پاکستان اقلیتوں کے لیے اندھوں کی بستی کیسے بنا؟

بابائے پاکستان محمد علی جناح نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں مذہب لوگوں کا پرائیویٹ معاملہ تھا اور جہاں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے مندر، مسجد اور گرجا گھر آزادی سے جاتے اور اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتے۔
تاہم نئے پاکستان میں حالات یہ ہیں کہ مذہبی آزادی کے ساتھ عبادت کرنا تو دور کی بات ہے یہاں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ایک مندر بنانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پاکستان بننے کے 74 برس بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر شروع ہوئی تو مخالف مذہبی شدت پسند عدالت چلے گئے جس نے اس کی تعمیر روکنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کے معاملہ پر جو باہم متضاد احساسات اوررجحانات سامنے آئے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں اسلام، پاکستان، آئین، قانون، ریاست، حکومت اور معاشرے کے بنیادی تصورات پر اتفاق رائے نہیں ہے بلکہ معاشرتی انتشار کی سی کیفیت ہے۔ ایک نکتہ نظر اسے شرک اور کفر کی بیخ کنی اور بت شکنی کا حکم الہٰی قرار دیتے ہوئے اپنی جانوں پر کھیلنے کو تیار ہے تو دوسرا نکتہ نظر رواداری، برداشت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو اسلام کی حقیقی روح سمجھتا ہے اور مندر کی تعمیر کے حق میں ہے۔ ایک درمیانی نکتہ نظر پرانے مندروں کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کے تو حق میں ہے لیکن نئے مندر کی تعمیر کو اسلام کی روح کے منافی سمجھتا ہے۔ چوتھے نکتہ نظر کو صرف ریاستی وسائل سے مندر کی تعمیر پر اعتراض ہے۔ کچھ لوگ اسے بانی پاکستان جناح کے فرمودات اور کچھ اسے آئین پاکستان میں دیے گئے شہریوں کے مساوی بنیادی حقوق کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ہندو اقلیت پاکستانیوں کو محمد علی جناح کا وہ فرمان یاد دلوا رہی یے جسمیں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں تمام مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو اپنے مندر، مسجد اور گرجا گھروں کو جانے کی کھلی آزادی ہو گی جہاں وہ اپنے اپنے عقائد کے مطابق عبادات میں آزاد ہوں گے۔
مندر کی تعمیر کے حق میں مظاہرے کرنے والے پاکستانی شہریوں کا استدلال بھی یہی ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے نام پر بننے والے ملک میں کسی اقلیتی عبادت گاہ کی تعمیر پر قدغن اس ملک کی اساس اور اس کے جواز سے انکار کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی عقائد اور آئینی حقوق کو گڈ مڈ کرنے سے معاملات سلجھتے نہیں بلکہ مزید الجھ جاتے ہیں۔
جس طرح عقیدہ اور عبادت لازم و ملزوم نہیں، اسی طرح عبادت اور عبادت گاہ بھی لازم و ملزوم نہیں۔ اکثریتی آبادی کی کم ظرفی ہو، ظالم حکمرانوں کا جبر ہو، دہشتیوں اور تکفیریوں کا خوف ہو، مارشل لاؤں کا سناٹا ہو، کسی مقامی یا عالمی وبا کے حفاظتی ضابطے ہوں، یا کسی بیماری یا ضعف کی لاچاری، عبادت گاہ تک رسائی نہ ہونے سے رب تک رسائی کے راستے مسدود نہیں ہوتے۔ عقیدہ کمزور نہیں ہوتا، بلکہ بیشتر صورتوں میں مضبوط ہوتا ہے۔
عبادت ایک فرد کا اپنے رب سے براہ راست رابطہ ہے، اپنی اعلی ترین کیفیت میں، یہ الوہی انجذاب سے پھوٹتی سرمستی ہے، جس میں کسی تیسرے اور بالاخر کسی دوسرے کی گنجائش نہیں رہتی۔ عبادت گاہ ایک مقام ہے جو فرد کو اجتماعی شناخت اور گہری احساس وابستگی دیتا ہے، جزو کو کل کا اعتبار دیتا ہے، عبادت گاہ کا احاطہ، اس کے مینار، علامتیں، استعارے، تزئین و آرائش، اس کا شکوہ اور اس سے جڑی روحانی بالیدگی کی کیفیت اپنے اصل میں احساس تحفظ ہوتا ہے۔
چنانچہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیے جس طرح کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اس میں پاکستان کو اقلیتوں کا جہنم کہنے والوں کو جھٹلانا آسان نہیں۔ سچ تو یہنہے کہ ظلم کے درجے نہیں ہوتے، یہ کم زیادہ، اچھا برا، جائز ناجائز، اپنا پرایا نہیں ہوتا، یہ ہر جگہ ایک سا ہوتا ہے۔ مذہبی شناخت جب احساس گناہ، احساس کمتری اور احساس شکست کا پردہ بن جاتی ہے تو نمائشی پارسائی اور کھوکھلا تکبر جنم لیتا ہے۔ محبت، عجز، نفاست، رواداری، بردباری، حلیمی، نجابت، اعلی ظرفی اور احترام آدمیت کی جگہ انفرادی و اجتماعی فسطائیت کا چلن رواج پکڑتا ہے۔ دوسرے کی آنکھ کا تنکہ دکھائی دیتا ہے، اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں۔ یہی کہانی ہے دوست، ہماری بھی اور ہمارے دشمنوں کی بھی، ہم سب ایک دوسرے کا آئینہ ہیں اور آنکھوں والے اندھوں کی اس بستی میں ہم سب اندھے ہیں۔
