اگلے الیکشن میں بلاول اور مریم وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتے؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی زندگی میں اپنی بیٹی مریم کو وزیراعظم بنوانا چاہتے ہیں، جبکہ صدر آصف زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو وزارت عظمیٰ دلوانے کے خواہش مند ہیں، لیکن اگر موجودہ سیاسی بحران مزید سنگین ہو گیا اور ملک میں جلد انتخابات کروانا پڑے تو نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کی خواہش ادھوری رہ جائے گی اور ان دونوں کا مخالف کوئی تیسرا شخص وزیراعظم بن سکتا ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سلیم صافی نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اپنی ساخت، سیاسی تاریخ اور مزاج کے اعتبار سے ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے بڑی سیاسی قوت بننے سے قبل مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل سیاسی کشمکش میں مبتلا رہیں، یہاں تک کہ دونوں جماعتوں نے ماضی میں ایک دوسرے کے رہنماؤں کو جیلوں میں بھی بھجوایا اور ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔

 

سلیم صافی کے مطابق ایک دور میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بے نظیر بھٹو پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے پاکستان میں پناہ حاصل کرنے والے سکھ رہنماؤں کی لسٹیں بھارتی حکام کے حوالے کیں، جبکہ ایک وقت میں بلاول بھٹو زرداری نے بھی نواز شریف کو ’’مودی کا یار‘‘ قرار دیا۔ تاہم ان تمام تلخیوں اور سیاسی دشمنیوں کے باوجود عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی مقبولیت اور اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ نے دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کر دیا۔

 

تجزیہ کار کے مطابق عمران خان کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کی قیادت کو سیاسی مشکلات اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد دونوں جماعتیں ایک مشترکہ سیاسی صف میں آگئیں۔ عمران خان کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پہلے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھی اقتدار میں بیٹھیں اور بعد ازاں 2024 کے عام انتخابات کے بعد بھی دونوں نے مل کر حکومت سازی کی۔

 

سلیم صافی کے مطابق پیپلز پارٹی نے تب یہ فیصلہ کیا کہ وہ وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ آئینی عہدے حاصل کرے گی۔ چنانچہ صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سمیت اہم عہدے پیپلز پارٹی کے حصے میں آئے۔ اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرمین شپ بھی پیپلز پارٹی نے حاصل کی، جبکہ سندھ کی صوبائی حکومت مکمل طور پر اس کے پاس رہی اور بلوچستان حکومت کی قیادت بھی پیپلز پارٹی کو دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی شراکت داری تقریباً ڈھائی سال تک بظاہر خوش اسلوبی سے چلتی رہی، تاہم اب اس اتحاد میں دراڑیں واضح ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

 

ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کا آغاز گلگت بلتستان کے انتخابات سے ہوا، جہاں تحریک انصاف کے انتخابی میدان سے باہر ہونے کے باعث اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان رہ گیا۔ سلیم صافی کے مطابق انتخابی مہم کے دوران دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف ’’فرینڈلی فائر‘‘ کرتے رہے، تاہم انتخابی نتائج آنے کے بعد پیپلز پارٹی کو سبقت حاصل ہونے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے باوجود بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے اور ان کا لہجہ بھی سخت ہوگیا۔

 

صافی کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ماحول خراب کرنے میں بنیادی کردار آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات نے ادا کیا۔ وہاں تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے باعث مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان براہ راست مقابلہ تھا، اس لیے دونوں جماعتوں نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور سیاسی طاقت استعمال کی۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم تھے اور وہاں کے قانون کے تحت انتخابات کے لیے نگران حکومت قائم نہیں ہوتی، جبکہ پولیس اور بیوروکریسی بھی انہی کی مقرر کردہ تھی۔ اس کے باوجود بلاول بھٹو انتخابی مہم کے دوران مسلسل یہ الزام عائد کرتے رہے کہ مسلم لیگ (ن) دھاندلی کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مرتبہ بلاول کے الزامات کے جواب میں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی جانب سے بھی سخت جوابی بیانات سامنے آئے۔

 

