نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے نئے الیکشن نہیں ہوں گے


ملک میں جلد نئے الیکشن کی افواہوں کے زور پکڑنے کے باوجود حکومتی ذرائع مصر ہیں کہ جنرل قمر باجوہ کی نومبر میں ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کی تقرری اور نواز شریف کی عدالتی نا اہلی کے خاتمے سے پہلے انتخابات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ذرائع کا اصرار ہے کہ عمران کو اقتدار سے فوری طور پر نکالنے کا ایک بڑا مقصد انکی جانب سے ممکنہ طور پر نومبر میں جنرل قمر باجوہ کی جگہ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانے سے روکنا بھی تھا لہذا اب جب پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے پہاڑ جیسا یہ ٹاسک کامیابی سے طے کرلیا ہے تو وہ نئے آرمی چیف کو تعینات کیے بغیر الیکشن کیوں کروائیں گے۔

دوسری جانب یہ خبریں بھی اب اسلام آباد میں عام ہیں کہ جنرل قمر باجوہ کی زیر قیادت اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شہباز حکومت کو 20 مئی تک نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ اسی وجہ سے لندن میں نواز لیگ کے طویل اجلاس ہوئے تھے اور آصف زرداری نے بھی نواز شریف سے فون پر تفصیلی بات چیت کرنے کے بعد کہا تھا کہ نئے الیکشن الیکٹورل ریفارمز اور آئینی ترامیم کروائے بغیر نہیں ہونگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کا دباؤ لیتے ہوئے فوری الیکشن کروانے کا جو الٹی میٹم دیا ہے اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کی اس وقت ان کا امریکی مخالف بیانیہ عوام میں مقبولیت اختیار کر رہا ہے اور اگر فوری الیکشن کروائے جاتے ہیں تو امپورٹڈ حکومت دوبارہ اقتدار میں نہیں آ پائے گی۔ ویسے بھی شہباز شریف حکومت عمران خان کے پیدا کردہ جس معاشی بھنور میں پھنس چکی ہے اس میں سے باعزت طریقے سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، چنانچہ الیکشن کی صورت میں عوام ممکنہ طور پر حکومت کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر موجودہ حکومت فوری انتخابات نہیں کروانا چاہتی۔

لیکن فوجی اسٹبلشمنٹ کا ایک دھڑا آرمی چیف پر دباؤ ڈلوا کر نئے انتخابات نومبر سے پہلے کروانا چاہتا ہے۔ نئے الیکشن کا بنیادی مقصد نہ صرف عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے بلکہ ان کی مرضی کا آرمی چیف لگوانا بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میں فوری نئے الیکشن کروانے کے لیے نہ صرف فوج میں فیض حمید کے حمایتی دھڑے کی جانب سے دبائوہے بلکہ ریٹائرڈ فوجیوں کی جانب سے بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لیے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اب بھی آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہیں اور کھل کر عمران خان کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال ٹھیک کئے بغیر فوری طور پر نئے الیکشن کا کوئی امکان نہیں۔ ویسے بھی نئے الیکشن پر کم از کم پچاس ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے اور پاکستان اس عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسے بھی نواز شریف اور آصف علی زرداری کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے کسی بھی صورت نیا الیکشن نہیں کروایا جائے گا۔ ایک اور اہم مسئلہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا بھی ہے۔ سابق وزیراعظم کی نااہلی کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب عدلیہ کی جانب سے انہیں دی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دی جائیں۔ تاہم ایسا تب ہی ممکن ہے جب نواز شریف وطن واپس آئیں اور اپنے خلاف دائر مقدمات میں پیش ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی نواز شریف کے خلاف کیسوں کا فیصلہ فوری طور پر ہونا ممکن نظر نہیں آتا لہذا ملکی معیشت کو سنبھال لینے کے بعد ہی اس محاذ پر کوئی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ شاید اسی لیے نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ ان کے والد نواز شریف کی وطن واپسی کے بغیر عام انتخابات نہیں ہوسکتے۔ گجرات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان تمہاری گیم ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کے 4 سال ضائع کرنے کے بعد جعلی خط کا ڈرامہ کیا، اس کے بعد بیرونی سازش کا بیانیہ لے آیا اور اب عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کےلیے کہتا ہے کہ میری جان کوخطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جب تک حکومت میں رہے اس وقت نہ کوئی خط تھا، نہ بیرونی سازش تھی اور نہ ان کی جان کو خطرہ تھا، آج جب عوام تمہاری کارکردگی پوچھ رہی ہے تو تمہارا دامن خالی ہے، کتنے جلسے کیے، اتنی تقریریں کیں کہ قوم کے سر میں درد ہوگیا مگر کسی جلسے میں اپنی کارکردگی نہیں بتائی کیونکہ کارکردگی زیرو ہے۔

Back to top button