نواز شریف کی اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے ساتھ واپسی


کئی مہینوں کے وقفے کے بعد کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنا فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف مزاحمتی بیانیہ دہرایا جب کہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے اپنا مفاہمتی بیانیہ برقرار رکھتے ہوئے صرف عمران خان اور انکی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ نواز شریف نے اس مرتبہ جرنیلوں کے نام لینے سے تو پرہیز کیا لیکن انکی تقریر سننے والوں کو صاف سمجھا رہا تھا کہ انکی تنقید کا ہدف کون سے جرنیل ہیں۔ کراچی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے سے برطانیہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ جن لوگوں کا کام سیاست کرنا نہیں ہے، آج وہی پاکستان میں سیاست کرر ہے ہیں، اور وہی حکومتیں گرا اور بنا رہے ہیں لہذا ان حالات میں ہمارا خاموش رہنا ایک جرم ہے۔
نواز شریف نے کراچی میں اپنے جذباتی ویڈیو خطاب میں کہا کہ ’اب تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ کس طرح ایک منتخب وزیراعظم کو سازش کے ذریعے نکالا گیا، اس مقصد کے لیے چند مفاد پرست جرنیلوں نے پورے نظام انصاف کو یرغمال بنا لیا لیکن ہم خاموش رہے۔ انکا کہنا تھا کہ انصاف پسند اور خدا ترس ججوں کے خلاف منصوبے بنتے رہے، لیکن ہم خاموش رہے۔ آر ٹی ایس بند کرایا گیا تو ہم خاموش رہے؟ ریاست کے اوپر ریاست بنائی گئی تو بھی ہم خاموش کیوں رہے؟‘ نواز شریف نے کہا کہ ’میری آواز انہوں نے ٹی وی پر اس لیے بند کی ہوئی ہے کہ میں سچ بولتا ہوں اور میری بات گھر گھر میں پہنچ رہی ہے۔ لہازا یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں یا پھر ظلم سہنے والوں کے ساتھ۔ آج وقت آچکا ہے کہ ہم سب فیصلہ کریں کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کا پاکستان چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔‘
نواز شریف نے حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہے، عمران خان اور جو بائیڈن کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ دنیا کا ایک لیڈر فون کرتا نہیں اور دوسرا سنتا نہیں ہے۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کراچی والو، کیا آپ کو معلوم ہے کہ پچھلے تین سال میں پاکستان اور کراچی پر کیا گزری، ایک اچھے بھلے اور خوش حال پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلنے کے لیے 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی شکل میں ایک سازش رچائی گئی، جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘آج پاکستان میں جو لوگ بربادی دیکھ رہے ہیں، یہ اسی سازش کا نتیجہ ہے اور اگر یہ نہ ہوتی تو آج پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ خوش حالی کی منزلیں طے کر رہا ہوتا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘کیونکہ آپ کے پاس روزگار ہوتا، سماجی اور معاشی انصاف، عزت اور خود مختاری ہوتی، آٹے، دال اور چینی کے لیے قطاروں میں نہ لگنا پڑتا، یہ اس لیے ہوا کہ آپ کے منتخب وزیراعظم کو نکالنے کے لیے پاناما جیسے ڈرامے رچائے گئے اور عدالتوں سے زبردستی من پسند فیصلے لیے گئے بلکہ فیصلے دلوائے گئے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو، اور خاص کر مجھے اور مریم نواز کو 150 سے زیادہ عدالتی پیشیاں بھگتنی پڑیں، شہباز، شاہد خاقان عباسی اور دیگر ساتھیوں پر ناجائزمقدمے بنائے گئے اور روز عدالتوں میں پیشیاں بھگتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نیب پر دباؤ ڈال کر 10 سال کی ناجائز سزا، مریم کو 7 سال کی سزا دلوائی گئی اور جج نے لکھا کوئی کرپشن نہیں ہے، بس سزا دلوانی تھی لکھ دیا ہے اور ہم سب کو قید و بند میں دھکیلا گیا، ہمارے پارٹی قائدین، شہباز شریف، ہمارے بچوں کو بھی قید میں دھکیلا گیا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘جسٹس شوکت صدیقی کو کہا گیا کہ نوازشریف اور مریم