پاکستانی سائنس و ٹیکنالوجی میں پیچھے کیوں رہ گئے؟

دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستانی آج بھی ہر سال عید پر چاند نظر آنے یا نہ نظر آنے کی کشمکش میں دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ایچ ای سی سمیت دیگر ادارے 40 ارب کے بھاری بجٹ کے باوجود آج تک کوئی ویکسین تیار نہیں کر سکے ہیں۔یہ صورتحال اس عمومی سماجی رویے کی عکاسی بھی کرتی ہے، جس میں ہماری سائنس اور سائنسی سوچ سے زہنی دوری کی نشاندہی ہوتی ہے، حکومت نے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی میں باہمی تعاون کے ایک معاہدے کو مزید پانچ سال کے لیے توسیع دی ہے۔ہائیرایجوکیشن (ایچ ای سی ) کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان اور امریکہ نے 2003 ء میں اس تعاون کے حوالے سے فریم ورک تیار کیا تھا اور 2005ء میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ یا یو ایس ایڈ نے پاکستانی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اورایچ ای سی کے ساتھ مل کر اس پروگرام میں تعاون کرنا شروع کیا۔2008 میں امریکی محکمہ خارجہ نے اس منصوبے میں ایک معاون کے طور پر کام کرنا شروع کیا، اس پروگرام پر عمل درآمد کے ذمہ دار ادارے امریکی نیشنل سائنس اکیڈمی اور پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن ہیں۔سائنسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کئی ماہرین کے خیال میں اس معاہدے سے پاکستان کا فائدہ ہے، طارق بونیری کے مطابق یو ایس ایڈ کے ریسرچ اور اعلیٰ تعلیم کے کئی پروگراموں کو اس معاہدے کے تحت مالی امداد فراہم کی گئی، جیسے کہ پانی، توانائی اور ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے تحقیق کے لیے ایک سینٹر قائم کیا گیا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے اہم موضوعات کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے مدد فراہم کی گئی۔اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں طبعیات کے ایک سابق پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید نیر کا کہنا ہے کہ امریکی تعلیمی اداروں کا معیار سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت بلند ہے، ان کی جامعات میں ریسرچ کے حوالے سے دوسرے ممالک سے لوگوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور وہاں کا تعلیمی ماحول ریسرچ کے لئے بہت سازگار ہے اگر اس معاہدے کے تحت پاکستانی سائنس دان یا ریسرچرز وہاں جا کر سیکھیں تو یہ پاکستان کے لئے بہت فائدہ مند ہے تاہم کچھ دوسرے ناقدین کا خیال ہے کہ اس طرح کے معاہدوں سے پاکستان کی سائنسی ترقی کو کوئی فائدہ نہیں، معروف جوہری سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا ہے امریکہ اور مغرب کی طرف سے پاکستانی ریسرچرز اور سائنس دانوں کو سختیوں کا سامنا رہا ہے۔پاکستان میں سائنسی ترقی کی رفتار انتہائی سست ہے۔ طارق بونیری کے خیال میں فنڈنگ کی کمی، بدعنوانی، ناقص انتظامیہ، ریسرچ کے کام میں چربہ سازی کا رجحان اور سیاسی اثر رسوخ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔عبدالحمید نیر کا خیال ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ اور پرائمری تعلیم دونوں ہی غفلت کا شکار ہیں، آدھے سے زیادہ ہمارے بچے سکول جا نہیں پاتے اور جو جاتے ہیں وہ سرکاری سکولوں میں یا دیہات کے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، جہاں تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے۔ ملک میں ڈھائی سو سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں لیکن ان میں نصف سے زائد یعنی ڈیڑھ سو کا معیار انتہائی پست ہے۔عبدالحمید نیر کے مطابق پاکستان میں ہارڈویئر ریسرچ بہت کم ہے اور جو تھوڑی بہت ریسرچ ہوتی ہے وہ اپنے معاملات کو کسی نہ کسی طرح حل کرنے کے لیے کی جاتی ہے، پاکستان میں سائنس کے حوالے سے کوئی انتہائی مستند ڈیٹا بھی موجود نہیں، پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی طرف سے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے کے اعدادو شمار سے متعلق آخری ڈیٹا بک 2009 میں شائع کی گئی، جبکہ اس سے پہلے صرف ایک اور ڈیٹا بک شائع کی گئی تھی، پاکستان کےنجی شعبے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تحقیق کے لیے ریسرچ کا کوئی ادارہ نہیں جبکہ سرکاری شعبے میں سائنسی تحقیق اور ترقی کے پچاسی ادارے قائم ہیں۔

Back to top button