موٹروے ریپ کیس:مرکزی ملزم عابد گرفتار کیوں نہ ہو سکا؟

لاہور- سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد علی 8 روز بعد بھی قانون کے شکنجے میں نہ آ سکا۔تحقیقاتی ٹیمیں ملزم کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔موٹروے پر خاتون سے زیادتی کا اندوہناک واقعہ 9 ستمبر کو پیش آیا۔کئی روز گزر گئے لیکن عابد علی نہ پکڑا جا سکا۔پولیس کی 26 ٹیمیں ملزم کی گرفتاری پر مامور ہیں لیکن تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ملزم شفقت علی کے بتائے ہوئے تمام ٹھکانوں پر پولیس نے چھاپے مارے ہیں، لیکن عابد علی وہاں بھی نہ ملا۔اس کیس میں عباس نامی شخص اور بالا مستری کی گرفتاری بھی کسی کام نہ آئی۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم عابد پنجاب کے خطرناک علاقے کچے میں موجود ہو سکتا ہے۔ جس کے بعد پنجاب پولیس اور تفتیشی ٹیموں نے کچے کے علاقے کا رخ کر لیا ہے۔پنجاب حکومت اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ مفرور ملزم عابد علی کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
دوسری طرف بیرون ملک فرار کے شبے میں موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابدعلی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا۔ موٹروے زیادتی کیس میں گرفتار ملزم شفقت کی نشاندہی پر کیس کے مرکزی ملزم عابدعلی کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں،عابد اور شفقت کے ساتھ موبائل فون پر رابطہ کرنے والے افراد کو بھی شامل تفتیش کیا جارہا ہے، جب کہ مرکزی ملزم عابد کے خاندان کے لوگ سی آئی اے پولیس کی حراست میں ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم عابد کے بیرون ملک فرار کے شبے کے پیش نظر اس کا شناختی کارڈ بھی بلاک کروا دیا گیا ہے۔دوسری جانب زیادتی کیس کی تفتیش انچارج انوسٹی گیشن گجر پورہ سے تبدیل کرکے انچارج انوسٹی گیشن پرانی انار کلی کو بھجوا دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی دفعات کی تفتیش انسپکٹر کرسکتا ہے سب انسپکٹر کے پاس اختیار نہیں ہے، ملزم عابد کی گرفتاری کے لئے دو ڈی ایس پی محمد علی بٹ اور حسنین حیدر مقرر کردے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق خاتون کی قمیض اور شلوار سے دونوں ملزمان شفقت اور عابدعلی کے سیمپل میچ ہوئے ہیں، ملزم شفقت کو گزشتہ روز شناخت پریڈ پر جیل بھجوا دیا گیا تھا، ملزم کی شناخت کے لئے خاتون کو جیل جانا پڑے گا، جیل میں سیکیورٹی بیرک میں ملزم کو رکھا گیا ہے، جیل میں تفتیشی آفسیر اور جیل حکام کی موجودگی میں شناخت پریڈ ہوگی۔
واضح رہے کہ عابد علی 2 روز قبل پولیس کے چھاپے سے کچھ دیر قبل بیوی کیساتھ فرار ہوگیا تھا۔ ملزم اور اس کی بیوی اپنی بیٹی کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر فرار ہوئے۔ پولیس نے ملزم کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا تھا۔ جبکہ ملزم کی بیوی کو بھی مانگا منڈی سے حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ ملزم عابد کے بھائی اور والد بھی گرفتار ہیں. پولیس کا مزید بتانا ہے کہ سانحہ گجر پورہ میں ملوث باقی 2 ملزمان شفقت اور اقبال عرف بالا کو بھی گرفتار کیا جا چکا۔ شفقت نے اعتراف جرم کرتے ہوئے سانحہ گجر پورہ کی تمام تفصیلات بیان کر دی ہیں۔ جبکہ متاثرہ خاتون نے شفقت کے بیان میں بتائی گئی تفصیلات کی تصدیق اور ملزمان کی شناخت بھی کر لی ہے۔ متاثرہ خاتون نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ گجر پورہ میں ملوث ملزمان کو پھانسی کی سزا دی جائے، تب ہی اسے سکون ملے گا۔ خاتون کا کہنا ہے اس کے اہل خانہ نے ملک میں تبدیلی کیلئے وزیراعظم عمران خان کی حمایت کی تھی، اب انصاف کی فراہمی سے تبدیلی نظر آنی چاہیئے۔
دوسری طرف سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم عابد علی کے اجرتی قاتل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ماضی میں ملزم 25 ہزار روپے کے عوض قتل کی کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، دوران تحقیقات معلوم ہوا ہے کہ عابد علی چند ہزار روپے کے عوض لوگوں کو قتل کرتا رہا ہے۔ ملزم ایک قتل کیلئے 25 ہزار روپے کی رقم وصول کرتا تھا۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ عابد علی کا گینگ 3نہیں 4افراد پر مشتمل ہے۔ گینگ عابد علی، شفقت،اقبال بالا مستری اورعلی شیر شامل تھے۔ اس گینگ کے 2 افراد شفقت اور اقبال کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ علی شیر نامی ملزم پہلے سے ہی جیل میں ہے، جبکہ مرکزی ملزم عابد علی تاحال مفرور ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button