پاکستان میں بھی ’ارطغرل‘ جیسے ڈرامے بنائے جاسکتے ہیں

اداکارو پروڈیوسر ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت مالی طور پر سپورٹ کرے تو ہم بھی ’ارطغرل‘ جیسا ڈرامہ بنا سکتے ہیں۔
ہمایوں سعید کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ ایک نجی چینل کے میزبان سے ڈرامہ سیریل ’ارطغرل غازی‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ میزبان نے ہمایوں سعید سے پوچھا کہ ’ارطغرل‘ ڈرامہ جس طرح سے پاکستان میں پسند کیا گیا اس کے بعد کیا اب ہماری انڈسٹری بھی سوچ رہی ہے اسلامی تاریخ پر اسی طرح کے مزید ڈرامے بنانے کے بارے میں۔
اس سوال کے جواب میں ہمایوں سعید نے کہا اگر ہماری انڈسٹری ’ارطغرل‘ جیسے ڈرامے بنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہی تو سوچنا چاہئے اور ہمیں اس طرح کے ڈرامے بنانے چاہئیں۔ ہمایوں سعید نے کہا پہلے ہمارے یہاں اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے بنتے تھے جیسے ’ٹیپو سلطان‘، ’بابر‘ اور ’محمد بن قاسم‘ وغیرہ بنے، تاہم انہیں بنے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا ہے اور یہ تقریباً 30 ، 40 سال پرانی بات ہے۔ لیکن آج کے دور میں پراڈکشن کا معیار جہاں پہنچ گیا ہے اس میں بہت بڑی لاگت کے ڈرامے بنتے ہیں اور پراڈکشن ہاؤسز کو مالی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمایوں نے کہا اگر میں ’ارطغرل‘ جیسا ڈرامہ بنانا چاہوں تو میں کوشش کرسکتا ہوں لیکن اکیلے اس طرح کے ڈرامے نہیں بنا سکتا۔ ڈرامہ سیریل ’ارطغرل‘ کو بھی بنانے میں ترک حکومت نے سپورٹ کی تھی۔ لہٰذا اگر ہماری حکومت بھی ہماری مالی طورپر سپورٹ کرے اور صرف میری ہی نہیں بلکہ کسی اور اچھے پروڈیوسر کی مدد کرے اور کرنی بھی چاہئے تاکہ ہم بھی اس قسم کی پراڈکشن کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button