آپا اور پاپا مل کر چاچا کی سیاست کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ لندن جاکر وہ 20 سال کے جوان بن گئے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ان کے اہل خانہ کی بھی تشویش دور ہوگئی ہے، عدالتیں ان سے رپورٹس مانگ رہی ہیں مگر وہ رپورٹس نہیں پیش کر رہے اس کا مطلب ہے کہ ہوسکتا ہے جاتے وقت جو رپورٹس جمع کرائی گئی تھیں وہ بھی جھوٹی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف جو اب ٹھیک ہیں ان کی طبیعت جاتے وقت بھی اتنی ہی خراب تھی، ایسا ہوسکتا ہے، کیوں کہ جب ان کی رپورٹس عدالتوں نے مانگی تو وہ نہیں دے سکے اور ہو سکتا ہے یہاں جو رپورٹس دی گئی تھیں وہ بھی جعلی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے جب یہ معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اٹھایا تو انہوں نے پنجاب حکومت کو تحقیقات کا حکم دیا ہے اور یہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 467 اور 468 کے تحت فراڈ کا کیس ہے جس میں کم از کم سزا 10 سال کی ہوتی ہے، اب دیکھنا ہے کہ کون کون پکڑا جائے گا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے بارے میں میں تب بھی کہہ رہا تھا کہ اتنے بیمار نہیں کہ ترس کھایا جائے تاہم تحقیقات کے بعد معلوم ہوگا کہ وہ لیبارٹریز جہاں سے یہ رپورٹس بنیں کہیں وہاں کام کرنے والے تکنیکی ماہرین ملے ہوئے تو نہیں۔
گفتگو کے دوران انہوں نے صوبائی اسمبلیوں کے یوٹیوب چینلز کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کو اسمبلیوں میں ہونے والی گفتو کا علم ہوگا کیوں کہ اب زیادہ تر اختیارات صوبوں کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ لے کر چلنا پڑے گا تاکہ ہم نئے زمانے کے مطابق رہیں، ہم آنکھیں بند کرکے ٹیکنالوجی سے انکار نہیں کرسکتے، ہم رویت ہلال کمیٹی کے رکن نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں میں صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ پر بات ہونی چاہیے، وزرا اعلیٰ تو نیشنل فنانس کمیشن پر بات کرتے ہیں مگر اس پر نہیں، اس کا مطلب اختیارات وزرائے اعلیٰ تک ہی رہیں نیچے اضلاع تک نہ پہنچ سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دو مرتبہ وفاقی کابینہ تمام صوبوں کو صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کا کہہ چکی ہے، میں جانتا ہوں کہ وزرائے اعلیٰ تحریک انصاف کا ہو یا کسی اور کا وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے کیوں کہ تمام اختیارات کوئٹہ، لاہور، کراچی، پشاور تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے 10 سال میں 170 کھرب روپے خرچ کیے ہیں مگر اس کے باوجود یہ صوبہ کہاں ہے دوسری جانب مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ نے 140 کھرب روپے خرچ کیے مگر پھر بھی وہاں پولیس، صحت کا نظام کہاں کھڑا ہے یہ سب کے سامنے ہے۔
عثمان بزدار کی نیب میں طلبی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب خود مختار ادارہ ہے حکومت کے ماتحت نہیں، تاہم سمجھتا ہوں کہ اتنے ہائی پروفائل شخصیت کو طلب کرنے سے قبل نیب کو میڈیا اور عوام کے سامنے وضاحت دینی چاہیے کہ معاملہ کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز وغیرہ کا ایک ہی درد ہے کہ ان کے خلاف کیسز بند ہوں اس لیے جب بھی کیسز میں تیزی آتی ہے وہ سیاسی دباؤ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