نواز کی سزا برقرار رکھو ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی کیا آپ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ الفاظ کس نے کہے اور کون سی دو سال کی محنت ضائع ہونے کا اندیشہ تھا’۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘یہ وہی لوگ ہیں جو ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لے کر آئے ہیں، اور 22 کروڑ عوام کے سر پر اس کو مسلط کردیا ہے، سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوا اور آج بھی ہورہا ہے لیکن ہم خاموش ہیں’۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘پھر ہم رونا روتے ہیں ملک ترقی کیوں نہیں کرتا، ملک کیوں پستی کی طرف جارہا ہے، ملک کیوں اور پیچھے دھنستا جا رہا ہے، آٹا، دال، چینی کیوں مہنگی ہوگئی ہیں اور ادویات کیوں پہنچ سے دور ہوگئی ہیں اور بجلی کے بلوں نے کمر کیوں توڑ کر رکھ دی ہے، کبھی پوچھا ہے آپ نے؟’ انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان عالمی تنہائی کا شکار کیوں ہوگیا ہے، کہاں گئی سبز پاسپورٹ کی وہ عزت، کہاں گئی وہ سبز پرچم کی عزت، دنیا کا ایک لیڈر فون نہیں کرتا اور دوسرا لیڈر فون سنتا نہیں ہے’۔
ان کا کہنا تھاکہ ‘معاشرےمیں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے، غریب بیچارا دھکے کھاتا ہے، پاکستان کے 21 کروڑ عوام غریب ہیں اور چند لاکھ لوگ وسائل پر بھی قابض ہیں اور پاکستان کی زمینوں کے بھی مالک بنے ہوئےہیں’۔ نواز شریف نے کہا کہ ‘سرکاری خزانوں سے بڑی بڑی تنخواہیں، مراعات، زندگی بھر پنشنیں، سرکاری پلاٹ اور پرمت لیتے ہیں لیکن 21 کروڑ عوام کا پوچھنے والا کوئی نہیں، ان کے بچوں کے منہ سے اب تو نوالہ بھی چھینتا جا رہا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘مراعات یافتہ طبقےکو دیکھیں کہ سرکاری خزانوں کے منہ کھول دیے جاتے ہیں، لوگ خود کشیوں پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن یہ چند لاکھ لوگ آپ کے خون پسینے کی کمائی سے ملک نے جو وسائل بنائے ہیں، یہ سب اس پر قابض ہیں، مجھے تو کبھی لگتا ہے کہ شاید پاکستان اسی طبقے کے لیے بنایا گیا تھا کہ یہ لوگ عیش کریں اور 21 کروڑ عوام دھکے کھائیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس ترانے کی طرح لگتا ہے کہ یہ وطن تمھارا ہے اور ہم تو اس میں خوا مخوا ہیں، یعنی اے چند لاکھ لوگو، یہ وطن تمھارا اور یہ 21 کروڑ ہیں اس میں خواہ مخواہ’۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘یہ ہمارے زوال کے اسباب اور جمہوریت پر شب خون مارنے کا نتیجہ ہیں، ووٹ چوری کرکے عمران خان کو 22 کروڑ عوام کے سر پر بٹھانے کا نتیجہ ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کس سے پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان ترقی کیوں نہیں کر رہا، سب کچھ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، پھر بھی ہم پوچھ رہے ہیں، کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے، کیا آر ٹی ایس بند نہیں کیا گیا، کیا پی ڈی ایم کی جماعتوں کا ووٹ چوری کرکے عمران خان کو نہیں ڈالا گیا’۔ نواز شریف نے کہا کہ ‘ان کو میری باتیں اچھی نہیں لگتی کیونکہ میں سچ بولتا ہوں، میں حق بات کرتا ہوں لہٰذا ان کے اندر میرے باتیں سننے کا حوصلہ نہیں ہے، اس لیے ٹی وی پر بند کردی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ایک وہ شخص جو تین مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہو، اس کی آواز بھی بند کردی ہیں لیکن ایسے بند نہیں ہوگی، وہ اپنی خوش فہمی میں ہیں، میری بات اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کے گھر گھر میں پہنچ رہی ہے اور آئندہ دنوں میں اور پہنچے گی، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ حق کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا پھر خاموش رہنے والوں کے ساتھ یا پھر ڈرنے والوں کے ساتھ، یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہوگا’۔

Back to top button