’’سائنسدانوں کا زمین کی چاند سے قبل تشکیل کا انکشاف‘‘

شکاگو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے چاند کی پہلے تشکیل یا زمین کے پہلے وجود میں آنے کی گتھی سلجھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ زمین کی عمر چاند سے زیادہ ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زمین پہلے وجود میں آئی، محققین کے مطابق چاند کی عمر 4 ارب 46 کروڑ سال کے لگ بھگ ہے جبکہ زمین کی عمر 4 ارب 50 کروڑ یا 4 ارب 60 کروڑ سال ہے۔1972 کے اپولو 17 مشن کے دوران چاند سے اکٹھے کیے گئے نمونوں کے تجزیے کے بعد سائنسدانوں نے چاند کی عمر کا تخمینہ لگایا، امریکا کی شکاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق چاند کی عمر 4 ارب 46 کروڑ سال کے قریب بتائی جا رہی ہے، اس سے قبل جو تحقیق کی گئی تھی اس کے مطابق چاند کی عمر 4 ارب 6 کروڑ سال بتائی گئی تھی۔1972 میں چاند پر جانے والے آخری 2 انسان یوجین سرنن اور ہیریسن جیک شمٹ کے چاند سے لائے گئے نمونوں پر تحقیق کے بعد محققین نے بتایا کہ چاند کے نمونوں میں موجود نینو زرقون کرسٹلز کے تجزیے کے بعد چاند کی عمر سے متعلق معلوم ہوا۔انہوں نے بتایا کہ چاند نے نظام شمسی کی پیدائش کے پہلے 110 ملین سالوں میں اپنی تشکیل کا آغاز کیا، سب سے پہلے یہ ایک چٹان کی صورت میں سامنے آیا، چاند سے لیے گئے نمونوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نینو زرقون دنیا کا سب سے قدیم اور سخت ترین پتھر ہے۔سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ نینو کرسٹلز اس وقت بننا شروع ہوگئے تھے جب اربوں سال قبل مریخ کے حجم کا ایک سیارہ زمین سے ٹکرایا، زمین سے سیارے کے ٹکراؤ کے بعد لاوا اور چٹانیں خلا میں پھیل گئے اور جب یہ لاوا ٹھنڈا ہونا شروع ہوا تو یہ کرسٹلز بن گئے۔محققین کے مطابق یہ کرسٹلز اس ٹکراؤ کے بعد بنے تھے اور اب چونکہ ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ یہ کرسٹلز کتنے قدیم ہیں تو ہم چاند کی عمر کا تخمینہ بھی لگا سکتے ہیں، ہمارا نظام شمسی چاند سے 11 کروڑ سال قبل تشکیل پا گیا تھا۔محققین نے تسلیم کیا کہ چاند کی حقیقی عمر کا تعین بہت مشکل ہے مگر تحقیق کے نتائج سے اس کا تخمینہ ضرور لگایا جا سکتا ہے، زرقون کرسٹلز زمین، مریخ اور چاند پر ملنے والی قدیم ترین دھات ہے اور زرقون بہت سخت جان دھات ہے جو چٹانوں کی ٹوٹ پھوٹ کے دوران بھی محفوظ رہتی ہے۔محققین کے مطابق زمین کی عمر 4 ارب 50 کروڑ سے 4 ارب 60 کروڑ سال کے درمیان بتائی جاتی ہے جبکہ چاند کی عمر 4 ارب 46 کروڑ سال کے قریب ہے، واضح رہے کہ ناسا کی جانب سے کیا گیا اپولو 17 وہ آخری مشن تھا جب انسانوں نے آخری بار چاند پر قدم رکھے تھے، اپولو 17 کے بعد سے کوئی انسان چاند پر نہیں گیا، اس دوران چاند سے لائے گئے نمونوں پر ابھی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
