نئے آرمی چیف کو سونپی جانے والی ’ملاکا سٹک‘ کیا ہے؟

جنرل عاصم منیر نے 29 نومبر 2022 کو قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ پر راولپنڈی میں ہونے والی ایک تقریب میں فور سٹار جنرل کے شولڈر رینکس اور کالر میڈل لگا کر 17ویں چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس تقریب میں سبکدوش ہونے والے قمر جاوید باجوہ نے آرمی کمان کی علامت سمجھی جانے والی ’’ملاکا سٹک‘‘ اعزازی شمشیر یافتہ جنرل عاصم منیر کے حوالے کر دی۔ ملاکا سٹک کو کمانڈ سٹک بھی کہا جاتا ہے، آرمی کمان کی یہ چھڑی انگریزوں کے دور سے فوجی روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔ لیکن اصل اہمیت آرمی کمان کی سٹک کی نہیں بلکہ آرمی چیف کے عہدے اور اس سے منسلک ذمہ داریوں کی ہے جو اس چھڑی کی صورت میں جانے والے آرمی چیف سے آنے والے آرمی چیف کوتفویض ہو جاتی ہیں۔
ملاکا سٹک کو سنگاپور کے ایک جزیرے ملاکا کے ایک خاص رتن نامی بانس سے تیار کیا جاتا ہے۔ ملاکا سٹک رتن نامی بانس کی ایک ایسی قسم ہے جو انڈونیشیا میں سماٹرا کے ساحل پر بھی پائی جاتی ہے۔ رتن کے درخت میں لمبے، پتلے تنے ہوتے ہیں جو واکنگ سٹکس بنانے کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔اگر اس چھڑی کی بناوٹ پر غور کریں تو اس میں دو بائی دو انچ کے فاصلے پر گانٹھ ہوتی ہے جو دیکھنے میں بانس کی لکڑی کی طرح ہی دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں پتلی ہوتی ہے۔ یہ وزن میں بہت ہلکی لیکن مضبوط ہوتی ہے اور اس میں کوئی دو نمونے ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کی افواج کے سربراہان اسے کمان سٹک کے طور پر زیر بازو اور کبھی ہاتھ میں اپنی میعاد کے دوران رکھتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی سٹک نہیں ہوتی، اس کی قیمت 10 ہزار روپے سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔
چھڑی کو فوج میں کمانڈ کی علامت سمجھا جاتا ہے، نئے آرمی چیف کو ملاکا چھڑی دینے کی روایت برطانوی دور سے چلی آ رہی ہے۔ ملاکا کی چھڑی سری لنکا، ہندوستان، برطانیہ سمیت کئی ممالک میں فوجی وردیوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے راولپنڈی میں ایک تقریب میں کمانڈ اسٹک اپنے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے کی تھی۔ جنرل شریف کو 2013 میں تب کے جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاکا چھڑی ملی تھی جب کہ یہ مشرف ہی تھے جنہوں نے 2007 میں چارج چھوڑنے کے بعد جنرل کیانی کو چھڑی سونپی تھی۔
ملاکا سٹک یا چھڑی ٹوٹ جانے کی صورت میں (جو ابھی تک کبھی نہیں ہوا)، فوجی سربراہ کے اختیارات پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔چھڑی علامتی طور پر آرمی چیف کی شخصیت اور طاقت میں اضافہ کرتی ہے لیکن اصل اہمیت آرمی چیف کے کندھوں پر پڑنے والی عسکریت اور سیاسی ذمہ داریوں اور اختیارات کی ہوتی ہے۔
