میرا کا عدالت میں چیخ چیخ کر اپنے کنوارہ ہونے پر اصرار

اپنے کنوارہ ہونے پر اصرار کرنے والی متنازع اداکار میرا نے سیشن کورٹ لاہور میں تب ایک ہنگامہ برپا کر دیا جب عدالت کے جج نے چیخ چیخ کر گفتگو کرنے پر انکی بات سننے سے انکار کر دیا۔ جج کی جانب سے ٹوکے جانے پر میرا نے آنسو بہانا شروع کر دیے اور انہیں بتایا کہ جب وہ حال ہی میں امریکہ کی ایک عدالت میں پیش ہوئیں تھیں تو وہاں پر جج نے ان کی گفتگو بڑے صبر اور تحمل سے سنی تھی۔ یاد رہے کہ حال ہی میں دورہ امریکہ کے دوران میرا کو ایک پاگل خانے بھجوا دیا گیا تھا جہاں سے نکلنے کے لیے انھیں عدالت جانا پڑا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں عدالت نے میرا کی گفتگو تحمل سے اس لیے سنی کہ وہ اسے ذہنی مریض سمجھ رہی تھی۔
29 ستمبر کے روز میرا لاہور کی سیشن عدالت میں تکذیبِ نکاح کیس میں اپنی دائر اپیل پر سماعت کے دوران صفائی پیش کرتے ہوئے پہلے چیخنے لگیں اور پھر آبدیدہ ہوگئیں۔ سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں میرا نے انصاف کے لیے رو رو کر دہائیاں دیں اور کہا کہ جج صاحب میں 10 سال سے انصاف کے لیے در بدر پھر رہی ہوں۔ اداکارہ نے کہا کہ جج صاحب میں امریکا کی عدالت میں پیش ہوئی تو وہاں میری بات کو مکمل سنا گیا لیکن یہاں میری بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ تاہم جج نے میرا کو چیخ چیخ کر بولنے سے منع کر دیا اور ترمیمی شواہد پر وکلا کو بحث کے لیے طلب کر لیا۔ بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا کو بحث کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
سماعت کے بعد اداکارہ میرا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا کہ میں نے کوئی نکاح نہیں کیا اور عدالت میں میرا جھوٹا نکاح نامہ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال سے عدالت میں میرا جھوٹا نکاح نامہ پیش کیا جارہا ہے’۔ خیال رہے کہ فروری 2021 میں ہونے والی سماعت میں اداکارہ میرا نے ثبوتوں سے متعلق یو ایس بی بھی عدالت میں پیش کی تھی اور عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘عتیق الرحمٰن میرا شوہر نہیں ہے’۔ خیال رہے کہ عتیق نے کئی سال قبل میرا کا شوہر ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جس پر گزشتہ کئی سال سے دونوں کے درمیان مختلف عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت رہے۔ اس حوالے سے اداکارہ میرا نے جولائی 2009 میں تکذیب نکاح کا کیس فیملی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم فیملی کورٹ نے اس کیس کا فیصلہ 9 سال بعد سناتے ہوئے میرا کو عتیق الرحمٰن کی بیوی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کنواری نہیں ہیں۔
فیملی جج بابر ندیم نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اداکارہ میرا اور عتیق الرحمٰن کا نکاح نامہ حقائق پر مبنی ہے، دونوں کے درمیان تنازعہ ایک گھر سے پیدا ہوا، نکاح خواں نے بھی نکاح نامے کی باقاعدہ تصدیق کی۔ عتیق الرحمٰن نے اداکارہ کے خلاف نکاح پر نکاح کرنے کا مقدمہ دائر کیا تھا، ان کا موقف تھا کہ میرا نے ان کے نکاح میں ہونے کے باوجود کپتان نوید کے ساتھ شادی کی تھی۔ تاہم میرا نے اس فیصلے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کی سماعت جاری ہے۔
