میڈیا مخالف قانون کے پیچھے حکومت ہے یا اسٹیبلشمنٹ ؟

حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی میڈیا پر مزید پابندیاں لگانے کی غرض سے تجویز کردہ میڈیا اتھارٹی کا کالا قانون پاس کروانے میں حکومت سے زیادہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو جلدی ہے۔
یاد رہے کہ صحافیوں، میڈیا تنظیموں، مالکان اور انسانی حقوق کے گروہوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ایسا آمرانہ اختیارات رکھنے والا ادارہ قائم کرنے پر بضد ہے جو اخبارات و جرائد سے لے کر، ٹی وی نشریات، سوشل میڈیا اور فلم و ڈرامہ تک ہر قسم کے میڈیم کو کنٹرول کرے گا۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا ہے کہ اس اتھارٹی کے قیام سے میڈیا کو کنٹرول کرنے والے تمام ادارے اور قوانین ختم ہوجائیں گے اور تمام میڈیا کی نگرانی کا کام ایک ہی ادارہ کرے گا۔ اب حکومت ایک آرڈی ننس کے ذریعے اس نئی میڈیا اتھارٹی کو متعارف کروانا چاہتی ہے۔ اس طرح ملک میں میڈیا کی نگرانی، اجازت ناموں کے اجرا اور اشتہارات کی فراہمی کے معاملات ایک ہی اتھارٹی کی نگرانی میں انجام پائیں گے۔ نئی میڈیا اتھارٹی کے تحت ٹریبونلز بھی قائم کئے جائیں گے جو میڈیا میں کام کرنے والے کارکنوں کے تنازعات یا میڈیا کے خلاف سامنے آنے والی شکایات کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ ان ٹریبونلز کے خلاف اپیل یا تو اسی اتھارٹی کی نگرانی میں قائم کئے جانے والے فورمز پر ہوسکے گی یا پھر صرف سپریم کورٹ کو کسی معاملہ میں اپیل سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔ یعنی حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت میڈیا کے تمام شعبوں کو ملک کے عام عدالتی نظام کی پہنچ سے دور کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح اس میڈیا اتھارٹی یا نئی قانون سازی کو آرمی ایکٹ سے مشابہ سمجھا جا سکتا ہے جس کےتحت فوجیوں کے خلاف ملکی عدالتی نظام سے بالاتر ہو کر فیصلے کئے جا سکتے ہیں۔ میڈیا کو نکیل ڈالنے کے اس عمل کو بدترین آمرانہ ہتھکنڈا کہا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی تمام بڑی صحافتی تنظیموں نے کپتان حکومت کی جانب سے میڈیا کی رہی سہی آزادی سلب کرنے کی اس کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف مزاحمتی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے اس کالے قانون کے خلاف ایک اشتہاری مہم شروع کر دی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں ملک بھر کے صحافی پی ایف یو جے کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر اس نئی قانون سازی اور اتھارٹی قائم کرنے کی منصوبہ بندی میں زیادہ فوکس ڈیجیٹل میڈیا کی ضرورت اور مستقبل پر کیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات ’ڈیجیٹل میڈیا ‘ کو مستقبل کا میڈیم قرار دیتے ہوئے خاص طور سے اس کا ذکر کرتے ہیں جس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ ان کی حکومت بڑی کامیابی کے ساتھ پاکستان کے طاقتور مین سٹریم میڈیا کو کھسی کر چکی ہے۔ لہازا اب کپتان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا اگلا ٹارگٹ ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت کو کم کرنا ہے تا کہ یو ٹیوبرز اور وی لاگرز کو بھی سرکاری کنٹرول میں لایا جا سکے۔ ایک ایسی اتھارٹی خبروں کی فراہمی سے لے کر رائے دینے کے ذرائع، ریڈیو و ٹی وی ٹاک شوز اور فلم و ڈرامہ کے علاوہ یوٹیوب اور فیس بک تک کو کنٹرول کرے گی جس کا نگران وزیر اطلاعات ہوگا۔ یہ اتھارٹی نہ صرف لائسنس جاری کرنے، ڈکلئیریشن دینے، فلموں کو سنسر سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور مواد کنٹرول کرنے کے اختیار کی حامل ہوگی بلکہ اسے آجروں اور کارکنوں کے تنازعات حل کروانے اور میڈیا ورکرز کی اجرتوں کے تقرر کا حق بھی حاصل ہو گا۔
یوں تو میڈیا سے متعلق سب معاملات ایک ہی چھت کے نیچے لا کر ’میڈیا کو سہولت‘ فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن درحقیقت اس طرح کا قانون میڈیا کا شکار ہاوس ثابت یو گا۔
