موٹروے ریپ کیس میں مفرورعابد نےکیسے پولیس کو ماموں بنایا؟

https://www.youtube.com/watch?v=2o8k9a_Xn7s
لاہور کے داغدار اور بدبودار سی سی پی او عمر شیخ کے تمام تر دعوؤں اور ڈینگوں کے باوجود صوبائی دارالحکومت کی پولیس موٹر وے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ لاہور پولیس کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے اپنے دعوؤں کے مطابق مرکزی ملزم عابد علی چار مرتبہ چار مختلف جگہوں پر پولیس کے گھیرے میں آیا لیکن ہر دفعہ چکمہ دے کر نکل گیا۔
اس حوالے سے سی سی پی او لاہور آفس نے تصدیق کی ہے کہ ملزم عابد چار مرتبہ پولیس کے گھیرے میں آیا لیکن بچ نکلا اور تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے مطابق ملزم سے متعلق ابھی معلومات میڈیا کے ساتھ شئیر نہیں کی جا سکتیں۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ عمر شیخ اس قابل ہی نہیں کہ عوام کے ساتھ بھی اس شخص کے بارے میں کوئی معلومات شیئر کر سکیں جو انکی زیر قیادت لاہور پولیس کو پچھلے ایک ہفتے سے بار بار ماموں بنا رہا ہے۔ پنجاب کاوئنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق ملزم عابد پولیس کی توقعات سے بڑھ کر چالاک ثابت ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ ملزم پچھلے ایک ہفتے میں چار مرتبہ پولیس کے گھیرے میں آیا لیکن بدقسمتی سے اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ پہلی دفعہ اس کے گھر قلعہ ستار شیخوپورہ جب پولیس پہنچی تو وہ اپنی بیوی کے ہمراہ کھیتوں کے راستے فرار ہو گیا۔ تاہم پولیس نے اس کی چھوٹی بیٹی کو گرفتار کر لیا۔
دوسری مرتبہ ساہیوال میں اسکی اپنی بیوی کیساتھ موجودگی کی اطلاع ملی لیکن چھاپے کے دوران وہ فرار ہوگیا۔ تیسری مرتبہ ملزم عابد نے قصور میں پولیس کو ماموں بنایا جب وہ قصور کی تحصیل راجہ جنگ میں اپنے رشتے دار کے گھر سے بھاگ گیا۔ اس سے پہلے انٹیلی جنس رپورٹ ملنے کے بعد پولیس کے کچھ افسران اور اہلکار عابد علی کے رشتے دار کے گھر جا کر بیٹھ گئے تھے۔ عابد علی جب رشتے دار کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو اسے پولیس کی موجودگی کا شک ہوا، لہذا ملزم گھر میں داخل ہونے کی بجائے باہر سے ہی فرار ہوگیا۔ ملزم کے فرار پر پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور کھیتوں میں کئی گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا گیا، تاہم تب تک ملزم فرار ہوچکا تھا۔
ملزم عابد نے چوتھی مرتبہ لاہور پولیس کو ننکانہ صاحب میں ماموں بنایا۔ ترجمان ننکانہ پولیس کے مطابق ملزم عابد کی ننکانہ میں موجودگی کی اطلاع ملنے پر ڈی پی او اسماعیل کھاڑک کی نگرانی میں ایلیٹ فورس اور مختلف تھانوں کی نفری نے 17 ستمبر کو دولر والا قبرستان اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کیا۔ لیکن ملزم کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی کیونکہ اس نے اپنا حلیہ مکمل طور پر تبدیل کر لیا ہے۔ ملزم کی سالی کشور کے مطابق عابد بھٹی پارک میں اس سے ملاقات کے لیے آیا تو اس نے پولیس کو پہلے اطلاع دے دی لیکن اہلکاروں نے جیسے ہی عابد پر ہاتھ ڈالا تو ملزم اہلکاروں کو دھکا دے کر فرار ہوگیا۔ کشور بی بی نے بتایا ہے کہ عابد نے اپنا حلیہ مکمل طور پر تبدیل کرلیا ہے اور کلین شیو کرلی ہے۔
لہذا لاہور پولیس کی پے در پے ناکامیوں کے بعد اب ملزم عابد کو گرفتار کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے جس میں لاہور کے داغدار سی سی پی او عمر شیخ مکمل طور پر ناکام ہیں۔
ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود پولیس اور حکومت پنجاب کی جانب سے بار بار دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا جائے گا، ہم ملزم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ملزم چار مرتبہ چار مختلف شہروں میں پولیس کے سامنے فرار ہونے میں کامیاب رہا ہے۔ یاد رہے کہ ملزم عابد فورٹ عباس بہاولنگر کا رہنے والاہے اور حکام کے مطابق عابد کا ڈی این اے بھی میچ ہوچکا ہے۔
ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے اور اس نے 2013 میں بھی بہاولنگر میں ایک خاتون اور اس کی بیٹی سے زیادتی کے بعد متاثرہ خاندان سے صلح کر لی تھی لیکن جرائم سے باز نہ آیا تو علاقے سے نکال دیا گیا۔ 2013 سے2017 تک زیادتی اور ڈکیتی سمیت دیگر جرائم کے 8 پرچے کٹے اور 8 سال میں کئی مرتبہ گرفتار ہوا مگر ضمانت پر رہا ہو گیا، وہ آخری بار 8 اگست 2020 کو گرفتار ہوا مگر چند دنوں بعد ہی اس کی ضمانت ہوگئی۔ 9 ستمبر کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے گجر پورہ کے قریب لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک فرانس پلٹ خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ بعد ازاں خاتون کے کپڑوں سے ملزمان کا مواد اور انکا خون لیکر ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گے تو پتہ چلا کہ ان کے نام عابد اور شفقت ہیں۔ پولیس ملزم شفقت کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے جس نے اعتراف جرم کر لیا ہے لیکن عابد ابھی تک گرفتار نہیں ہو پایا۔
لاہور پولیس کے ذرائع کے مطابق اس وقت ٹیکنالوجی سے انہیں کوئی خاطر خواہ مدد نہیں مل رہی کیونکہ ملزم اب موبائل فون استعمال نہیں کر رہا اور اگر کر بھی رہا ہے تو وہ صرف ایک ہی بار استعمال کے بعد وہ فون یا سم دوبارہ استعمال نہیں کرتا۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ اس نے اپنا حلیہ بھی تھوڑا تبدیل کر لیا ہے اور اب وہ کلین شیو ہے۔ لیکن پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ زیادہ دیر نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا کیونکہ اس طرح چھپ کر زندگی گزارنے کے لیے پیسوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اب اس کے پاس نہیں ہیں۔ پولیس کے مخبر بھی ہر جگہ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ پولیس نے ملزم عابد ملہی کی بیوی کو بھی حراست میں لے رکھا ہے اور اسی کی نشان دہی پر کئی جگہوں پر چھاپے بھی مارے گئے لیکن ملزم قانون کی گرفت سے بچ نکلا۔
سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے مطابق پولیس کی دو درجن سے زائد چھاپہ مار ٹیمیں ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے لیے متحرک ہیں اس کے علاوہ سیف سٹی اتھارٹی، سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس کے ادارے بھی پولیس کی مسلسل مدد کر رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم اس وقت اپنے سروائیول کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس وقت وہ اپنی موت سے بھاگ رہا ہے اس لیے وہ اپنی ہر ممکن کوشش میں ہے کہ پولیس کے ہاتھ نہ لگے۔ لیکن جب آپ سماجی طور پر دوستوں اور رشتہ داروں سے کٹ جاتے ہیں تو پھر ایسی حالت میں آپ کی یہ کوشش زیادہ دیر تک کارگر نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ ایسے مکروہ ملزم کو کوئی بھی پناہ نہیں دے گا چاہے اس کا رابطہ اور بھی جرائم پیشہ عناصر سے ہو۔ کوئی بھی اس وقت اسے پناہ دینے کا رسک نہیں لے سکتا۔ لہذا پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کا اگلے چند روز میں پکڑا جانا اٹل ہے۔ تاہم آج دن تک کی حقیقت یہ ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ اپنے بلند و بانگ دعوؤں اور ڈینگوں کے باوجود لاہور موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔
