میں بالکل خیریت سے ہوں، تمام افواہیں بے بنیاد ہیں

سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں اور ان کی ذات کے حوالے سے پھیلائی جانے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔
گوگلی نیوز کے ساتھ فون پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے بتایا کہ چند ماہ پہلے ہسپتال سے گھر منتقل ہونے کے بعد سے وہ اپنے بچوں کی خواہش پر ایک طرح سے قرنطینہ میں ہیں اور احتیاطآ زیادہ تر وقت اپنے بیڈ روم میں ہی گزارتے ہیں۔ آصف زرداری نے بتایا کہ ان کی بیٹیاں بختاور اور آصفہ چونکہ ان کے حوالے سے بہت زیادہ فکر مند رہتی ہیں لہذا ان دونوں نے انہیں کسی بھی قسم کے وائرس سے دور رکھنے کے لئے علیحدہ اور محفوظ ماحول میں رکھا ہوا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی خبریں شرانگیزی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بستر سے لگ جانے کی بات دشمنوں کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن اس میں کوئی صداقت نہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ وہ زیادہ تر وقت اکیلے گزارتے ہیں لیکن انہیں کوئی پریشانی اس لیے نہیں کہ جیل میں 12 برس قید تنہائی میں گزارنے کے بعد اب انہیں اکیلا رہنے کی عادت ہوچکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ تنہائی میں زیادہ تر ٹی وی دیکھتے ہیں اور آڈیو بکس یعنی کتابیں سنتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوستوں اور خیر خواہوں سے فون پر گپ شپ بھی لگتی رہتی ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ الحمدللہ جیل سے ہسپتال منتقل ہونے کے بعد سے ان کی صحت بہتر ہوئی تھی اور اب ہسپتال سے گھر منتقل ہونے کے بعد اس میں مزید بہتری آئی ہے اور انشاءاللہ بہتری کا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔
ملکی سیاست کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پچھلے دو برس میں پاکستان کے جو حالات کر دئیے ہیں ان میں کوئی بھی ذی شعور سیاسی جماعت حکومت کو گرا کر اقتدار میں آنے کی خواہش نہیں کرے گی۔ آصف زرداری نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے اب تک جو بویا ہے وہی اس کو کاٹنے کا فریضہ بھی سرانجام دے اور ویسے بھی جن لوگوں کو پاکستان کی باگ دوڑ ایک کرکٹر کے ہاتھ میں تھمانے کا شوق تھا انہیں بھی اپنا شوق اچھی طرح پورا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
