اور ان کی ترقی کی مخالفت اس لیے کی کیوںکہ درخواست گزار نے ان کے ‘بہنوئی کو تیل اسملنگ اسکینڈل میں’ مدد نہیں کی۔
خیال رہے کہ سینٹرل سیلکشن بورڈ نے عمر شیخ کو ‘سی’ کیٹیگری کا درجہ دیا ہوا ہے۔وفاقی حکومت کے خلاف عمر شیخ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے جواب میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سینٹرل سلیکشن بورڈ سی ایس بی کی عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق ‘عمر شیخ کی واشنگٹن میں 4 سالہ پوسٹنگ کے دوران، ان کی کارکردگی رپورٹ یعنی پی ای آرز میں 4 مرتبہ تنزلی کی گئی تھی’۔مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘ان کے پورے کریئر کے دوران کارکردگی جائزہ سے متعلق 7 رپورٹس میں ان کی تنزلی کی گئی’ اور ان کی کارکردگی 2015 میں آؤٹ سٹینڈنگ سے کم ہو کر محض گُڈ کے درجے تک آئی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں عمر شیخ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرنے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے انھیں لاہور پولیس کا سربراہ برقرار رکھنے پر بضد ہیں۔
خیال رہے کہ سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے ان کی مشاورت کے بغیر عمر بن شیخ کوسی سی پی اولاہور تعینات کرنے پر کام کرنے سے انکار اور وزیر اعلی پنجاب سے ان کے کسی ‘مناسب جگہ’ پر تبادلہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تاہم بزدار سرکار نے سی سی پی او کو ہٹانے کے بجائے شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو اس عہدے کی ذمہ داریاں سونپ دی تھیں۔بعدازاں پنجاب پولیس کے 50 سے زائد افسران نے سبکدوش ہونے والے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے خلاف ‘توہین آمیز ریمارکس’ دینے پر سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے تادیبی کارروائی اور فوری تبادلے کا مطالبہ کیا تھا تاہم حکومت نے کسی قسم کا دباؤ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں موٹروے پر گینگ ریپ کا شکار خاتون کے حوالے سے متنازع بیان دینے پر بھی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو شدید تنقید کا سامنا ہے جس پر حکومت کی جانب سے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا جاچکا ہے۔ عمر شیخ نے 5 دن بعد اپنے بیان پر معافی تو مانگ لی ہے تاہم سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں عمر شیخ کی برطرفی کے مطالبے پر قائم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button