موٹیویشنل سپیکرز کے نام پر باتیں بگھارنے والے مشہور کیوں؟

ہمارے معاشرے میں نصیحت کرنے والے بے شمار لوگ موجود ہیں، جوکہ کسی بھی غمی، خوشی کی صورتحال میں لوگوں کو سمجھانے کیلئے تیار رہتے ہیں لیکن کسی کی نصیحت کو سننا خاصا مشکل کام ہے، جب اس پر عمل کرنے کے لیے نہ صرف کہا جائے بلکہ باقاعدہ زور زبردستی کے ذریعے بات منوانے کی کوشش کی جائے۔عقل مند آدمی بہت کم کسی کو مشورہ یا نصیحت کرنے کا تردد کرتا ہے اور اگر ایسی کوئی ذمہ داری کبھی اس کے کندھوں پر لاد دی جائے تو وہ احسن طریقے سے اس سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کرتا ہے البتہ کسی کی زندگی اگر آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو اور آپ کو وہ شخص کامیاب بھی لگتا ہو تو لامحالہ آپ اسے رول ماڈل سمجھ کر اس کی تقلید کی کوشش کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر تصویر اور ویڈیوز سب سے زیادہ کارآمد ذرائع مانے جا رہے ہیں، کیوں کہ لکھی ہوئی بات کوئی پڑھ سکتا ہے کوئی نہیں بھی پڑھ پاتا مگر تصویر، ویڈیوز اور آواز پر چھ ماہ کا بچہ بھی ردعمل دیتا ہے۔اور ان پڑھ آدمی بھی ریلز، ٹک ٹاک، یو ٹیوب کی ویڈیوز اور وٹس ایپ پر موصول ہونے والی ٹک ٹاکرز کی ویڈیو سمیت تمام بصری اور صوتی مواد تک رسائی رکھتا ہے۔ایسے میں نصیحت کرنے والوں نے اپنے آپ کو موٹیویشنل سپیکرز کے طور پر متعارف کروایا۔شروع میں شاید وہ لوگ ہی موٹیویشنل سپیکر کہلائے ہوں گے جنہوں نے درحقیقت زندگی میں بہت محنت کی ہوگی اور کسی مقام تک پہنچے لیکن ان کی دیکھا دیکھی کھمبیوں کی طرح موٹیویشنل سپیکرز کی پیدائش نے اصل اور نقل کے فرق کو مٹا کر صرف باتیں بگھار نے کا فن رکھنے والوں کو مشہور کر دیا۔ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں کریئر کونسلنگ نامی چڑیا کو کوئی وجود ہی نہیں ہے جبکہ ہر دوسرا موٹیویشنل سپیکر آئی ٹی اور اے آئی کی طرف جانے کی تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔ ان کے انداز بیاں سے متاثر ہو کر ہر طالب علم اور اس کے والدین کو یہ بات بھی اساتذہ نہیں سمجھا سکتے کہ آپ کا بچہ آپ کی خواہش کے مطابق مضمون میں نہیں چل پائے گا۔لہٰذا غلط مضمون کا چناؤ ان کے مستقبل پر ناکامی کا داغ چھوڑ جاتا ہے اور بہت سے بچے دلبرداشتہ ہو کر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، اور والدین کو بھی لگتا ہے کہ شاید ان کے بچے میں کسی بھی طرح کی قابلیت نہیں ہے اگر کوئی طالب علم سائنس اور آئی ٹی جیسے مضامین میں خود کو فٹ محسوس نہیں کرتا تو آرٹس اور سوشل سائنسز کے مضامین میں بھی کوئی برائی نہیں۔آپ اگر اپنی دلچسپی کے مضامین میں محنت کریں گے تو اردو، انگلش، پنجابی، فارسی، عربی، ماس کمیونیکیشن، پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی، جینڈر سٹڈیز، اینتھرو پالوجی اور بہت سے ایسے مضامین جو فنون لطیفہ سے متعلق ہیں ان میں بھی روشن مستقبل کا چانس اتنا ہی ہے جس قدر آپ کو اول الذکر مضامین میں دکھائی دیتا ہے، موٹیویشنل سپیکرز اگر ملک و قوم کی کوئی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اس طرح کی معلومات بھی عام لوگوں تک پہنچائیں۔امیر ہونے کے پانچ طریقے، مشہور ہونے کے سات راستے، کامیاب ہونے کے تین گر اور اسی طرح کے دوسرے شارٹ کٹس کی بجائے اگر سچی اور کھری بات مختصر الفاظ میں بیان کریں تو بھی ان کی شہرت اور کمائی میں فرق نہیں پڑنے والا۔