یوں دونوں جماعتوں کے درمیان جاری سرد جنگ گرم جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ’فارم 47 کی پیداوار‘ قرار دینا شروع کر دیا۔ صافی کے مطابق غصے میں یہ رہنما یہ بات بھی بھول گئے کہ اگر وفاقی حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے تو صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین سینیٹ سمیت بعض دیگر عہدیدار بھی اسی انتخابی عمل کے نتیجے میں منتخب ہوئے، کیونکہ انہیں انہی ارکان نے منتخب کیا جنہیں فارم 47 کے ذریعے کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ صافی کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج سامنے آنے اور مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد بلاول بھٹو زرداری کا لہجہ مزید سخت ہوگیا اور انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ اس بیان کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے گئے اور یہ توقع پیدا ہوئی کہ شاید دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع ختم ہوجائے گا، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور اختلافات بدستور برقرار رہے۔

 

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے اعلان کر رکھا ہے کہ جب تک آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق اس کے اعتراضات دور نہیں کیے جاتے، وہ قانون سازی میں حکومت کا ساتھ نہیں دے گی۔ دوسری جانب سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے بلاول بھٹو نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں، جس سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے بارے میں قیاس آرائیاں مزید تیز ہوگئیں۔ تاہم سلیم صافی کے نزدیک سوال یہ نہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے راستے الگ ہو رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ فی الحال دونوں جماعتیں ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ ان کے بقول دونوں جماعتیں اپنی ساخت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی کتنی ہی مخالف کیوں نہ ہوں، موجودہ سیاسی بندوبست میں ایک کے ڈوبنے کا مطلب دوسرے کے لیے بھی مشکلات پیدا ہونا ہے۔

 

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے سے اتحاد کسی مثالی سیاسی نیت کے تحت نہیں کیا بلکہ بنیادی طور پر تحریک انصاف کے سیاسی چیلنج کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے قریب آئیں، یا پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے دونوں کو اکٹھا کیا۔ جب تک موجودہ سیاسی بساط قائم ہے، دونوں جماعتیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گی اور اگر موجودہ سیاسی کشتی میں ایک سوراخ بھی ہوا تو اس کے اثرات دونوں جماعتوں کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ تجزیہ کار کے مطابق فی الوقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نئے انتخابات کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ وہ خود کو تحریک انصاف کے متبادل کے طور پر مکمل طور پر پیش نہیں کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ باہمی اختلافات اور سخت بیانات کے باوجود دونوں جماعتوں کے لیے موجودہ سیاسی بندوبست کو برقرار رکھنا ایک مشترکہ ضرورت بن چکا ہے۔

 

تاہم سلیم صافی نے ایک انتہائی اہم سیاسی نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ آصف زرداری کی خواہش ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنتا دیکھیں، جبکہ نواز شریف بھی اپنی زندگی میں مریم نواز کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر موجودہ بحران اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ ملک میں فوری انتخابات کرانا پڑتے ہیں تو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خواب بھی پورا ہونا مشکل ہوگا۔ ایسی صورت میں ممکن ہے کہ دونوں جماعتوں کے بجائے کوئی تیسرا سیاسی شخص وزیراعظم بن جائے۔

تاہم سلیم صافی کے مطابق اس امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان موجودہ لڑائی محض سیاسی دباؤ، بارگیننگ یا ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو، لیکن یہ اختلافات کسی مرحلے پر ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ تک پہنچ جائیں۔ ان کے مطابق سیاست میں بعض اوقات رہنماؤں کا کسی خاص حد سے آگے جانے کا ارادہ نہیں ہوتا، مگر حالات انہیں ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کردیتے ہیں جن کا انہوں نے ابتدا میں تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی رہنما ایک مخصوص مقام تک اپنی جماعت اور کارکنوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں، لیکن جب معاملہ عوامی جذبات اور رائے عامہ کے دباؤ تک پہنچ جائے تو سیاست دان خود بھی رائے عامہ کے غلام بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں انہیں بعض اوقات وہ اقدامات کرنا پڑتے ہیں جن کا وہ ذاتی طور پر ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

پاکستانی سیاست دان ہمیشہ غلط جرنیل کیوں چنتے ہیں ؟

سلیم صافی نے ایک اور امکان کی طرف بھی اشارہ کیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال سے تنگ آکر کچھ لوگ ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کے لیے ناقابل قبول ہو۔ ان کے مطابق کچھ حلقے معاشی حالات اور حکومتی کارکردگی کے دیگر پہلوؤں سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ ان کی جانب سے بہت کچھ کیے جانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف کو سیاسی طور پر آؤٹ نہیں کرسکیں اور اب دونوں جماعتوں کے درمیان جاری باہمی لڑائی بھی ان کے لیے باعث تشویش بن رہی ہے۔

Back to top button