کیا افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ واقعی زندہ ہیں؟

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی موت بارے میڈیا رپورٹس کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور جلد سامنے آ جائیں گے۔ یاد رہے کہ کابل پر افغان طالبان کے مکمل قبضے کے 10 روز بعد بھی ملا ہیبت اللہ اخونزادہ منظرِ عام سے غائب ہیں جس وجہ سے ایسی افواہیں زور پکڑ رہی ہیں کہ شاید وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ پچھلے چھ ماہ کے دوران ملا ہیبت اللہ کی موت کے حوالے سے دو مرتبہ افواہ اڑی۔ پہلی مرتبہ یہ خبر چلی کہ وہ ایک بم دھماکے میں مارے گے ہیں جبکہ دوسری مرتبہ یہ اطلاع آئی کے وہ کرونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ تاہم کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ان افواہوں میں مزید شدت آ گئی جس کی بنیادی وجہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا منظر عام سے مسلسل غائب رہنا تھا۔
لیکن اب کابل پر قبضے کے بعد پہلی مرتبہ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ شیخ الحدیث ہیبت اللہ زندہ ہیں، اور افغانستان کے اگلے سیٹ اپ میں ہیبت اللہ بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہیبت اللہ ہمارے امیر المومنین ہیں اور انکی تجویز کے تحت ہی حکومت قائم کی جائے گی، اس وقت وہ بہت مصروف ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان نے ملک چلانے کے لئے اگلے سیٹ اپ کا اعلان ملا ہیبت اللہ کے کابل پہنچنے سے پہلے ہی کر دیا ہے۔ طالبان نے ملک کے نئے وزرائے خارجہ، داخلہ اور انٹیلی جنس چیف کا تقرر کردیا ہے۔ گل آغا وزیر خزانہ، سردار ابراہیم وزیر داخلہ جبکہ نجیب اللہ انٹیلی جنس چیف ہوں گے۔ علاوہ ازیں طالبان نے ملا شیریں کو کابل کا گورنر اور حمد اللہ نعمانی کو مرکزی دارالحکومت کا میئر مقرر کیا ہے۔ معاشی معاملات بہتر بنانے کے لیے حاجی محمد ادریس کو افغانستان کے مرکزی بینک کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں 15 اگست کو کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد 19 اگست کو افغان طالبان نے ملک میں ‘افغانستان اسلامی امارات’ کے تحت حکومت قائم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس سے پہلے افغانستان کے صدر اشرف غنی طالبان کے قبضے کے فوری بعد صدارتی محل چھوڑ کر نکل گئے تھے لیکن بعد ازاں انکشاف ہوا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ملکی خزانے سے 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بھی لے گئے۔ عدازاں ایک ویڈیو بیان میں اشرف غنی نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔
اس وقت ملک میں بے یقینی اور خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے، خصوصاً اقلیتیں اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے افغانستان بھر میں ‘عام معافی’ کا اعلان کر دیا ہے اور خواتین کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کی حکومت میں شامل ہوں۔ افغانستان میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ افغانستان میں تمام غیر ملکیوں کی سیکیورٹی کی ضمانت دی جاتی ہے اور شریعت کے مطابق خواتین کو تمام حقوق دیے جائیں گے۔
طالبان ترجمان نے کہا تھا کہ امریکا سمیت عالمی برادری کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، ہم اپنے ہمسائیوں، خطے کے ممالک کو بتانا چاہتے ہیں کہ کسی کو ہماری سرزمین دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
لیکن طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا ابھی تک کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی وہ منظرِ عام پر آئے ہیں۔ جب کہ طالبان ان کے حوالے سے کہتے رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور افغانستان میں موجود ہیں۔ ملا بیت اللہ کی موت کی افواہوں پر کان دھرنے والے کہتے ہیں کہ اس سے پہلے افغان طالبان نے ملا محمد عمر کی موت کو بھی کئی برس چھپا کر رکھا تھا اس لیے ضروری ہے کہ اگر ملا ہیبت اللہ حیات ہیں تو سامنے آجائیں۔
افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی مشتاق یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیے حکومت سازی کے حوالے سے بہت زیادہ چیلنجز ہیں اور اگر ملا ہیبت اللہ حیات ہیں تو وہ اہم ترین فیصلے کرنے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ طالبان افغانستان کے گزشتہ نظام کو نہیں مانتے تھے۔ وہ اسے بیرونی دنیا کا مسلط کردہ نظام قرار دیتے ہیں۔ وہ بلدیہ، فوج، پولیس، عدالتیں، ذرائع ابلاغ وغیرہ کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل بنا کر اس کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ طالبان شوریٰ کے نظام پر کار بند ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سپریم لیڈر کی حیثیت سے ملا ہیبت اللہ اخوند ہی اعلیٰ رہنما ہوں گے۔ جب کہ شوریٰ کے دیگر رکن انھیں جواب دہ ہوں گے۔ تاہم ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ملا ہیبت اللہ کی حیثیت سپریم لیڈر کی ہو تاہم شوریٰ کا سربراہ ملک کے تمام معاملات چلاتا ہو۔ مشتاق یوسف زئی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت طالبان میں سب سے نمایاں پوزیشن سراج الدین حقانی کو حاصل ہے۔ کیوں کہ کابل سمیت تمام اہم مقامات ان کے قبضے میں ہیں۔ یاد رہے کہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی گزشتہ کئی روز سے افغانستان میں مختلف سیاسی دھڑوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ مشتاق یوسف زئی کے مطابق انس حقانی مستقبل کی طالبان حکومت میں نمایاں عہدہ رکھ سکتے ہیں۔
افغان امور کے ماہر کا مزید کہنا تھا کہ افغان طالبان کی یہ خواہش ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنر مند اور دیگر قابل افراد کو افغانستان میں رہنے پر قائل کر سکیں۔ کیوں کہ جنگی فتوحات اور حکومت سازی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اسی لیے افغان طالبان نے 31 اگست کے بعد اپنھ شہریوں پر افغانستان جوڑ کر جانے پر پابندی عائد کر دی یے۔