جیو ٹی وی سے آف ایئر کر دیے جانے والے سینئر صحافی حامد میر اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کو میڈیا کا بازو مروڑنے کے ایک سے زیادہ ذرائع حاصل ہوجائیں گے جنہیں مالکان اور صحافیوں پر دباؤ ڈالنے اور من پسند مواد کی تشہیر پر مجبور کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ان کاکہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت پہلے دن سے میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کے لئے کوششیں کرتی رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ حکومت میڈیا کی آزادی اور خود مختاری پر کامل یقین رکھتی ہے۔ لیکن نئی مجوزہ میڈیا اتھارٹی کے قیام کا منصوبہ ان دعوؤں کے برعکس ہے۔ اس کے باوجود فواد چوہدری اس آمرانہ قانون کو جدید میڈیا کو سہولت بہم پہنچانے اور ملک میں مواصلاتی نظام کو مؤثر اور ہمہ گیر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا اتھارٹی آرڈی ننس کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان میں میڈیا کو مختلف سطحوں پر کنٹرول کرنے کا ذکر تو زور شور سے موجود ہے لیکن یہ یقین دہانی کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ نئی اتھارٹی کے پاس آزادی رائے کو یقینی بنانے، صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کی روک تھام اور انہیں ہراساں کرنے والے اداروں اور اہلکاروں کے خلاف کیا اقدام کئے جائیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کی سب سے بڑی پریشانی یہی رہی ہے کہ انہیں آزادی سے کام کے مواقع نہیں دیےجارہے۔ جب بھی کسی صحافی کو غیر قانونی کارورائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو حکومت کے دعوؤں اور بیان بازی کے باوجود نہ تو مجرموں کا سراغ لگایا جاتا ہے اور نہ ہی حکومت اس بارے میں کسی پریشانی کا اظہار کرتی ہے بلکہ اسے معمول کا حصہ بنا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ متاثرہ صحافی کسی ایک حادثہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ حکومت کی نیک نیتی کو مشکوک کیا جا سکے۔
پاکستان میڈیا اتھارٹی قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا کے حوالے سے ایک بااختیار اور ہمہ گیر اتھارٹی بناتے ہوئے یہ اہتمام کیا جا سکتا تھا کہ صحافیوں اور میڈیا مالکان کو یقین دلایا جاتا کہ نیا میڈیا ادارہ آزادی رائے اور میڈیا کی خود مختاری کا محافظ ہو گا۔ لیکن میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے میڈیا کی آزادی و خود مختاری سے زیادہ اسے کنٹرول کرنے، سرکش عناصر، افراد یا اداروں کو سزا دینے اور بھاری بھر کم جرمانے کرنے کے علاوہ معمول کے مطابق اپیل کے حق سے محروم کرنے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ عام روایت کے برعکس حکومت نے نئی میڈیا قانون سازی کے حوالے سے میڈیا مالکان، ایڈیٹروں یا صحافی تنظیموں سے رابطہ کرنے اور رائے لینے کی زحمت نہیں کی لہازا اس شعبہ سے متعلق اداروں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی تفصیلات کو بھی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اس سے حکومت کے پوشیدہ عزائم کے بارے میں شبہات پیدا ہونا یقینی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ نئی میڈیا اتھارٹی کے نام کے ساتھ ’ڈویلپمنٹ‘ کا لفظ لگا کر حکومت خود واضح کررہی ہے کہ اسے میڈیا کی خود مختاری سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ وہ ملکی میڈیا کے ہر شعبہ میں ایسا مزاج اور سوچ راسخ کرنا چاہتی ہے جو ایک خاص سیاسی و سماجی رویہ کو مستحکم کرنے کا سبب ہو۔ یہ وہی طریقہ ہے جو تاریخی طور فاشسٹ حکومتیں رائے سازی کے طریقہ کو کنٹرول کرنے کےلئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ لہازا دیکھنا ہوگا کہ موجودہ حکومت اپنی اس زور زبردستی میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور آئین میں دیے گے آزادی رائے کے بنیادی حق کو کیسے سلب کرتی ہے۔
