میر شکیل الرحمان کو 4 ماہ بعد بھی انصاف نہ مل سکا


پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن کو انصاف ملنے کی امیدیں تب ایک مرتبہ پھر دم توڑ گئیں جب 8 جولائی کے روز لاہور ہائی کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت پھر سے مسترد کردی حالانکہ 4 ماہ سے زیر حراست جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کی تفتیش مکمل ہو چکی یے، نیب ان کے خلاف ریفرنس دائر کر چکا ہے اور اس کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جا چکی ہے۔

پاکستانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی میڈیا گروپ کے سربراہ کو صرف حکومت سے اختلاف کرنے کی پاداش میں ایک بھونڈے پراپرٹی کے کیس میں ملوث کر کے گرفتار کیا گیا ہے اور اب عدالت سے ان کی ضمانت بھی نہیں ہونے دی جارہی ہے۔ ناقدین کا کہنا یے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے بار بار میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت مسترد کیا جانا بھی آزاد عدلیہ کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اس سے پہلے 8 جولائی کے روز جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بینچ نے میر شکیل کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کی۔ نیب کی طرف سے اسپیشل پراسیکیوٹر سید فیصل رضا بخاری عدالت میں پیش ہوئے جبکہ میر شکیل الرحمن کیخلاف ریفرنس میں مدعی اور گواہ اسد کھرل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی، ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون، ممبر پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ کے ساتھ ساتھ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سید قلب حسن بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

میرشکیل الرحمٰن کے وکلا کا موقف تھا کہ نیب نے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے ایک بے بنیاد اور جهوٹے مقدمے میں گرفتار کیا ہے اور اسکی وجہ جنگ اور جیو کی طرف سے عمران خان حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے 54 پلاٹس کی استثنیٰ قانون کے مطابق دی۔ میڑ شکیل کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ چیئرمین نیب میر شکیل کیخلاف انکوائری شروع کرنے کے مجاز نہیں تھے اور چونکہ میر شکیل پبلک آفس ہولڈر نہیں اس لیے ان پر نیب کا اختیارات سے تجاوز کا الزام بے بنیاد ہے۔ وکلا نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے اصل مسودے میں اعانت جرم کو شامل نہیں کیا گیا تھا اور نیب آرڈیننس میں ترمیم کے بعد اعانت جرم کو موثر با ماضی نہیں کیا گیا۔ میر شکیل کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی بھی اعانت جرم کے الزام کی بنیاد پر دائر درخواست میں ضمانت منظور کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کیس میں عدالت نے اعانت جرم کے آنے والے قانون کو موثر با ماضی نہ ہونا قرار دیا ہے اور خصوصی قوانین کی موجودگی میں کسی بھی کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا اختیار ریاست کو نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ میر شکیل کیخلاف نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ ایل ڈی اے کا اپنا قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس میں دیگر ملزموں کو گرفتار نہیں کیا گیا لہذا میر شکیل کو گرفتار کرنا آئین کے آرٹیکل 25 اے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل کو جب بھی طلب کیا گیا وہ پیش ہوئے اور نیب کا یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ ملزم طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوا۔

میر شکیل وکیل صفائی نے مزید کہا کہ ایسا شخص جس کا گھر یہاں ہے، جو ہر طلبی نوٹس پر پیش ہوتا رہا اور شریک ملزم گرفتار نہ ہوں تو اس کے بارے میں کہنا درست نہیں کہ ملزم بیرون ملک فرار ہو جائے گا۔ امجد پرویز نے موقف اپنایا کہ نیب کو 54 کنال 5 مرلہ کی زمین پر کوئی اعتراض نہیں ہے، نیب آرڈیننس کے تحت چیئرمین نیب کو انکوائری میں جوڈیشل نظر ثانی کرنے کا اختیار نہیں ہے، نیب نے قومی خزانے کو ایک دھیلے کے نقصان کی بھی نشاندہی نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے جوہر ٹائون میں پلاٹ کی ایک ہی قیمت ہے، 33 کنال نہر کنارے زمین کے بدلے میر شکیل کو 9 کنال زمین دی گئی، 124 کنال اراضی جو ایکوائر کی گئی 200 سے 300 گز دوری پر واقع تھی جبکہ 58 کنال 5 مرلے کی ایگزمپشن کو نیب تسلیم کرتا ہے۔ میر شکیل کے وکیل نے مزید کہا کہ جوہر ٹائون میں 14 ہزار پلاٹس عام عوام کو فروخت کرنے کے لیے پڑے تھے، ایگزمپشن پالیسی میں کہا گیا ہے کہ الاٹیز کو زیادہ سے زیادہ رعایت دی جائے جبکہ زمین ایکوائر ہونے کے بعد ایوارڈ میں ترمیم کی گئی اور محمد علی کے 7 ورثا کو شامل کیا گیا جبکہ محمد علی کے قانونی ورثا کو بھی ایوارڈ کے حساب سے کم زمین الاٹ کی گئی۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ کو بھجوائی گئی سمری میں کہیں بھی رعایت نہیں مانگی گئی، 1986 میں جب میر شکیل کو پلاٹس الاٹ ہوئے تب ایل ڈی اے کا جوہر ٹائون کے لیے کوئی منظور شدہ ماسٹر پلان موجود نہیں تھا اور ماسٹر پلان 27 اگست 1990 کو منظور ہوا۔ میر شکیل کے وکیل کا کہنا تھا کہ انکو اکٹھا بلاک الاٹ کرنے میں کوئی لا قانونیت نہیں ہے، اور اس کیس میں جس طرح جلد بازی میں گرفتاری کی گئی اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ نے غیرقانونی پلاٹس الاٹمنٹ اسکینڈل میں ڈھائی گھنٹے فریقین کے دلائل سننے کے بعد میر شکیل کی ضمانت پر رہائی کی درخواست ایک مرتبہ پھر مسترد کر دی۔ خیال رہے کہ نیب نے 12 مارچ کو میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔ ترجمان نیب نوازش علی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ادارے نے 54 پلاٹوں کی خریداری سے متعلق کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو لاہور میں گرفتار کیا۔

تاہم حکومتی ناقدین کا یہ موقف ہے کہ میر شکیل کی گرفتاری صرف اور صرف آزاد میڈیا کا گلا گھونٹنے کی ایک کوشش ہے اور جنگ کے ایڈیٹر انچیف انشاءاللہ اس جھوٹے کیس میں سرخرو ہو کر باہر آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button