نواز شریف کو کارگل جنگ کا مشرف نے بتایا یا واجپائی نے؟

مئی 1999 کا پاکستان ایک ایسے غیر معمولی سیاسی اور عسکری بحران کی طرف بڑھ رہا تھا جس نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی۔ کارگل کے پہاڑی محاذ پر ہونے والی پیش رفت ابتدا میں پس پردہ رہی، لیکن جلد ہی یہ صورتحال ایک ایسے بحران میں بدل گئی جس نے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مئی 1999 کے آغاز میں جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کراچی میں موجود تھے، انہیں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا ایک غیر متوقع فون موصول ہوا۔ اس کال میں واجپائی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے حالیہ لاہور امن معاہدے کے باوجود کارگل کے علاقے میں فوجی کارروائی کی ہے۔ یہ الزام نواز شریف کے لیے حیران کن تھا کیونکہ ان کے مطابق حکومت کو اس سطح کی کارروائی پر مکمل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

اس پورے تنازع کا پس منظر فروری 1999 کا لاہور معاہدہ تھا، جب دونوں ممالک کے رہنماؤں نے امن اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ مگر چند ہی ماہ بعد لائن آف کنٹرول کے بلند اور دشوار گزار علاقوں میں صورتحال بدلنے لگی۔ کارگل اور دراس کے علاقوں میں ایسی فوجی پیش رفت ہوئی جس نے خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔عسجری حکام کے مطابق یہ کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد لائن آف کنٹرول کے کمزور حصوں کو محفوظ بنانا تھا۔ انڈیا کی جانب سے ممکنہ پیش قدمی کے خدشے کے پیش نظر یہ اقدام کیا گیا تھا۔ تاہم بھارتی مؤقف اس کے برعکس تھا، جس کے مطابق یہ ایک منظم دراندازی تھی جس کا مقصد سٹریٹجک برتری حاصل کرنا تھا۔

اس تنازع کا سب سے متنازع پہلو یہ رہا کہ آیا اس آپریشن کے بارے میں سیاسی حکومت کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا تھا یا نہیں۔ نواز شریف کا مؤقف یہ رہا کہ انہیں اس آپریشن کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں اور انہیں زمینی حقائق کا علم بعد میں ہوا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کی منظوری کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے لیے لازمی تھی، لیکن یہ اصول اس معاملے میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ تاہم فوجی اور انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق مختلف مواقع پر حکومت کو بریفنگ دی گئی تھی۔ جنوری اور فروری 1999 میں سکردو اور نیلم ویلی کے علاقوں میں بریفنگز کا ذکر ملتا ہے جن میں دفاعی صورتحال پر بات کی گئی تھی۔ تاہم بعض سول حکام کے مطابق ان بریفنگز میں کارگل آپریشن کا واضح ذکر نہیں تھا بلکہ انہیں عمومی سکیورٹی صورتحال تک محدود رکھا گیا تھا۔تاہم جیسے جیسے اپریل اور مئی 1999 میں صورتحال آگے بڑھی، لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ دو مئی کو پہلی بڑی جھڑپ رپورٹ ہوئی جب انڈین فوجی شیوک سیکٹر میں پاکستانی پوزیشنز سے ٹکرا گئے۔ اس کے بعد سات مئی اور پھر دس مئی کو مختلف سیکٹرز میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا۔ اس دوران انڈین فوجی قیادت میں تشویش بڑھنے لگی اور صورتحال کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اس دوران پاکستان کے اندر بھی مختلف سطحوں پر بریفنگز کا سلسلہ جاری رہا۔ کچھ ذرائع کے مطابق ایک اہم بریفنگ میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کو نقشوں کے ذریعے صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس بریفنگ میں مختلف پوزیشنز دکھائی گئیں لیکن بعض حکام کے مطابق نقشوں پر واضح وضاحت موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے مکمل تصویر سمجھنا مشکل تھا۔ وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا کہ یہ اقدام لاہور امن معاہدے کی روح کے منافی ہو سکتا ہے اور امریکہ جیسے عالمی فریق اس کی حمایت نہیں کریں گے۔

اسی دوران کچھ عسکری حکام نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ اگر اس آپریشن کو صحیح طریقے سے استعمال کیا گیا تو کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو سفارتی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ بعض موقعوں پر یہاں تک کہا گیا کہ مستقبل میں یہ صورتحال مذاکرات میں برتری فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم سول حکام میں اس پر شدید تشویش موجود رہی کہ یہ اقدام ایک بڑے جنگی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے دوران انڈین فضائیہ بھی متحرک ہوئی اور پاکستانی پوزیشنز پر بمباری کی گئی۔ جواب میں پاکستان کی طرف سے بھی دفاعی کارروائیاں ہوئیں اور بعض انڈین ہیلی کاپٹرز اور طیاروں کو نقصان پہنچا۔ یہ صورتحال تیزی سے ایک محدود جنگ میں بدل گئی۔

بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش بڑھنے لگی۔ امریکہ سمیت دیگر طاقتیں صورتحال کو خطرناک قرار دینے لگیں۔ اس دوران پاکستان کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے نئی دہلی کا دورہ کیا مگر کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہو سکی۔ آخرکار معاملہ سفارتی سطح پر پہنچا اور پاکستان نے امریکی صدر بل کلنٹن سے رابطہ کیا۔نواز شریف اور بل کلنٹن کی واشنگٹن میں ملاقات کئی گھنٹوں پر محیط تھی جس کے بعد پاکستان نے لائن آف کنٹرول سے انخلا پر آمادگی ظاہر کی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں جولائی 1999 کے آخر تک حالات معمول پر آنا شروع ہوئے اور جنگ ختم ہو گئی۔

تاہم اس کے بعد پاکستان کے اندر سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا۔ فوج اور سول حکومت کے درمیان اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ مختلف بیانات اور بیانیے ایک دوسرے سے متضاد تھے۔ کچھ کے مطابق یہ آپریشن سیاسی حکومت کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا جبکہ کچھ کے مطابق یہ مکمل دفاعی حکمت عملی تھی۔اسی تناؤ نے چند ماہ بعد اکتوبر 1999 میں اس وقت کی حکومت کے خاتمے کی بنیاد رکھی جب فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس کے بعد کارگل تنازع صرف ایک جنگی واقعہ نہیں رہا بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ بن گیا۔ تاہم یہ سوال آج بھی برقرار ہے کہ کارگل کی اصل حقیقت کیا تھی، فیصلے کہاں ہوئے، اور کس سطح تک معلومات پہنچائی گئیں۔ کیا ریاستی ادارے اس حوالے سے ایک پیج پر تھے؟ ناقدین کے مطابق یہی ابہام کارگل کو محض ایک جنگ کی بجائے آج تک ایک پیچیدہ سیاسی و عسکری معمہ بنائے ہوئے ہے۔

Back to top button