کیا موٹر وے ریپ کیس کا ملزم میڈیا کی وجہ سے فرار ہوا؟

https://youtu.be/esyVL6SSfEM
لاہور پولیس کے داغدار سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے موٹروے ریپ کا مدعا متاثرہ خاتون پر ڈالنے کے بعد اب ان کی پولیس فورس نے ملزمان کی گرفتاری میں ناکامی کا ملبہ میڈیا پر ڈال رہی ہے۔ پنجاب پولیس کا موقف ہے کہ گینگ ریپ سانحے کے بعد میڈیا کی جانب سے عابد اور وقار کی شناخت قبل از وقت ظاہر کئے جانے کی وجہ سے عابد بھاگ گیا اور قانون کی گرفت میں نہ آ سکا۔ تاہم پہلی بات تو یہ ہے کہ میڈیا کو ریپ کیس ملزمان کی تصاویراور ڈیٹا خود لاہور پولیس نے اس لئے دیا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کا عمل تیز کیا جا سکے۔ جب یہ انفارمیشن میڈیا پر آنے کے بعد پولیس کو عابد کی لوکیشن پتہ چل گئی اور پولیس وہاں پہنچ بھی گئی تو پھر اس کے فرار کی ذمہ داری میڈیا پر نہیں ڈالی جاسکتی۔تاہم پنجاب پولیس کے سینئر افسران کا اصرار ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات میں میڈیا اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں کرتا جس کی وجہ سے سیکیورٹی اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لاہور کے قریب گجرپورہ کے علاقے میں موٹروے پر ایک خاتون سے اسکے بچوں کے سامنے گینگ ریپ کے واقعے میں ملوث ملزمان کی تصاویر نجی چینلز پر چلائی گئی جس کے بعد آئی جی پنجاب انعام غنی کے دفتر سے میڈیا کو ارسال کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں غلط اور حقائق کے منافی ہیں۔ ایک حکومتی ترجمان نے بھی ٹوئٹر پر محتاط انداز میں ان خبروں کی تردید کی مگر چینلز نے واشگاف انداز میں کہا کہ وہ اپنی خبر کی صداقت پر قائم ہیں۔ پھر خبر بھی تب درست ثابت ہوگئی جب اسی روز شام کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ انعام غنی نے خاتون ریپ کرنے والے ملزمان کی شناخت بتائی۔ انکا بھی یہی کہنا تھا کہ میڈیا پر قبل از وقت خبریں چلنے سے ملزمان فرار ہو گئے اور پولیس انھیں گرفتار نہیں کر سکی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب پولیس نے ملزم عابد کے ڈیرے کا گھیراؤ کیا تو وہ اپنی بیٹی کو وہیں پر چھوڑ کر بیوی کے ہمراہ قریبی کھیتوں سے فرار ہوگیا جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ پولیس کی ناکامی ہے جس میں میڈیا کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دوسرے ملزم وقار نے میڈیا پر اپنی تصویر چلنے کے بعد خود لاہور پولیس گرفتاری دی اور بتایا کہ وہ ریپ میں ملوث نہیں تھا۔
تاہم پولیس کا اصرار ہے کہ میڈیا کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی پابندی نہیں کی جاتی۔ پولیس ذرائع نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں مناواں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کی میڈیا پر براہ راست کوریج نے حملہ آوروں کو پولیس کی درست پوزیشن معلوم کرنے میں مدد دی اور یوں اس کوریج سے پولیس کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔کئی برس قبل سوات میں فوجی آپریشن کے دوران جب ایک نجی ٹی وی چینل نے کچھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کی تو نتیجہ ان کی ہلاکت کی صورت میں سامنے آیا۔ راولپنڈی میں کالعدم تنظیم کے شدت پسندوں نے فوجی ہیڈ کواٹر پر حملہ کیا تو یہ مناظر ٹی وی سکرین پر لمحہ بہ لمحہ چلتے رہے، جس سے حملہ آوروں کو بھی اپنی حکمت عملی ساتھ ساتھ بنانے میں مدد ملی۔ الزام ہے کہ میڈیا کوریج کی وجہ سے یہ آپریشن طوالت بھی اختیار کر گیا۔ ایسے ہی کچھ مناظر 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد فوجی آپریشن کے دوران بھی دیکھنے کو ملے جس کا رد عمل ملک کے مختلف علاقوں سے سامنے آیا۔
اگر یہ مؤقف مان لیا جائے کہ میڈیا حساس واقعات کی کوریج میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ میڈیا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے اوراس پر عملدرآمد کیسے کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق تو موجود ہے مگر شاید ہی کسی میڈیا ہاؤس نے اس کی ورق گردانی کی ہو یا اس پر صحافیوں کو اس پر کاربند رہنے کا کہا ہو۔ واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یا پیمرا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق خبر یا کسی اور پروگرام کو اس انداز میں نشر نہیں کیا جائے کہ جس سے کوئی جاری تحقیقات، تفتیش یا ٹرائل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ جہاں افواج پاکستان، نظریہ پاکستان، قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسی شخصیات کے خلاف مواد نشر کرنے پر ممانعت ہے وہیں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ ہو جو تشدد، جرائم، دہشت یا امن و امان میں سنگین خلل کو اکسائے، مدد دے یا اس کو جواز فراہم کرے۔ پیمرا کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق زنا بالجبر، جنسی بد اخلاقی، دہشتگردی یا اغوا کے کسی بھی شکار شخص کی شناخت اور نہ ہی اس کے خاندان کی شناخت اس وقت تک ظاہر کی جائے جب تک کہ شکار بننے والا فرد اور کمسن ہونے کی صورت میں ان کے نگہبان اس کی اجازت نہ دیں۔اسی طرح میڈیا کوریج کے لیے کسی بھی جاری ریسکیو یا سکیورٹی آپریشن کے دوران نشانہ بننے والے افراد کی شناخت اور نشانہ بننے والے افراد کی تعداد سمیت دیگر اہم معلومات اس وقت تک ظاہر نہ کی جائیں جب تک کہ ریسکیو یا اس آپریشن کے ذمہ دار سکیورٹی کے ادارے ایسا کرنے کی اجازت نہ دے دیں لیکن اس ضابطہ اخلاق پر اکثر عمل اس لیے نہیں ہو پاتا کہ اکثر خفیہ اداروں یا پولیس کی جانب سے ہی خفیہ ڈیٹا میڈیا کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔ ایسا یہ سوچ کر کیا جاتا ہے کہ اس سے ملزمان کو ٹریس کرنے میں آسانی ہو جائے گی لیکن جب ملزم فرار ہو جاتا ہے تو پھر مدعا میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ موٹر وے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد کے فرار کی بنیادی وجہ پولیس کی ناکامی ہے، نہ کہ میڈیا کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button