فائرنگ میں ملوث فوجی افسر کا کورٹ مارشل شروع ہوا یا نہیں؟

 

 

 

وفاقی دارالحکومت میں واقع سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں بدمعاشی کرنے، ایک طالبعلم کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ہوائی فائرنگ کرنے والے باوردی لیفٹیننٹ کرنل رینک کے اسفند یار ولی نامی فوجی افسر کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے کوئی واضح اور معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

 

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق متعلقہ افسر فوجی تحویل میں ہے اور واقعے کی تحقیقات اور کارروائی کا عمل جاری ہے، تاہم اس حوالے سے فوجی ترجمان کی جانب سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے یہ افسوس ناک واقعہ 24 اگست 2026 کو سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں تب پیش آیا جب طلبہ فیس ادائیگی کے لیے آخری تاریخ بڑھانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل حمزہ ہمایوں نے بتایا کہ طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ہوائی فائرنگ کرنے والے باوردی آرمی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر فوج کے اعلیٰ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ افسر کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت سمری کورٹ مارشل کی کارروائی کی جائے گی۔

 

تاہم واقعے کو دو روز گزر جانے کے باوجود یہ تصدیق نہیں ہو پائی کہ آیا فوجی حکام نے باقاعدہ طور پر یونیورسٹی میں بدمعاشی کرنے اور ہوائی فائرنگ کرنے والے افسر کا سمری کورٹ مارشل شروع کر دیا ہے یا معاملہ ابھی تحقیقات اور انکوائری کے مرحلے میں ہے۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطانق متعلقہ افسر کو فوجی ضابطۂ اخلاق کے تحت تحویل میں رکھا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات کے ساتھ تادیبی کارروائی بھی شروع کی گئی ہے، لیکن حتمی عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

 

اسلام آباد پولیس کے مطابق حفاظتی تحویل میں لیے جانے والے افسر لیفٹیننٹ کرنل رینک کے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت پولیس کے اہلکار پہلے ہی یونیورسٹی کے باہر اور احتجاجی مقام پر موجود تھے تاکہ مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو منتشر کیا جا سکے۔ پولیس حکام کے لیے بھی یہ بات باعثِ حیرت تھی کہ ان کی موجودگی میں ایک باوردی شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔

 

سرحد یونیورسٹی کے ترجمان محمد نعمان نے بتایا کہ طلبہ فیسوں کی ادائیگی کی مقررہ تاریخ میں توسیع کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے مطابق اسی دوران لیفٹیننٹ کرنل رینک کا ایک افسر وہاں پہنچا، جس کے ہاتھ میں چھڑی تھی، اور اس نے بعض طلبہ کو مارنا شروع کر دیا۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب طلبہ اور افسر کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ ترجمان کے مطابق ہاتھا پائی کے بعد فوجی افسر نے ہوائی فائرنگ کی اور وہاں سے چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افسر یونیورسٹی کی ایک ٹیچر کے شوہر ہیں اور واقعے کے وقت وہ بھی کیمپس میں ان کے ساتھ موجود تھیں۔

 

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بھی ایک وردی پوش شخص کو طلبہ کے ہجوم کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد طلبہ یونیورسٹی سے نکل کر جی ٹی روڈ پر آگئے اور ٹریفک بلاک کر دی۔پولیس کے اعلیٰ افسران نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے۔ پولیس نے طلبہ کو یقین دہانی کروائی کہ واقعے میں ملوث فوجی افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق فوج کی وردی میں فائرنگ کرنے والے شخص کو اپنے ادارے کی جانب سے آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

دوسری جانب بعض تازہ رپورٹس میں فوجی افسر کی شناخت لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کے نام سے کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر تفصیلی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بعض سوشل میڈیا اور مقامی رپورٹس میں واقعے کے پس منظر کے بارے میں مختلف دعوے کیے گئے ہیں، جن میں یونیورسٹی کی انتظامیہ کے اندرونی اختلافات اور افسر کی اہلیہ سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، لیکن ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے ان تفصیلات کو حتمی واقعہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

واقعے کی ایک اہم جہت یہ بھی ہے کہ فائرنگ کے وقت کئی پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں پولیس کی موجودگی دکھائی دیتی ہے، جس کے باعث یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک مسلح فوجی افسر کو یونیورسٹی کے احتجاجی ماحول میں مداخلت کی اجازت یا ضرورت کیوں پیش آئی اور معاملہ پولیس کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر طاقت کے استعمال اور فائرنگ تک کیسے پہنچا۔

 

تاہم واقعے کے مکمل حالات اور فائرنگ سے پہلے پیش آنے والے واقعات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ ادھر فوجی ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اعلیٰ عسکری قیادت نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ فوجی حکام کی جانب سے افسر کو تحویل میں لیے جانے اور تحقیقات شروع کیے جانے کی اطلاعات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معاملہ معمول کی انتظامی کارروائی کے طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انکوائری کے بعد افسر کے خلاف باقاعدہ کورٹ مارشل ہوگا، سمری کورٹ مارشل ہوگا یا فوجی قوانین کے تحت کوئی دوسری تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس معاملے میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر فوجی افسر کے خلاف باقاعدہ کورٹ مارشل شروع کیا جاتا ہے تو اس کی قانونی نوعیت کیا ہوگی اور آیا اس میں یونیورسٹی کے طلبہ، انتظامیہ اور پولیس کے بیانات بھی شامل کیے جائیں گے۔ فی الحال دستیاب اطلاعات میں صرف افسر کی تحویل، ابتدائی تحقیقات اور ممکنہ فوجی کارروائی کا ذکر ہے، جبکہ کسی باقاعدہ کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہونے کی تصدیق موجود نہیں۔

کیا افغان طالبان کے پاس بدخشان میں پاکستان کی مداخلت کا کوئی ثبوت ہے؟

سرحد یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست بھی دی گئی ہے۔ یوں معاملہ ایک طرف پولیس اور شہری قانونی کارروائی جبکہ دوسری طرف فوجی تادیبی نظام، دونوں حوالوں سے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے مقدمے کی موجودہ قانونی حیثیت اور فوج کی جانب سے کورٹ مارشل کے آغاز کے بارے میں مزید باضابطہ معلومات سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ بعض حلقوں نے مسلح افسر کی جانب سے یونیورسٹی میں فائرنگ کو سنگین اختیاراتی تجاوز قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض دیگر صارفین نے واقعے سے پہلے مبینہ طور پر افسر کی اہلیہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور ہجوم کے رویے کو بھی تحقیقات کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔ اس لیے حتمی ذمہ داری کا تعین وائرل ویڈیوز یا سوشل میڈیا دعوؤں کے بجائے مکمل اور غیر جانب دار تحقیقات کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے۔

Back to top button